ڈیپ فیک سے لیکر ذہن سازی تک مصنوعی ذہانت کے خطرات بارے یو این کا انتباہ
اقوام متحدہ نے آن لائن دنیا میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے بہت بڑی مقدار میں نقصان دہ مواد کی تیاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بچوں کو بدسلوکی، استحصال اور ذہنی مسائل سے بچانے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
19 جنوری کو اقوام متحدہ کے متعدد اداروں نے 'مصنوعی ذہانت اور بچوں کے حقوق' کے عنوان سے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں اس ٹیکنالوجی سے بچوں کو لاحق خطرات نہایت واضح اور دو ٹوک انداز میں بیان کرتے ہوئے اس حقیقت کی نشاندہی کی گئی ہے کہ معاشرہ مجموعی طور پر ان خطروں سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اساتذہ، والدین اور بچوں کی دیکھ بھال کرنے والے لوگوں میں مصنوعی ذہانت کے بارے میں آگاہی کی سخت کمی ہے جبکہ پالیسی سازوں اور حکومتوں کے لیےاس ٹیکنالوجی کے فریم ورک، معلومات کے تحفظ اور بچوں کے حقوق پر مرتب ہونے والے اثرات کے جائزے سے متعلق تکنیکی تربیت بھی ناکافی ہے۔
اسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان اداروں نے مشترکہ سفارشات پیش کی ہیں جن پر عمل کرتے ہوئے جدید اطلاعاتی ٹیکنالوجی بالخصوص مصنوعی ذہانت کو بچوں کے لیے مفید اور محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔
مصنوعی ذہانت: بچوں کے لیے خطرات
بین الاقوامی ٹیلی مواصلاتی یونین (آئی ٹی یو) میں شعبہ ٹیلی مواصلاتی ترقی کے ڈائریکٹر کوسمیس زاوازاوا نے کہا ہے کہ آن لائن گرومنگ سے لے کر ڈیپ فیک، ٹیکنالوجی کے نقصان دہ فیچر، آن لائن بدسلوکی اور نامناسب مواد تک بچوں کے لیے بہت سے خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔ کووڈ-19 کی وبا کے دوران بہت سے بچے بالخصوص لڑکیاں اور نوجوان خواتین آن لائن زیادتی کا شکار ہوئیں اور کئی واقعات میں یہ زیادتی جسمانی نقصان میں بھی بدل گئی۔
بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ استحصالی عناصر اب مصنوعی ذہانت کے ذریعے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں، جذباتی کیفیات اور دلچسپیوں کا تجزیہ کرتے ہیں تاکہ اپنی حکمت عملی کو بچوں کی مخصوص نفسیات کے مطابق ڈھال سکیں۔ مجرم اس ٹیکنالوجی کے ذریعے حقیقی بچوں کی جعلی فحش تصاویر تیار کرتے ہیں اور اس طرح جنسی بلیک میلنگ کی ایک نئی شکل سامنے آ رہی ہے۔
بچوں کے جنسی استحصال اور زیادتی سے متعلق دنیا بھر سے قابل اعتماد معلومات جمع کرنے والے آزاد ادارے چائلڈ لائٹ گلوبل چائلڈ سیفٹی انسٹیٹیوٹ نے گزشتہ سال اپنی رپورٹ میں بتایا کہ 2024 میں امریکہ میں ٹیکنالوجی کے ذریعے بچوں سے بدسلوکی کے واقعات 67 ہزار سے تجاوز کر گئے جن کی تعداد 2023 میں 4,700 تھی۔
کڑے ضوابط کا نفاذ
جیسے جیسے رکن ممالک کو اس مسئلے کی سنگینی اور وسعت کا اندازہ ہو رہا ہے وہ سخت اقدامات کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
گزشتہ سال کے اختتام پر آسٹریلیا دنیا کا پہلا ملک بن گیا تھا جس نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی عائد کی۔ اس فیصلے کی بنیادی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ بچوں کی جانب سے شیئر کیے جانے والے مواد سے پیدا ہونے والے خطرات اس کے ممکنہ فوائد سے کہیں زیادہ ہیں۔
آسٹریلوی حکومت نے اس حوالے سے ایک سرکاری رپورٹ کا حوالہ دیا جس کے مطابق 10 سے 15 سال کی عمر کے تقریباً دو تہائی بچوں نے نفرت انگیز، پرتشدد یا ذہنی اذیت پہنچانے والا مواد دیکھ رکھا تھا جبکہ نصف سے زیادہ بچے آن لائن بدسلوکی کا شکار ہوئے اور انہوں نے ایسا بیشتر مواد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر دیکھا تھا۔
ملائشیا، برطانیہ، فرانس اور کینیڈا سمیت کئی دیگر ممالک بھی آسٹریلیا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اسی نوعیت کی پابندیوں یا ضوابط کے نفاذ پر غور کر رہے ہیں۔
ٹیکنالوجی کمپنیوں کی ذمہ داری
اس معاملے میں ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی تنقید کی زد میں ہیں۔ بیان کے مطابق، ان کے مصنوعی ذہانت سے متعلق بیشتر آلات اور بنیادی نمونے و نظام بچوں اور ان کی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھ کر نہیں بنائے گئے۔
