انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ڈبلیو ایچ او سے نکلتے وقت امریکہ کے لگائے گئے الزامات کا جواب

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا پرچم سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ڈبلیو ایچ او کے ہیڈکوارٹر کی عمارت کے سامنے لہرا رہا ہے۔
WHO/P. Virot جنیوا میں عالمی ادارہ صحت کا صدر دفتر۔

ڈبلیو ایچ او سے نکلتے وقت امریکہ کے لگائے گئے الزامات کا جواب

صحت

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے امریکہ کی جانب سے ادارے سے علیحدگی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے ناصرف امریکہ بلکہ پوری دنیا کے لیے طبی تحفظ میں کمی آئے گی۔

ادارے نے کہا ہے کہ امریکی حکومت کے الزامات درست نہیں کہ اس نے امریکہ کو بدنام اور رسوا کیا، اس کی توہین کی اور اپنی خودمختاری پر سمجھوتہ کیا۔ اس سے برعکس 'ڈبلیو ایچ او' نے دیگر ممالک کی طرح امریکہ کے ساتھ بھی ہمیشہ نیک نیتی سے اور اس کی خودمختاری کا مکمل احترام کرتے ہوئے روابط قائم رکھنے کی کوشش کی ہے۔

Tweet URL

ادارے کا کہنا ہے کہ امریکہ نے کہا ہے کہ کووڈ۔19 وبا کے دوران 'ڈبلیو ایچ او' اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہا جن میں اہم معلومات کی بروقت اور درست فراہمی کو روکنا بھی شامل ہے اور اس نے اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش کی۔ تاہم، حقیقت یہ ہے کہ اس غیرمعمولی عالمی طبی بحران کے دوران ادارے نے تیزی سے اقدامات کیے، اپنے پاس دستیاب تمام معلومات دنیا کو فوری اور شفاف انداز میں فراہم کیں اور رکن ممالک کو بہترین دستیاب شواہد کی بنیاد پر رہنمائی فراہم کی۔ 

ادارہ امریکہ کی جانب سے علیحدگی کے نوٹس سے اپنے ایگزیکٹو بورڈ کے باقاعدہ اجلاس  میں غور کرے گا جو 2 فروری سے شروع ہو رہا ہے اور اس کے بعد رواں سال مئی میں ہونے والی عالمی طبی اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں بھی اس پر بحث کی جائے گی۔

کووڈ۔19: ڈبلیو ایچ او کا ذمہ دارانہ کردار 

'ڈبلیو ایچ او' کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دسمبر 2019 کو چین کے شہر ووہان میں نامعلوم وجہ سے نمونیہ کے مریض سامنے آنے کی پہلی اطلاعات ملنے کے فوری بعد ادارے نے چین سے مزید معلومات طلب کیں اور اپنا ہنگامی انتظامی نظام فعال کر دیا۔ 11 جنوری 2020 تک، جب چین میں اس مرض سے پہلی موت رپورٹ ہوئی، 'ڈبلیو ایچ او' دنیا کو باضابطہ ذرائع، بیانات اور سوشل میڈیا کے ذریعے اس خطرے سے آگاہ کر چکا تھا اور عالمی ماہرین کو اس پر تحقیق کے لیے جمع کرنے کے علاوہ رکن ممالک کو آبادی اور صحت کے نظام کے تحفظ سے متعلق جامع رہنمائی دے چکا تھا۔

30 جنوری 2020 کو جب 'ڈبلیو ایچ او' کے ڈائریکٹر جنرل نے بین الاقوامی طبی ضوابط کے تحت کووڈ-19 کو صحت عامہ کی عالمگیر ہنگامی صورتحال قرار دیا تو اس وقت چین سے باہر اس بیماری کے 100 سے کم مریض سامنے آئے تھے اور کسی بھی موت کی اطلاع نہیں تھی۔

رکن ممالک کی خودمختاری کا احترام 

وبا کے ابتدائی ہفتوں اور مہینوں میں ڈائریکٹر جنرل نے بارہا تمام ممالک سے فوری اقدامات کرنے کی اپیل کی اور خبردار کیا کہ بروقت ضروری اقدامات اٹھائے جائیں کہ کووڈ۔19 صحت و زندگی کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے۔

