انسانی کہانیاں عالمی تناظر

پاکستان: بلوچستان میں پولیو کے خلاف مہم دہلیز سے کھیل کے میدان تک

ایک مسکراتے ہوئے لڑکا پاکستان پولیو کے خاتمے کے پروگرام کے گرین بینر کے سامنے اپنے کندھوں پر ایک چھوٹا بچہ اٹھا رہا ہے۔ بینر میں بچوں کی کارٹون اور اردو میں متن دکھایا گیا ہے، جس میں پولیو ویکسینیشن کی کوششوں کو فروغ دیا گیا ہے۔
© UNICEF/Saadullah
پولیو کے خلاف حفاظتی قطرے پالنے کی مہم میں شریک ایک بھائی اور بہن۔

پاکستان: بلوچستان میں پولیو کے خلاف مہم دہلیز سے کھیل کے میدان تک

صحت

اقوام متحدہ کا ادارہ برائے اطفال (یونیسف) پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں پولیو ویکسین مہم چلانے والے عملے کی مدد کر رہا ہے جہاں اس مرض سے ہزاروں بچوں کو خطرہ لاحق ہے۔ ایسے بچے اس مہم کا خاص ہدف ہیں جو گزشتہ مہمات میں پولیو کے قطرے پینے سے محروم رہ گئے تھے۔

چار سالہ انیسہ کوئٹہ کے گنجان آباد علاقے نالہ باؤنڈری میں رہتی ہیں جو پولیو وائرس کے پھیلاؤ کے اعتبار سے ایک خطرناک علاقہ قرار دیا گیا ہے۔ شہری آبادیوں میں رہنے والے بہت سے خاندانوں کی طرح کئی مرتبہ ایک سے دوسری جگہ منتقلی، شدید گرمی اور ویکسین کی سہولیات تک محدود رسائی کے باعث انیسہ گزشتہ مہمات میں پولیو ویکسین نہیں لے سکی تھیں۔

اگرچہ گزشتہ مہمات کے دوران بھی ویکسین پلانے والا عملہ اس علاقے میں آیا تھا لیکن انیسہ پولیو قطرے پینے سے محروم رہیں۔ ان کے خاندان کے لیے ویکسین نہ تو فوری ضرورت تھی اور نہ ہی یہ باآسانی دستیاب تھی یہاں تک کہ ان کی گلی تک پہنچنے کے لیے ایک مختلف طریقہ اپنایا گیا۔

جاپان کی حمایت یافتہ یونیسف کے امیونٹی ایکسپریس پروگرام کے تحت ایک ہیلتھ ورکر نے بلوچستان، پاکستان میں ایک نوجوان لڑکے کو پولیو ویکسین دی۔ بچے کی ماں ماسک پہن کر قریب سے دیکھ رہی ہے۔
© UNICEF/Saadullah
پولیو کے خلاف ’ایمیونٹی ایکسپریس‘ مہم کے دوران بچوں کو ویکسین کے قطرے پلائے جا رہے ہیں۔

انسداد پولیو مہم: رسائی کا منفرد انداز 

اپریل 2025 میں پولیو مہم کے دوران ایک گرم دوپہر کو انیسہ کے 10 سالہ بھائی رفیع اللہ نے اپنے گھر کے باہر بچوں کے ہنسنے اور موسیقی کی آوازیں سنیں۔ تجسس کے مارے وہ گھر سے باہر آئے تو انہوں نے سجے ہوئے اونٹ، رنگ برنگے جھولے اور بچوں کا ایک ہجوم دیکھا جو کسی چھوٹے سے مقامی میلے جیسا منظر پیش کر رہا تھا۔ یہ دراصل 'امیونٹی ایکسپریس' ویکسینیشن مرکز تھا جسے گزشتہ مہم کے دوران ویکسین سے محروم رہ جانے والے بچوں تک رسائی کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

رفیع اللہ بھاگتے ہوئے اپنے گھر واپس گئے اور چند ہی لمحوں بعد انیسہ اور اپنے والد کے ساتھ دوبارہ باہر آئے۔ جب عملے نے انیسہ کی انگلی دیکھی تو اس پر ویکسین کا نشان نہیں تھا۔ انیسہ کے والد کی اجازت کے بعد، عملے نے انہیں پولیو کے قطرے پلائے۔ کچھ ہی دیر بعد وہ ہنستی مسکراتی جھولا جھول رہی تھیں اور ان کی ہچکچاہٹ خوشی میں بدل چکی تھی۔

رفیع اللہ نے بتایا کہ وہ بہت خوش ہیں۔ پہلے ان کی بہن کو پولیو کے قطرے نہیں پلائے گئے تھے۔ اب پولیو عملے کے ہاتھوں ویکسین لینے کے بعد وہ مسکرا رہی ہیں اور انہیں خوشی ہے کہ اب وہ محفوظ ہیں۔

انیسہ کے والد کے لیے یہ تجربہ ان کی سوچ میں ایک اہم تبدیلی کا باعث بنا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے انہیں پولیو ویکسین کی اہمیت کا اندازہ نہیں تھا۔ لیکن یہاں جس آسانی سے ان کی بیٹی کو ویکسین دی گئی اس سے وہ ویکسین کی اہمیت جان گئے ہیں۔ اب ان کی بیٹی نے پولیو کے قطرے پی لیے ہیں اور اس سے ان کے دل کو سکون ملا ہے۔

