انسانی کہانیاں عالمی تناظر

مشرقی یروشلم میں ’انروا‘ کے منہدم ہیڈکوارٹر کو بھی آگ لگا دی گئی

مشرقی یروشلم میں یونروا کے ہیڈکوارٹر کی فضائی تصویر جس میں تباہ شدہ عمارتیں، تعمیراتی سازوسامان اور آس پاس کے درخت نظر آتے ہیں۔
© UNRWA
مشرقی یروشلم میں انروا کا ہیڈکوارٹر جسے گزشتہ ہفتے اسرائیلی حکام نے بلڈوزروں کی مدد سے توڑ پھوڑ دیا تھا۔

مشرقی یروشلم میں ’انروا‘ کے منہدم ہیڈکوارٹر کو بھی آگ لگا دی گئی

امن اور سلامتی

فلسطینیوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (انروا) کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے مشرقی یروشلم میں ادارے کے ہیڈکوارٹر کو منہدم کرنے کے بعد آگ لگائے جانے کی اطلاعات پر مذمت اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ یہ اقدام اقوام متحدہ پر حملہ اور مقبوضہ علاقے میں فلسطینی پناہ گزینوں کی حیثیت ختم کرنے اور ان کی تاریخ مٹانے کے لیے جاری کوششوں کا حصہ ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقے میں بین الاقوامی اور اقوام متحدہ کے قانون کی خلاف ورزی نے تمام حدود عبور کر لی گئی ہیں۔

گزشتہ منگل کو اسرائیلی حکام نے شیخ جراح میں واقع 'انروا' کے احاطے میں بلڈوزروں کے ذریعے عمارتوں کو منہدم کر دیا تھا جسے اب آگ لگا دی گئی ہے۔ اس واقعے پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش اور ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک سمیت اعلیٰ عہدیداروں نے سخت مذمت کا اظہار کیا تھا۔

عالمی عدالت کا فیصلہ

اس سے قبل، 14 جنوری کو اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے مشرقی یروشلم ادارے کے ایک طبی مرکز میں داخل ہو کر اسے بند کرنے کا حکم دیا تھا۔ ادارے کے حوالے سے یہ بگڑتی صورتحال اسرائیلی پارلیمان کی جانب سے دسمبر میں کی گئی اس قانون سازی کا براہ راست نتیجہ ہے جس نے 2024 میں منظور کیے جانے والے انروا مخالف قوانین کو مزید سخت بنا دیا۔

کمشنر جنرل کے مطابق، ایسے اقدامات اسرائیل کی جانب سے ادارے کے خلاف وسیع پیمانے پر چلائی جانے والی گمراہ کن مہم کا نتیجہ ہیں۔

انہوں نے یاد دلایا ہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں عالمی عدالت انصاف نے واضح کیا تھا کہ اسرائیل 'انروا' کی امدادی کارروائیوں میں سہولت فراہم کرنے کا پابند ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ مشرقی یروشلم پر اسرائیل کا کوئی دائرہ اختیار نہیں۔