بین الاقوامی قوانین کو نظر انداز کرنے کے نتائج خطرناک ہونگے، یو این چیف
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ جب عالمی رہنما بین الاقوامی قانون کو نظرانداز کرتے اور اپنی مرضی کے اصولوں پر ہی عمل کرتے ہیں تو بین الاقوامی نظام کمزور پڑ جاتا ہے اور خطرناک مثال قائم ہوتی ہے۔
سیکرٹری جنرل نے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم ایکس کہا ہے کہ اقوام متحدہ کا چارٹر بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد اور امن، پائیدار ترقی اور انسانی حقوق کا بنیادی ستون ہے۔ جب چند افراد عالمی بیانیے بدلنے، انتخابات پر اثر انداز ہونے یا عوامی بحث کی سمت متعین کرنے کی طاقت رکھتے ہوں تو دنیا کو عدم مساوات، ادارہ جاتی بدعنوانی اور اپنی مشترکہ اقدار کے زوال کا سامنا ہوتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ کا چارٹر سب کے لیے ایک لازمی معاہدہ ہے اور تمام رکن ممالک پر لازم ہے کہ وہ اس کی مکمل اور دیانتدارانہ طور پر پابندی کریں۔
اعتماد کون قائم کرتا ہے؟
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدر اینالینا بیئربوک نے سوئزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ہونے والے عالمی اقتصادی فورم سے خطاب کرتے ہوئے دنیا کے سرکردہ رہنماؤں کے سامنے یہ سوال اٹھایا ہے کہ اعتماد کون قائم کر سکتا ہے؟
ان کا کہنا تھا کہ اس سادہ سوال کا سادہ جواب یہ ہے کہ اقوام متحدہ جیسے کثیرالفریقی ادارے اعتماد ساز ہوتے ہیں۔ اعتماد وہی لوگ قائم کر سکتے ہیں جو مشترکہ قوانین اور اصولوں کی پاسداری کریں، چاہے یہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو۔ اعتماد انہی لوگوں کے ذریعے آتا ہے جو عمل کے وقت قدم اٹھائیں چاہے اس کی قیمت کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو اور جو سچ بولیں حتیٰ کہ اس وقت بھی جب خاموش رہنا یا حقیقت کو مسخ کرنا آسان ہو۔
انہوں نے جنرل اسمبلی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ دنیا کا سب سے نمائندہ ادارہ ہے جس کے ارکان کی تعداد 193 ہے اور ہر ملک کو اس کی دولت یا طاقت سے قطع نظر اس ادارے میں ایک نشست اور ایک ووٹ حاصل ہے جو اسے بے مثال اخلاقی اختیار عطا کرتا ہے۔
تاہم، بدقسمتی سے موجودہ دور میں دنیا ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے۔ جب حالات اصولی موقف کا تقاضا کرتے ہیں تو بڑی تعداد میں ممالک ہچکچاہٹ کا شکار نظر آتے ہیں۔
بین الاقوامی نظام کے دفاع کی اپیل
جنرل اسمبلی کی صدر نے کہا کہ قوانین اور ضابطوں پر مبنی بین الاقوامی نظام کا دفاع کرنا نہ صرف اخلاقی طور پر درست بلکہ سبھی کے بہترین مفاد میں بھی ہے۔
آج اقوام متحدہ کھلے عام حملوں کی زد میں ہے۔ جو آوازیں کبھی اس ادارےکے چارٹر کے تین بنیادی ستونوں یعنی امن و سلامتی، پائیدار ترقی اور انسانی حقوق کے لیے بلند ہوتی تھیں وہ اب ان ستونوں کے کمزور پڑنے کے باوجود خاموش ہوتی جا رہی ہیں۔
اقوام متحدہ کے بانیوں نے اس حقیقت کو سمجھ لیا تھا کیونکہ وہ اس سے برعکس حالات کا انجام دیکھ چکے تھے۔ ایسی دنیا میں جہاں طاقت ہی حق کا معیار ہو، صرف ایک ہی نتیجہ نکل سکتا ہے جو کہ افراتفری اور جنگ ہے۔
انہوں نے بین الاقوامی نظام کے دفاع کے لیے ایک بین العلاقائی اتحاد تشکیل دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ایسا اتحاد پہلے ہی بڑی حد تک موجود ہے جس میں چند مستثنیات کے علاوہ اقوام متحدہ کے تمام 193 رکن ممالک شامل ہیں۔