انسانی کہانیاں عالمی تناظر

امریکہ تارکین وطن کے انسانی وقار اور حقوق کا خیال رکھے، وولکر ترک

زیرِ حراست کارکنوں کے ہاتھوں کو اُٹھا کر ایک بس کے سامنے کھڑے ہیں جبکہ آئی سی ای کے ایجنٹ جارجیا ہونڈائی ایل جی کی سہولیات پر نگرانی کر رہے ہیں۔
© Wikipedia/Corey Bullard/ICE
امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ جسے عام طور پر آئس (آئی سی ای) کے نام سے جانا جاتا ہے کے اہلکار جارجیا میں گاڑیاں بنانے کے ایک کارخانے کے اہلکاروں کو حراست میں لیے ہوئے ہیں۔

امریکہ تارکین وطن کے انسانی وقار اور حقوق کا خیال رکھے، وولکر ترک

انسانی حقوق

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ تارکین وطن کے حوالے سے پالیسیوں اور ان کے نفاذ کے طریقہ کار میں انسانی وقار اور منصفانہ قانونی عمل کے حقوق کا احترام یقینی بنائے۔ انہوں نے مہاجرین کی غیر انسانی تصویر کشی اور ان کے ساتھ نقصان دہ سلوک کی سخت مذمت کی ہے۔

ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ لوگوں کی نگرانی کی جا رہی ہے اور انہیں حراست میں لیا جا رہا ہے۔ بعض اوقات انہیں اس شبے پر ہسپتالوں، گرجا گھروں، مساجد، عدالتوں، بازاروں، سکولوں یہاں تک کہ ان کے اپنے گھروں میں بھی بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ وہ ضروری قانونی دستاویزات کے بغیر امریکہ میں رہنے والے مہاجر ہیں۔ بچے اس خوف سے سکول اور طبی معائنے  چھوڑ رہے ہیں کہ کہیں انہیں اپنے والدین سے الگ نہ کر دیا جائے۔

Tweet URL

جو لوگ ایسی کڑی کارروائیوں کے خلاف آواز اٹھانے یا پرامن احتجاج کرنے کی جرات کرتے ہیں انہیں سرکاری اہلکار بدنام کرتے اور دھمکیاں دیتے ہیں جبکہ بعض مواقع پر خود انہیں بھی ناجائز سختی کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔

منصفانہ طرزعمل اہم 

وولکر ترک نے کہا ہے کہ ہر ملک کو تارکین وطن کے حوالے سے اپنی پالیسیاں بنانے کا اختیار حاصل ہے لیکن یہ کام قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔ منصفانہ قانونی عمل کی پابندی کسی بھی پالیسی کی قانونی حیثیت اور ساکھ کے لیے ناگزیر ہے۔ اگر ان اصولوں کو نظرانداز کیا جائے تو اس سے عوامی اعتماد مجروح ہوتا ہے، قانونی یقین دہانی کمزور پڑتی ہے، اداروں کی ساکھ متاثر ہوتی ہے اور افراد کے حقوق پامال ہوتے ہیں۔

انہوں نے امریکہ میں کانگریس کے ایسے ارکان، ججوں، ریاستی و مقامی عہدیداروں، وکلا، مذہبی رہنماؤن، سماجی خدمات فراہم کرنے والوں حقوق کے کارکنوں اور عام شہریوں کو سراہا ہے جو مہاجرین اور ان کی برادریوں کے ساتھ وقار، انصاف اور جوابدہی کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔

نسل پرستانہ نفرت اور بدسلوکی 

ہائی کمشنر نے مہاجرین اور پناہ کے خواہاں افراد کے لیے استعمال کی جانے والی نقصان دہ اور غیر انسانی زبان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی تاریخ دنیا کے ہر خطے سے آنے والے مہاجرین کی خدمات سے تشکیل پائی ہے۔ انہیں ان کے پس منظر، قومیت یا تارک وطن حیثیت کی بنیاد پر مجرم، خطرہ یا معاشرے پر بوجھ قرار دینا غیر انسانی، غلط اور اس ملک کی بنیادوں کے سراسر منافی ہے۔

انہوں نے امریکی رہنماؤں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسے ہتھکنڈوں کو فوری طور پر بند کریں جو حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے اور تقسیم پیدا کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور جن سے مہاجرین اور پناہ گزینوں کو نسل پرستانہ نفرت اور بدسلوکی کے خطرات سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ بین الاقوامی قانون کے تحت جان لیوا طاقت کا استعمال صرف اسی وقت جائز ہے جب کسی فرد کی جانب سے دوسروں کی زندگی کو فوری خطرہ لاحق ہو اور یہ استعمال بھی آخری چارے کے طور پر ہونا چاہیے۔ 

بچوں کے تحفظ کا مطالبہ 

ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ بہت سی گرفتاریاں، حراستیں اور بے دخلی کے اقدامات خاندانوں کو یکجا رکھنے کی کسی کوشش کے بغیر اٹھائے جاتے ہیں جس کے نتیجے میں خاص طور پر بچوں کو شدید اور طویل المدتی نقصان کے خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ انہوں نے امریکی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسے طریقوں سے کام لینا بند کرے جو خاندانوں کو توڑ رہے ہیں۔

انہوں نے امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ یا آئس (آئی سی ای) کی حراست میں بڑھتی اموات کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ گزشتہ سال ایسی کم از کم 30 اموات رپورٹ ہوئیں جبکہ رواں سال چھ واقعات سامنے آئے ہیں۔

ہائی کمشنر نے واضح کیا ہے کہ امریکہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون اور پناہ گزینوں کے قانون کی پاسداری کا پابند ہے۔ امیگریشن پالیسیوں کے نفاذ میں ہمیشہ منصفانہ قانونی عمل، ناجائز حراست سے تحفظ، مہاجرین کو ان کی منشا کے بغیر واپس نہ بھیجنے کے اصول، مساوات، عدم امتیاز، اور خاندان کے تحفظ کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