زاوازاوا کہتے ہیں کہ یہ تشویش ناک معاملہ ہے اور اس میں نجی شعبے کو اقوام متحدہ کے اداروں اور ان تمام فریقین کا ساتھ دینا ہو گا جو ٹیکنالوجی کو فائدہ مند اور محفوظ بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔
تاہم، وہ پرامید رائے رکھتے ہیں کہ یہ کمپنیاں اپنے آلات کو محفوظ بنانے کے لیے سنجیدہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ابتدا میں یوں محسوس ہوا جیسے یہ کمپنیاں جدت میں رکاوٹ پیدا ہونے سے خائف ہیں مگر اقوام متحدہ کا پیغام بالکل واضح ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت کو ذمہ داری سے نافذ کیا جائے تو آپ بھی منافع بھی کما سکتے ہیں اور کاروبار کو بھی بڑھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ نجی شعبہ اقوام متحدہ کا شراکت دار ہے لیکن جہاں کسی نقصان دہ انجام کا خدشہ نظر آئے وہاں سرخ جھنڈی لہرانا لازمی ذمہ داری ہے۔
بچوں کے حقوق کا معاملہ
بیان پر دستخط کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اگرچہ کمپنیوں کو اپنی مصنوعات بچوں کے حقوق کے مطابق ڈیزائن کرنی چاہئیں لیکن ان کے استعمال کے حوالے سے معاشرے کے ہر طبقے کو اپنی ذمہ داری اٹھانا ہو گی۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ ٹیکنالوجی اور بچوں کے حقوق کے نقطۂ نظر سے تشویش ظاہر کی گئی ہو۔ 2021 میں بچوں کے حقوق کے کنونشن میں ڈیجیٹل دور کے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی زبان شامل کی گئی تھی۔ تاہم، اقوام متحدہ کے اداروں کا خیال ہے کہ رکن ممالک کو موثر ضابطہ سازی میں مدد دینے کے لیے مزید رہنمائی درکار ہے اور اسی لیے انہوں نے سفارشات کی ایک جامع فہرست تیار کی ہے۔
زاوازاوا کا کہنا ہے کہ بچے کم عمری میں آن لائن آ رہے ہیں اور ان کا تحفظ ناگزیر ہے۔ اسی لیے ان کے آن لائن تحفظ سے متعلق رہنما اصول مرتب کیے گئے ہیں۔ ان کا پہلا حصہ والدین، دوسرا اساتذہ، تیسرا ضابطہ کاروں اور چوتھا صنعت و نجی شعبے کے لیے مخصوص ہے۔
اقوام متحدہ کی سفارشات
- رکن ممالک کو چاہیے کہ بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مصنوعی ذہانت سے متعلق انتظامی طریقہ ہائے کار کو مضبوط بنائیں۔
- عالمی ادارے مصنوعی ذہانت سے متعلق تمام پالیسیوں اور ہر حکمت عملی میں بچوں کے حقوق کو شامل کریں۔
- حکومتیں اور کمپنیاں یقینی بنائیں کہ مصنوعی ذہانت کے نظام شفاف اور جوابدہ ہوں اور انہیں بچوں کے تحفظ کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہو۔
- مصنوعی ذہانت کے ذریعے بچوں پر ہونے والے تشدد اور استحصال کو روکنے اور اس کا تدارک کرنے کے لیے موثر اقدامات اٹھائے جائیں۔
- بچوں کی نجی معلومات کے تحفظ کے لیے مضبوط اور بچوں پر مرکوز نظام ناگزیر ہے۔
- مصنوعی ذہانت پر مبنی فیصلوں میں ہر بچے کے بہترین مفاد اور اس کی ہمہ جہت نشوونما کو ترجیح دی جائے۔
- تعصب سے پاک اور مشمولہ مصنوعی ذہانت ضروری ہے تاکہ تمام بچے یکساں طور پر نئی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکیں۔
- بچوں کی آرا اور تجربات کو مصنوعی ذہانت سے متعلق پالیسی سازی اور نظام کی تیاری میں بامعنی طور پر شامل کیا جائے۔
- مصنوعی ذہانت کی ترقی ماحولیاتی استحکام کو فروغ دے اور آئندہ نسلوں کے لیے طویل مدتی ماحولیاتی نقصان کو کم کرے۔
بیان پر دستخط کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے
- بین الاقوامی ٹیلی مواصلاتی یونین (آئی ٹی یو)
- کمیٹی برائے حقوق اطفال (سی آر سی)
- ادارہ برائے اطفال (یونیسف)
- عالمی ادارہ محنت (آئی ایل او)
- بین پارلیمانی یونین (آئی پی یو)
- تعلیمی، سائنسی و ثقافتی ادارہ (یونیسکو)
- جرائم و انصاف پر تحقیق کا عالمی ادارہ (یو این آئی سی آر آئی)
- ادارہ برائے امور تخفیف اسلحہ (یو این او ڈی اے)
- دفتر برائے انسانی حقوق (یو این ایچ سی آر)
- مسلح تنازعات میں بچوں کی صورت حال پر سیکرٹری جنرل کے نمائندہ خصوصی کا دفتر
- بچوں کے خلاف تشدد کی روک تھام پر سیکرٹری جنرل کے نمائندہ خصوصی کا دفتر
- بچوں کی خرید و فروخت، جنسی استحصال اور جنسی زیادتی کی روک تھام سے متعلق اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی کا دفتر
- بچوں کے آن لائن جنسی استحصال سے متعلق مواد کے خاتمے کے لیے یونیسف کے تعاون سے قائم پلیٹ فارم (سیف آن لائن)