انسانی کہانیاں عالمی تناظر

جانیے کہ ہیٹی کا بحران کیوں بگڑتا جا رہا ہے اور آئندہ کیا ہوگا؟

ہیٹی میں ایک خاتون نے پورٹ او پرنس، ڈیلماس 31 میں مشکل حالات کے تحت ہنگامی خوراک کی امداد حاصل کرنے کے بعد ڈبلیو ایف پی کے کھانے کا بیگ اور دودھ کا کنٹینر اٹھایا۔
© WFP/Luc Junior Segur
ہیٹی کے دارالحکومت پورٹ او پرنس میں ایک خاتون اقوام متحدہ کی جانب سے تقسیم کی جانے والی امداد وصول کرنے کے بعد۔

جانیے کہ ہیٹی کا بحران کیوں بگڑتا جا رہا ہے اور آئندہ کیا ہوگا؟

از ڈینیئل ڈکنسن
امن اور سلامتی

ہیٹی اپنی حالیہ تاریخ کے پیچیدہ ترین بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ غرب الہند کا یہ جزیرہ نما ملک آج عالمی توجہ کا مرکز ہو گا جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں سفیروں کو ملکی صورتحال پر بریفنگ دے گی۔

ملک کے بڑے حصے پر مسلح گروہ قابض ہیں اور تشدد دارالحکومت پورٹ او پرنس سے کہیں پرے پھیل چکا ہے جس سے ریاست کی انتظامی اور بنیادی خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت شدید متاثر ہوئی ہے۔ ملک میں گزشتہ ایک دہائی سے صدارتی انتخابات نہیں ہو سکے جبکہ انسانی ضروریات تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے ہیٹی میں اقوام متحدہ کے سیاسی مشن (بی آئی این یو ایچ) سے متعلق اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ تشدد میں شدت آئی ہے جو پھیلتا جا رہا ہے۔ ان حالات میں غذائی عدم تحفظ اور عدم استحکام میں اضافہ ہوا ہے جبکہ عبوری حکومتی انتظام کی مدت ختم ہونے کو ہے اور طویل عرصہ سے التوا کا شکار انتخابات فوری ضرورت بن چکے ہیں۔

media:entermedia_image:bf4e0bc4-7532-43c8-ba69-038fc37c0368
Giles Clarke

ہیٹی کیوں اہم؟

ہیٹی میں جاری بحران کے کئی پہلو ہیں۔ شہری علاقوں اور نقل و حمل کے راستوں پر مسلح جتھوں کا قبضہ اور دیہی علاقوں میں ان کی بڑھتی سرگرمیاں ملک بھر میں روزگار اور انسانی امداد کی رسائی کو متاثر کر رہی ہیں۔

سمندری طوفان، سیلاب اور خشک سالی جیسے شدید موسمی واقعات کے ساتھ تباہ کن زلزلوں نے انسانی صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے اور بحالی و ترقی کی کوششوں کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔

تشدد کے باعث ہر 10 میں سے ایک شہری اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور ہو چکا ہے جس سے ملک میں طویل المدتی عدم استحکام کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ لوگوں کی بے دخلی اور ہجرت ہمسایہ ممالک پر دباؤ ڈال سکتی ہے اور علاقائی استحکام کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ مسلح جتھوں کا تشدد ملک بھر میں لوگوں کو متاثر کر رہا ہے جس کے خاص طور پر خواتین، بچوں اور نوجوانوں پر تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور طویل مدتی طور پر معاشرتی ڈھانچے کمزور ہو رہا ہے۔

مسلح جتھوں کے خلاف محدود کامیابی

2025 کے آخری تین ماہ کے دوران مسلح تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا جوہیٹی کے شہریوں کی روزمرہ زندگی پر اثرانداز ہونے والا سب سے بڑا عنصر بن چکا ہے۔

بھاری ہتھیاروں سے لیس جتھے اغوا برائے تاوان اور جنسی تشدد کو طاقت اور تسلط قائم رکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، جبکہ جرائم پیشہ جتھوں کو کچلنے کے لیے سلامتی کونسل کی حمایت سے ہیٹی میں بھیجی گئی بین الاقوامی فورس کے تعاون سے ملکی پولیس کو محدود پیمانے پر ہی کامیابیاں ملی ہیں۔ 

سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ جنوری سے نومبر 2025 کے درمیان ملک بھر میں 8,100 سے زیادہ ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں۔ اطلاعات کے مطابق، بچوں کی سمگلنگ میں بھی اضافہ ہوا ہے جو مسلح جتھوں کے ہاتھوں پرتشدد حملوں میں استعمال ہو رہے ہیں۔

media:entermedia_image:c09faf09-9f63-4314-bace-125f0f166de6
© UNICEF/Patrice Noel

نازک سیاسی مرحلہ 

ہیٹی کا سیاسی عبوری دور نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ انتخابی شیڈول جاری ہونے سے امید پیدا ہوئی ہے کہ 2027 کے آغاز میں صدر اور پارلیمنٹ کا انتخاب عمل میں آئے گا۔ 

سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ قومی سطح کے فریقین مشترکہ لائحہ عمل پر فوری متفق ہوں تاکہ عبوری مرحلے کا خاتمہ ہو اور انتخابات کی تیاریوں میں تیزی لائی جا سکے۔ تاہم، بعض مبصرین کا خیال ہے کہ سکیورٹی میں نمایاں بہتری کے بغیر انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں۔

بگڑتے انسانی حالات 

ہیٹی میں انسانی حالات مسلسل بگڑ رہے ہیں جبکہ وسائل کی قلت کے باعث امداد کی فراہمی محدود ہو گئی ہے۔ غذائی عدم تحفظ 57 لاکھ افراد کو متاثر کر رہا ہے جن میں سے تقریباً 20 لاکھ ہنگامی سطح کی صورتحال سے دوچار ہیں۔ بے گھر افراد کی تعداد ایک سال میں دگنی ہو کر 14 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔

  • بہت سے طبی مراکز بمشکل کام کر رہے ہیں جبکہ ہیضہ بدستور صحت عامہ کے لیے بڑا خطرہ بنا ہوا ہے۔
  • 2024–25 کے تعلیمی سال میں تشدد کے باعث 1,600 سکول بند ہو گئے جس کے نتیجے میں 15 لاکھ بچوں کو تعلیم سے محروم ہونا پڑا۔
  • سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ امدادی اقدامات وسائل کی کمی کا شکار ہیں اور امدادی رسائی روز بروز مشکل ہوتی جا رہی ہے۔
media:entermedia_image:8bd94dd6-b716-4253-9366-2840c14da3e1
MINUSTAH/Logan Abassi

خواتین اور لڑکیوں کے لیے خطرات 

ہیٹی کے بحران سے بری طرح متاثر ہونے والوں میں خواتین اور لڑکیاں سرفہرست ہیں۔ مسلح جتھے اجتماعی زیادتی سمیت جنسی تشدد کو خوف و ہراس پھیلانے اور تسلط جمانے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

خوف اور سماجی بدنامی کے باعث ایسے بیشتر واقعات کی اطلاع نہیں دی جاتی جبکہ متاثرین کے لیے سہولیات کی کمی صدمے اور عدم احتساب کے رجحان کو مزید بڑھا رہی ہے۔

انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ انہیں جتھوں کی جانب سے جنسی تشدد کے بطور ہتھیار استعمال پر شدید تشویش ہے جس سے لوگ دہشت زدہ ہوتے ہیں اور خواتین و لڑکیوں کے تحفظ اور وقار کو منظم انداز میں پامال کیا جاتا ہے۔ 

بہتر مستقبل کی راہ 

اقوام متحدہ اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ ہیٹی میں سکیورٹی کی بحالی ناگزیر ہے لیکن صرف یہی کافی نہیں۔ خصوصاً نوجوانوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بہتر حکمرانی، انصاف، احتساب اور سماجی خدمات میں پیش رفت کے بغیر سلامتی کے شعبے میں حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ثابت ہوں گی۔ 

تشدد اور عدم استحکام کے اس سلسلے کا خاتمہ کرنے کے لیے قومی اتفاق رائے اور ملک کے لیے مستقل بین الاقوامی حمایت انتہائی ضروری ہے۔

ہیٹی میں ایک بے گھر بچے دیوسیکا نے یونیسف کی قمیض پہن کر اپنی کلاس روم میں کھڑے ہوئے، ایک کریک تھامے ہوئے، اور ایک سبق میں شرکت کرتے ہوئے توجہ مرکوز دکھائی دی۔ وہ یونیسف کی ریچ اپ کلاسز اور پیشہ ورانہ تربیت کو اسکول واپس جانے اور گریجویشن کرنے میں اس کی مدد کرنے کا اعزاز دیتی ہے، بچوں کو ترک نہ کرنے کی اہمیت پر زور دیتی ہے۔
© UNICEF/Herold Joseph

اقوام متحدہ کا ردعمل

اقوام متحدہ مختلف طریقوں سے ہیٹی کی مدد کر رہا ہے جن میں 'بی آئی این یو ایچ' کی جانب سے انسانی حقوق کی نگرانی، انتخابی معاونت اور پولیس کی استعداد بڑھانے کا کردار نمایاں ہے۔

  • اقوام متحدہ کے امدادی ادارے تشدد سے بری طرح متاثرہ لوگوں کو ضروری امداد فراہم کر رہے ہیں۔
  • 2026  میں امدادی منصوبوں کے تحت 42 لاکھ افراد کی مدد کے لیے 880 ملین ڈالر فراہم کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
  • اقوام متحدہ کے معاون دفتر برائے ہیٹی (یو این ایس او ایچ) کے قیام کی تیاریاں جاری ہیں جو مسلح جتھوں کو کچلنے کے لیے انصرامی و دیگر معاونت فراہم کرے گا۔