انسانی کہانیاں عالمی تناظر

امریکہ: زیر حراست تارک وطن بچوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش

media:entermedia_image:fc8bb0bc-b090-4564-95df-50a80038549b
Unsplash/ElevenPhotographs
امریکی دارالحکومت واشنگٹن۔

امریکہ: زیر حراست تارک وطن بچوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش

انسانی حقوق

انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کے مقرر کردہ آزاد ماہرین نے امریکی امیگریشن طریقہ کار میں بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے جو ہزاروں کی تعداد میں زیرحراست ہیں اور انہیں کوئی قانونی مدد نہیں مل رہی۔

یہ تشویش ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ملک میں سرپرستوں کے بغیر مقیم بچوں کو قانونی نمائندگی دینے کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے مالی وسائل کی فراہمی ختم ہوئے تقریباً ایک سال گزر چکا ہے۔ یہ کم عمر بچے پیچیدہ امیگریشن کارروائیوں کا اکیلے سامنا کرنے پر مجبور ہیں جو ان کے بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔

Tweet URL

ماہرین نے کہا ہے کہ انسانی سمگلنگ کے متاثرین کو تحفظ فراہم کرنے سے متعلق 2008 کے قانون (ٹی وی پی آر اے) کے تحت سرپرستوں کے بغیر امریکہ میں موجود ایسے بچوں کی دیکھ بھال اور تحویل کی ذمہ داری مہاجرین کی آبادی کاری سے متعلق امریکہ کے دفتر پر عائد ہوتی ہے۔ 

یہ قانون محکمہ داخلی سلامتی (ڈی ایچ ایس) کو پابند کرتا ہے کہ وہ بچوں کو بدسلوکی، استحصال اور انسانی سمگلنگ سے محفوظ رکھے۔ علاوہ ازیں، یہ اس بات کی ضمانت بھی دیتا ہے کہ وفاقی تحویل میں موجود ان بچوں کو وکیل تک رسائی حاصل ہو اور انہیں فوری بے دخلی (عدالتی سماعت کے بغیر ملک بدری) کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

نامناسب حراستی حالات

ماہرین نے نشاندہی کی ہے کہ 18 فروری 2025 کو محکمہ داخلہ نے غیر منفعی قانونی اداروں کو کام روکنے کا حکم دیا اور سرپرستوں کے بغیر ملک میں مقیم بچوں کی نمائندگی کرنے والے وکلا کے لیے مالی وسائل کی فراہمی ختم کر دی۔ اگرچہ اس فیصلے کو عدالتوں میں چیلنج کیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود تقریباً 26 ہزار متاثرہ بچوں میں بہت سے قانونی مدد سے محروم ہو گئے اور جبری بے دخلی کے خطرے سے دوچار ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، کم عمر مہاجرین کو کھڑکیوں کے بغیر کوٹھڑیوں میں رکھا جا رہا ہے، انہیں مناسب طبی سہولتیں فراہم نہیں کی جا رہیں اور وہ طویل عرصہ تک اپنے والدین یا سرپرستوں سے جدا رہتے ہیں۔

جنوری سے اگست 2025 کے دوران ان بچوں کی اوسط حراستی مدت تقریباً ایک ماہ سے بڑھ کر چھ ماہ ہو گئی تھی جبکہ انہیں اپنے خاندان کے افراد کے حوالے کرنے کی شرح 95 فیصد سے کم ہو کر 45 فیصد پر آ گئی۔

ملک چھوڑنے کے لیے دباؤ

ماہرین نے کہا ہے کہ ان بچوں کی غیر قانونی بے دخلی کے مسلسل واقعات سامنے آ رہے ہیں جو پناہ کے خواہاں لوگوں کو ایسے ملک واپس نہ بھیجنے کی ممانعت کے اصول کی خلاف ورزی ہیں جہاں ان کی زندگی یا آزادی کو خطرہ ہو۔ ان میں انسانی سمگلنگ کا شکار ہونے والے اور ایسے بچے بھی شامل ہیں جنہیں اس کا خطرہ لاحق ہے۔

اطلاعات کے مطابق، بچوں پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ یا تو 2,500 ڈالر نقد لے کر خود ملک چھوڑ دیں یا غیر معینہ مدت تک حراست میں رہیں اور 18 سال کی عمر پوری ہونے پر امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ(آئی سی ای) کی تحویل میں دیے جائیں گے۔

ماہرین نے واضح کیا ہے کہ ان بچوں کو ایسے فیصلوں کے خلاف انتظامی اور عدالتی چارہ جوئی کا حق حاصل ہونا چاہیے جو ان کی اپنی یا ان کے والدین یا سرپرستوں کی صورتحال کو متاثر کرتے ہوں۔ اس معاملے میں غیر ضروری قانونی تاخیر سے بچنے کے اقدامات بھی ضروری ہیں کیونکہ اس سے بچوں کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ تیز رفتار قانونی کارروائی صرف اسی صورت میں ہونی چاہیے جب وہ بچے کے بہترین مفاد میں ہو اور کسی صورت منصفانہ سماعت اور قانونی عمل کی ضمانتوں کو محدود نہ کرے۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے مقرر کردہ یہ ماہرین اس معاملے پر امریکہ کی حکومت سے رابطے میں ہیں۔

غیر جانبدار ماہرین و اطلاع کار

غیرجانبدار ماہرین یا خصوصی اطلاع کار اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقہ کار کے تحت مقرر کیے جاتے ہیں جو اقوام متحدہ کے عملے کا حصہ نہیں ہوتے اور اپنے کام کا معاوضہ بھی وصول نہیں کرتے۔