انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ایران: عالمی قوانین کی ’خلاف ورزیوں‘ کے شواہد اکٹھے کرنا اہم، سارہ حسین

ایران پر حقائق جاننے والے بین الاقوامی مشن کی سربراہ سارہ حسن۔
UN News
ایران پر حقائق جاننے والے بین الاقوامی مشن کی سربراہ سارہ حسن (فائل فوٹو)۔

ایران: عالمی قوانین کی ’خلاف ورزیوں‘ کے شواہد اکٹھے کرنا اہم، سارہ حسین

انسانی حقوق

ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی قائم کردہ تحقیقاتی ٹیم نے بتایا ہے کہ 28 دسمبر سے شروع ہونے والے احتجاج کے دوران ہزاروں افراد ہلاک ہوئے جبکہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ کم از کم 300 سکیورٹی اہلکار بھی مارے گئے۔

ٹیم کی سربراہ سارہ حسین نے آج جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے 39ویں خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میں حالیہ خوفناک واقعات کے پیش نظر سب سے اہم کام اب یہ ہے کہ شواہد جمع کیے جائیں اور یہ طے کیا جائے کہ آیا انسانی حقوق کی پامالیاں یا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیاں ہوئی ہیں یا نہیں۔ ایسے مظالم کا اعادہ روکنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ جوابدہی یقینی بنائی جائے۔

Tweet URL

انہوں نے کہا کہ ایران میں احتجاج کے تناظر میں حکومت نے ایسے قانونی نظام کے تحت منظم کارروائیاں کیں جو ایرانی عوام کے حقوق کی حفاظت کرنے میں ناکام ہے، مجرموں کو تحفظ دیتا اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری رہنے کے امکانات پیدا کرتا ہے۔

ان حالات میں عالمی برادری کے فوری اقدام کی ضرورت واضح ہو جاتی ہے لیکن یہ واضح رہے کہ بین الاقوامی قانون کسی ملک میں دوسرے ملک کی عسکری مداخلت کے خلاف ہے۔ ایران میں حالیہ واقعات اس بات کو یقینی بنانے کا تقاضا کرتے ہیں کہ مظالم کے مرتکب افراد اور ان ریاستی ڈھانچوں کو شناخت کیا جائے اور جوابدہ ٹھہرایا جائے۔

جبر کے ثبوت

تحقیقاتی ٹیم نے ایران میں احتجاج کے دوران انٹرنیٹ بند ہونے کے باوجود گواہوں اور متاثرین کے بیانات جمع کیے اور شواہد اکٹھے کیے جن میں طاقت کا غیر ضروری اور غیر متناسب استعمال، لوگوں کو بلاجواز قتل اور شدید زخمی کرنا، جنسی و صنفی بنیاد پر تشدد، بلاجواز گرفتاریاں اور جرائم کے زبردستی اعتراف شامل ہیں۔

اس دوران، 24,000 سے زیادہ لوگوں کو گرفتار کیا گیا جن میں بچے، صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن بھی شامل ہیں۔

تحقیقاتی ٹیم نے ویڈیو فوٹیج اور تصاویر کا بھی جائزہ لیا جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے ایسے ہجوم پر گولیاں چلائیں جو کسی کی زندگی کے لیے فوری خطرہ نہیں تھے۔

طاقت کا مہلک استعمال

سارہ حسین نے کہا کہ قانون نافذ کرنے کے دوران جان لیوا طاقت کا استعمال بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کے تحت کڑی شرائط کے تابع ہے۔ ایسی طاقت صرف آخری حل کے طور پر استعمال کی جا سکتی ہے جب کسی کی زندگی کو لاحق خطرے کا سدباب مقصود ہو۔  

انہوں نے مطالبہ کیا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا خاتمہ کیا جائے، خطرے کی زد میں آئے لوگوں کی حفاظت کی جائے اور ایران میں خواتین، مردوں اور بچوں کے لیے سچائی، انصاف اور جوابدہی کا حقیقی راستہ فراہم کیا جائے۔