ان کے الفاظ اس وسیع تر مسئلے کی عکاسی کرتے ہیں جو پولیو وائرس کے پھیلاؤ سے متعلق زیادہ خطرے والے شہری علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ یہاں عموماً انکار نہیں بلکہ رسائی اور رابطے میں رکاوٹ ویکسین سے محرومی کی بنیادی وجہ ہوتی ہے۔

بلوچستان، پاکستان میں یونیسیف اور جی آئی سی اے کی حمایت سے پولیو ویکسینیشن مہم کے دوران ایک اونٹ پر مسکراتے ہوئے ایک بچے نے امن کے اشارے کو ہلایا۔ ایک مقامی لڑکا اونٹ کی قیادت کرتا ہے۔ اونٹ پر پولیو ویکسینیشن کی تشہیر کرنے والا ایک بینر ہے۔
© UNICEF/Saadullah
پولیو کے خلاف مہم میں بچوں کی دلچسپی برقرار رکھنے کے لیے انہیں اونٹ کی سواری بھی کرائی گئی۔

'ایمیونٹی ایکسپریس' کیا ہے؟

ایمیونٹی ایکسپریس کو اپریل اور مئی 2025 میں کوئٹہ کی ایسی 14 یونین کونسلوں میں آزمایا گیا جہاں پولیو وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ دیگر علاقوں سے کہیں زیادہ تھا۔ یہ منصوبہ سماجی اور رویوں کو بدلنے والی حکمت عملی کے طور پر شروع کیا گیا جس کے تحت گھر گھر ویکسین دینے کے ساتھ بچوں کے لیے دوستانہ ویکسین مراکز بھی بنائے گئے تاکہ لوگ رضاکارانہ طور پر اپنے بچوں کو ویکسین لگوانے کے لیے لائیں۔

اس مہم سے پہلے 763 ایسے بچے شناخت کیے گئے جو ویکسین سے محروم رہ گئے تھے۔ ان میں سے 468 بچوں کو 'امیونٹی ایکسپریس' کے ذریعے کامیابی کے ساتھ ویکسین دی گئی جن میں انیسہ بھی شامل تھیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اضافی رابطے اور آگاہی کے طریقوں سے ویکسین کو محروم رہ جانے والے بچوں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔

یہ اقدام جاپان کی حکومت کے ادارہ برائے بین الاقوامی تعاون (جائیکا) کی مدد سے ممکن ہوا جو یونیسف کو ویکسین کی خریداری میں مدد دیتا ہے تاکہ ویکسین کی دستیابی میں رکاوٹ نہ آئے۔ C°45 سے زیادہ درجہ حرارت کے باوجود، ویکسین لگانے والے عملہ پورا کام کرتا ہے۔ اس کے پاس ویکسین کی مناسب مقدار، اسے ٹھنڈا رکھنے والے ڈبے اور دیگر ضروری سامان موجود ہوتا ہے۔

انیسہ کے علاقے میں ایک شخص نے بتایا کہ اس منصوبے کی وجہ سے لوگوں کی سوچ بدل گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بحیثیت معاشرہ اب لوگ ایسے اقدامات کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ 'امیونٹی ایکسپریس' جیسی سرگرمیوں کے ذریعے پولیو ویکسین کے بارے میں لوگوں میں اعتماد بڑھتا ہے۔ جب لوگوں کو شمولیت کا احساس ہو اور بچے خود کو محفوظ محسوس کریں تو ویکسین کی قبولیت بڑھ جاتی ہے۔

بلوچستان، پاکستان میں بچے پولیو ویکسینیشن حاصل کرنے کے لیے یونیسف اور جاپان کی مدد سے 'Immunity Express' نامی رنگین موبائل ویکسینیشن یونٹ پر سوار ہوتے ہیں۔ یہ بینر مقامی زبان میں بچوں کی صحت اور ویکسینیشن کو فروغ دیتا ہے۔
© UNICEF/Saadullah
پولیو کے خلاف مہم میں بچوں کی تفریح طبع کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔

ہر بچے کا تحفظ

انیسہ کے لیے یہ تجربہ زندگی بھر کی معذوری سے تحفظ کا ذریعہ تھا۔ ان کے بھائی رفیع اللہ کے لیے یہ خوشی اور سکون کا سبب جبکہ کوئٹہ میں پولیو وائرس کے پھیلاؤ سے متعلق خطرناک ترین علاقوں میں رہنے والےلوگوں کے لیے یہ اس مستقبل کی طرف قدم تھا جہاں ہر بچہ محفوظ رہے۔

یونیسف جاپان کی حکومت کی مسلسل مدد سے نہ صرف ویکسین خریدنے بلکہ اس سے موثر طور پر کام لینے اور ہر بچے بالخصوص ایسے بچوں تک رسائی کے لیے پرعزم ہے جو قبل ازیں ویکسین سے محروم رہ گئے ہوں۔

یہ فیچر پہلے انگلش میں یہاں شائع ہوا تھا جس کا اردو ترجمہ عبداللہ زاہد نے کیا ہے۔