انسانی کہانیاں عالمی تناظر

شام: حکومت اور کردوں میں جھڑپوں کے دوران جیلوں سے داعش کے قیدی فرار

خواتین اور بچوں سمیت شہریوں نے شام کے شہر حلب میں انسانی امدادی راہداری میں ایمبولینس اور ایمرجنسی اہلکاروں کے قریب جمع ہو کر عداوت میں اضافے کے بعد ہزاروں افراد کو بے گھر کردیا۔
© UNOCHA/Ali Haj Suleiman
شام میں حکومت اور کرد ملیشیا کے درمیان جاری جھڑپوں کی وجہ سے ہزاروں لوگ گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہیں۔

شام: حکومت اور کردوں میں جھڑپوں کے دوران جیلوں سے داعش کے قیدی فرار

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے شام میں تشدد کی صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیا ہے جہاں سرکاری فوج اور کرد قیادت میں شامی جمہوری فورسز (ایس ڈی ایف) کے مابین جھڑپوں کے دوران شدت پسند تنظیم داعش کے درجنوں قیدی جیلوں سے فرار ہو گئے ہیں۔

ادارے کے نائب ترجمان فرحان حق نے نیویارک میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ سیکرٹری جنرل نے بین الاقوامی قانون کے مکمل احترام اور شہریوں کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے حراستی مراکز کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کہا ہے۔ انہوں نے متحارب فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ بات چیت جاری رکھیں، نیک نیتی کے ساتھ آگے بڑھیں اور تمام معاہدوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے باہمی تعاون کریں۔

18 جنوری کو طے پانے والے ایک معاہدے کے تحت شام کے عبوری حکام کو 'ایس ڈی ایف' کے زیرتسلط علاقوں کا انتظام سنبھالنا ہے اور اس کی افواج کو قومی فوج میں ضم کرنا ہے۔ تاہم، معاہدے کے اعلان سے صرف ایک دن بعد دوبارہ جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ اس دوران، اطلاعات کے مطابق، الشدادی شہر کی جیل سے داعش کے 120 جنگجو فرار ہو گئے تاہم ان میں سے بیشتر کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔

انسانی حقوق کی پاسداری کا مطالبہ 

جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) کی ترجمان روینہ شمداسانی نے کہا ہے کہ ادارے کو 18 جنوری کو طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے باوجود شامی فوج اور'ایس ڈی ایف' کے درمیان دوبارہ جھڑپوں کی اطلاعات پر سخت تشویش ہے۔

انہوں نے کہا ہے، ادارے کا طویل عرصے سے یہ موقف رہا ہے کہ سکیورٹی فورسز، خصوصاً 'ایس ڈی ایف' کے عناصر کو شامی ریاستی اداروں میں ضم کرنے کا عمل انسانی حقوق پر مبنی سخت جانچ پڑتال کے تحت ہونا چاہیے۔

اقوام متحدہ کے شعبہ اطلاعات (یو این آئی ایس)کے رولینڈو گومز نے ملک کی مجموعی صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ایسے خاندانوں کی سلامتی کے حوالے سے بھی تشویش ظاہر کی ہے جو تشدد کا شکار علاقوں سے نکلنے سے قاصر ہیں یا بے گھر ہو گئے ہیں۔

نازک سیاسی مرحلہ

14 سالہ خانہ جنگی اور دسمبر 2024 میں اسد حکومت کے خاتمے کے بعد شام نازک سیاسی مرحلے سے گزر رہا ہے۔ عبوری حکومت شمال مشرق میں کردوں کے زیرکنٹرول علاقوں پر اپنی عملداری قائم کرنے کے لیےکوشاں ہے جبکہ حلب، رقہ، دیر الزور اور الحسکہ میں جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔ 

اقوام متحدہ میں شام کے سفیر ابراہیم اولابی نے نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت اور 'ایس ڈی ایف' الحسکہ صوبے کے مستقبل سے متعلق کئی امور پر اتفاق رائے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ 'ایس ڈی ایف' کو چار یوم کی مہلت دی گئی ہے تاکہ وہ مشاورت کے بعد علاقے کے انضمام طریقہ کار پر تفصیلی منصوبہ تیار کر سکے۔

شمال مشرقی شام میں کئی ایسے قید خانے موجود ہیں جہاں داعش سے تعلق رکھنے والے ہزاروں جنگجو قید ہیں۔ ان کے علاوہ ہزاروں شہری اور ان کے خاندان بھی علیحدہ حراستی کیمپوں میں رکھے گئے ہیں جن میں زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ ان مراکز میں بدنام الہول کیمپ بھی شامل ہے جہاں 30 ہزار سے زیادہ لوگوں کو رکھا گیا ہے۔

انسانی امداد کی فراہمی 

اقوام متحدہ کے امدادی رابطہ دفتر (اوچا) نے بتایا ہے کہ تشدد سے متاثرہ چار صوبوں میں ہنگامی امدادی سرگرمیاں انجام دی جا رہی ہیں جن میں زخمیوں کا علاج، پانی اور صفائی کی سہولیات اور نفسیاتی معاونت کی فراہمی شامل ہے۔

دیر الزور میں عوامی خدمات معطل کر دی گئی ہیں اور اہم شاہراہیں عارضی طور پر بند ہیں جس کے باعث تعلیم اور صحت کی سہولیات تک شہریوں کی رسائی منقطع ہو گئی ہے۔ رقہ میں بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کے باعث مختلف علاقوں کے درمیان آمدورفت محدود ہو گئی ہے اور پانی کی فراہمی میں خلل آٰیا ہے۔

لوگ بدستور رقہ، طبقہ اور الثورہ سے نقل مکانی کر رہے ہیں۔ طبقہ میں سیکڑوں خاندان پھنسے ہیں جنہوں نے سرکاری عمارتوں میں پناہ لے رکھی ہے۔ امدادی ٹیمیں متاثرہ آبادیوں تک مستقل اور محفوظ رسائی کے لیے زور دیتے ہوئے لوگوں کی ضروریات جانچنے میں مصروف ہیں۔