فرانس: کسان مظاہرین کی گرفتاریوں پر انسانی حقوق ماہرین کو تشویش
انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کے ماہرین نے فرانس میں کسانوں اور زرعی تجارتی اتحاد کے رہنماؤں کی گرفتاریوں اور ان کے خلاف فوجداری مقدمات قائم کیے جانے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ماہرین نے کہا ہے کہ کسانوں کی پرامن سرگرمیوں کو مجرمانہ رنگ دینا تشویشناک ہے۔ سول نافرمانی جیسے علامتی اقدامات پر اس کے ترجمانوں اور بین الاقوامی کسان رہنماؤں کی گرفتاریاں کسانوں کے اس کے حق کو متاثر کر رہی ہیں کہ وہ دباؤ یا انتقامی کارروائی کے خوف کے بغیر اپنی شکایات سامنے رکھ سکیں۔
انہوں نے خبردار کیا ہے کہ حالیہ احتجاج کے خلاف فرانسیسی حکومت کی سخت کارروائیاں بنیادی حقوق پر غیر متناسب پابندیوں جیسے سنگین خدشات کو جنم دے رہی ہیں جن میں پرامن اجتماع، تنظیم سازی اور اظہار رائے کے حقوق بھی شامل ہیں۔
کسانوں کے مطالبات
سات جنوری کو کسانوں کے ایک گروہ نے ٹریکٹروں کے ذریعے پولیس کی رکاوٹیں توڑنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں ان کا پولیس اہلکاروں سے تصادم ہوا البتہ کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ اس سے برعکس، ایک ہفتے بعد ہونے والے پرامن احتجاج میں متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا اور انہیں فوجداری مقدمات کی دھمکیاں دی گئیں۔
چودہ جنوری 2026 کو پولیس نے وزارت زراعت کے سامنے ہونے والے ایک پرامن احتجاج کے دوران 52 افراد کو گرفتار کیا۔ اس موقع پر تقریباً 150 کسان لمپی سکن بیماری کے پھیلاؤ، یورپی یونین اور جنوبی امریکی تجارتی بلاک کے مابین معاہدے اور چھوٹے پیمانے کی زراعت کے لیے حکومتی تعاون کی کمی کے خلاف احتجاج کے لیے جمع ہوئے تھے۔
حراست میں لیے جانے والوں میں کنفیڈریشن پیزان کے تین قومی ترجمان، فرانسیسی گیانا کی زرعی تنظیم کے صدر اور بین الاقوامی کسان تحریک لا ویا کیمپیسینا کے رابطہ کار بھی شامل ہیں۔
بلاجواز اور امتیازی گرفتاریاں
ماہرین نے کہا ہے، حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو پرامن احتجاج کا حق دیں نہ کہ پولیس کے ذریعے اسے دبائیں۔ حکومت نے شروع میں احتجاج کے خلاف تحمل کا مظاہرہ کیا۔ لیکن اچانک مخصوص تنظیموں کے نمائندوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریاں بلا جواز اور امتیازی دکھائی دیتی ہے۔
ماہرین نے کہا ہے کہ کسان اور دیہاتی اپنے روزگار کے تحفظ کے لیے احتجاج اور ایسے فیصلوں میں شمولیت کا مطالبہ کر رہے ہیں جو ان کی بقا کو متاثر کرتے ہیں جن میں صحت سے متعلق پالیسیاں اور بین الاقوامی تجارتی معاہدے شامل ہیں۔ حکومت کو انہیں حراست میں لے کر خاموش کرنے کے بجائے ان کے ساتھ اصلاحی گفتگو کرنی چاہیے۔
ماہرین اس معاملے پر فرانس کی حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
غیر جانبدار ماہرین و اطلاع کار
غیرجانبدار ماہرین یا خصوصی اطلاع کار اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقہ کار کے تحت مقرر کیے جاتے ہیں جو اقوام متحدہ کے عملے کا حصہ نہیں ہوتے اور اپنے کام کا معاوضہ بھی وصول نہیں کرتے۔