انسانی کہانیاں عالمی تناظر

فلسطین: غزہ میں سردی سے ہلاکتیں اور مغربی کنارے سے انخلاء جاری

A boy carries possessions as his family leaves their home in Nur Shams refugee camp in the northern West Bank.
© UNICEF/Alaa Badarneh
فلسطینی پناہ گزیں مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی حصے میں واقع نور شمس کیمپ کو چھوڑنے پر مجبور ہیں۔

فلسطین: غزہ میں سردی سے ہلاکتیں اور مغربی کنارے سے انخلاء جاری

انسانی امداد

غزہ میں سردی کی شدید لہر کے نتیجے میں ہونے والی اموات کی تعداد نو ہو گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے امدادی رابطہ دفتر (اوچا) نے علاقے میں بیٹریاں، شمسی پینل اور توانائی کے حصول کا دیگر سامان لانے کی اجازت دینے پر زور دیا ہے تاکہ سردی سے ہونے والے جانی نقصان کو روکا جا سکے۔

اطلاعات کے مطابق، منگل کی صبح غزہ شہر میں تین ماہ عمر کی ایک بچی سردی کے باعث موت کے منہ میں چلی گئی جو حالیہ موسم میں شدید ٹھنڈ لگنے (ہائپو تھرمیا) سے ہونے والی اموات میں تازہ ترین اضافہ ہے۔

Tweet URL

اقوام متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق نے نیویارک میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ امدادی پابندیوں کے باوجود غزہ کی آبادی کو ہر ممکن مدد پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ رواں سال کے آغاز سے اب تک 50 امدادی مراکز کے ذریعے 8 لاکھ 60 ہزار سے زیادہ لوگوں کو خوراک فراہم کی گئی ہے جبکہ روزانہ تقریباً 16 لاکھ افراد کو تیار کھانا بھی دیا جا رہا ہے۔ 

ویکسین مہم اور طبی انخلا

صحت کے شعبے میں کام کرنے والے امدادی اداروں نے اتوار کو شروع ہونے والی 10 روزہ ویکسین مہم کے پہلے دو ایام میں تین سال سے کم عمر کے 3,000 بچوں کو ویکسین دی۔ اس مہم کا مقصد بچوں کو قابل انسداد بیماریوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔

عالمی ادار صحت (ڈبلیو ایچ او) نے سوموار کو طبی انخلا کی ایک اور کارروائی میں سہولت فراہم کی جس کے تحت 21 مریضوں اور ان کے ہمراہ افراد کو علاج کے لیے اردن منتقل کیا گیا۔

اب بھی چار ہزار بچوں سمیت 18 ہزار سے زیادہ مریض بیرون ملک علاج کے منتظر ہیں۔ ادارے نے رکن ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ ان مریضوں کو قبول کریں اور مغربی کنارے، بشمول مشرقی یروشلم کی جانب طبی انخلا کا راستہ دوبارہ کھولا جائے۔

مغربی کنارے میں ہلاکتیں 

اوچا نے مغربی کنارے سے متعلق اپنی ماہانہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز اور آبادکاروں کے ہاتھوں 14 فلسطینی ہلاک اور 231 زخمی ہوئے۔

اس دوران اسرائیلی آبادکاروں نے 132 حملے کیے جن کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان ہوا جبکہ 246 فلسطینی بے گھر ہو گئے۔ مغربی کنارے میں سات اسرائیلی زخمی ہوئے تاہم کسی کے ہلاک ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق، 2025 میں فلسطینیوں کی بے دخلی اور آبادکاروں کے حملے ریکارڈ سطح تک پہنچ گئے۔

گزشتہ سال مغربی کنارے میں 240 فلسطینی ہلاک ہوئے جن میں 55 بچے بھی شامل تھے۔ ان میں سے 225 ہلاکتیں اسرائیلی افواج کے ہاتھوں ہوئیں جبکہ نو افراد کو آبادکاروں نے قتل کیا۔ علاقے میں 3,982 فلسطینی زخمی ہوئے جن میں تقریباً 700 بچے بھی شامل تھے جبکہ 37,135 افراد بے گھر ہوئے۔ اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں کی تعداد 1,828 رہی جن کے نتیجے میں جانی یا مالی نقصان ہوا۔

اسی مدت میں 17 اسرائیلی ہلاک ہوئے جن میں ایک بچہ اور چھ سکیورٹی اہلکار شامل تھے جبکہ 101 اسرائیلی زخمی ہوئے جن میں پانچ بچے اور 32 سکیورٹی اہلکار شامل تھے۔

فلسطینیوں کی بیدخلی 

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) نے خبردار کیا ہے کہ مشرقی یروشلم میں فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی رفتار تیز ہو رہی ہے اور ان کے رہائشی علاقوں کو منظم انداز میں خالی کیا جا رہا ہے۔ مقبوضہ فلسطینی علاقوں (او پی ٹی) میں ادارے کے سربراہ سربراہ اجیت سنگھے نے پرانے شہر کے جنوب میں واقع سلوان محلے میں گھروں کی مسماری اور بے دخلیوں کی نشاندہی کی ہے۔

انہوں نے بتایا ہے کہ مشرقی یروشلم، رام اللہ اور بیت اللحم جیسے اہم فلسطینی شہری مراکز کے وسط میں بھی غیرقانونی اسرائیلی آبادیاں پھیلائی جا رہی ہیں۔ فلسطینیوں کی بے دخلی کے بعد ان کے گھروں کو اسرائیلی آبادکاروں کے حوالے کر دیا جاتا ہے جس سے پرانے شہر کے آس پاس فلسطینی موجودگی مزید کمزور ہو رہی ہے۔

جولائی 2024 میں عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) کے فیصلے میں قرار دیا گیا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور گھروں کی مسماری چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہیں۔