'ڈبلیو ایچ او' نے وبا کے دوران ماسک پہننے، ویکسین لگوانے اور جسمانی فاصلہ برقرار رکھنے کی سفارش کی لیکن کسی مرحلے پر ماسک لازمی قرار دینے، ویکسین کی جبری پابندی یا لاک ڈاؤن کی سفارش نہیں کی۔ اس حوالے سے تمام فیصلے رکن ممالک  کی حکومتوں نے کیے تھے۔

اس وبا اور اپنی کارکردگی سے متعلق متعدد جائزوں کے بعد 'ڈبلیو ایچ او'نے اپنے کام کو مزید مضبوط بنانے اور رکن ممالک کو مستقبل کی وباؤں سے بہتر طور پر نمٹنے میں مدد دینے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے ہیں۔ ایسے نظام جو وبا سے پہلے، وبا کے دوران اور اس کے بعد تیار کیے وہ ہمہ وقت فعال ہیں اورتمام ممالک بشمول امریکہ کو محفوظ رکھنے میں معاون ثابت ہوئے ہیں۔

وباؤں کے خلاف عالمی معاہدہ 

امریکہ نے اپنے بیانات میں یہ بھی کہا ہے کہ 'ڈبلیو ایچ' او نے امریکی مفادات کے مخالف ممالک کے زیر اثر ایک سیاسی اور افسرشاہانہ ایجنڈا اپنایا ہے۔ یہ الزام درست نہیں کہ اقوام متحدہ کے ایک خصوصی ادارے کی حیثیت سے ہمیشہ غیر جانبدار رہا ہے اور تمام ممالک کی کی خودمختاری کا احترام کرتے ہوئے کسی خوف یا جانبداری کے بغیر ان کی خدمت کرتا ہے۔

ادارے نے کہا ہے کہ وہ اپنے تمام رکن ممالک کی حمایت اور مسلسل شمولیت کو سراہتا ہے جو اس کے فریم ورک میں رہتے ہوئے دنیا کو متعدی و غیر متعدی بیماریوں سے درپیش خطرات کو دور کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ 

گزشتہ سال رکن ممالک نے وباؤں کے خلاف 'ڈبلیو ایچ او' کے معاہدے کو منظور کیا جو توثیق کے بعد مستقبل کی وباؤں سے دنیا کو محفوظ رکھنے کے لیے بین الاقوامی قانون بن جائے گا۔ اس وقت رکن ممالک اس معاہدے کے ایک ضمیمے، یعنی جرثوموں تک رسائی اور طبی فوائد کی تقسیم کے نظام پر مذاکرات کر رہے ہیں جس کی منظوری کے بعد وبائی صلاحیت رکھنے والے جراثیموں کی بروقت شناخت اور اس حوالے سے ضروری معلومات کے تبادلے اور ویکسین، علاج اور تشخیصی سہولیات تک منصفانہ اور بروقت رسائی کو فروغ ملے گا۔

عالمگیر صحت عامہ کے لیے عزم

'ڈبلیو ایچ او' نے کہا ہے کہ امریکہ نے اس کا بانی رکن ہونے کی حیثیت سے طبی میدان  میں بہت سی عظیم کامیابیوں میں نمایاں کردار ادا کیا ہے جن میں چیچک کا مکمل خاتمہ اور پولیو، ایچ آئی وی، ایبولا، انفلوئنزا، تپ دق، ملیریا، نظر انداز کی جانے والی استوائی بیماریاں، جراثیمی مزاحمت، غذائی عدم تحفظ اور صحت عامہ کو لاحق دیگر کئی خطرات کے خلاف پیش رفت شامل ہے۔

ادارے نے امید کی ہے کہ مستقبل میں امریکہ دوبارہ 'ڈبلیو ایچ او 'میں فعال کردار ادا کرے گا۔ اس دوران ادارہ اپنے بنیادی مشن اور ذمہ داری پر ثابت قدم رہے گا کہ ہر انسان کے لیے صحت کے بلند ترین ممکنہ معیار کو بنیادی انسانی حق کے طور پر یقینی بنایا جائے۔