بجلی گھروں پر روس کے متواتر حملے عالمی قوانین کی خلاف ورزی، وولکر ترک
یوکرین میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر روسی حملوں کے باعث شدید سرد موسم میں ہزاروں شہری حرارت، بجلی اور پانی کی سہولیات سے محروم ہیں۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے ان حملوں کو ظالمانہ اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
گزشتہ رات دارالحکومت کیئو، اوڈیسا اور دیگر شہروں میں توانائی کے نظام کو ایک مرتبہ پھر میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا جبکہ درجہ حرارت نقطہ انجماد سے کہیں نیچے گر چکا ہے اور شہری ایسے حملوں سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ روس کے حملوں کو ظالمانہ ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ انہیں فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔ شہریوں اور شہری ڈھانچے کو نشانہ بنانا جنگی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔
یوکرین کے حکام نے بتایا ہے کہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے نئے حملوں کے نتیجے میں ملک کے کئی علاقوں میں بجلی اور حرارت کی فراہمی منقطع ہو گئی۔ کیئو میں منگل کی صبح 5,635 کثیر المنزلہ رہائشی عمارتیں حرارتی سہولت سے محروم تھیں جن میں سے تقریباً 80 فیصد میں رواں ماہ کے اوائل میں ہونے والے ایسے ہی حملوں کے بعد حال ہی میں حرارت بحال کی گئی تھی۔
سنگین انسانی بحران
روسی افواج نے گزشتہ سال اکتوبر سے یوکرین میں توانائی کے ڈھانچے پر منظم اور بڑے حملے دوبارہ شروع کر رکھے ہیں جن کے اثرات ملک کے کم از کم 20 علاقوں میں دیکھے گئے ہیں۔ وولکر ترک نے روس کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر یہ حملے بند کریں۔ شہریوں کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے سے انسانی تکالیف میں مزید اضافہ ہو گا۔
ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ یوکرین میں ہزاروں خاندان حرارت کے بغیر زندگی گزار رہے ہیں اور دارالحکومت سمیت کئی علاقوں میں پانی کی فراہمی بھی معطل ہے۔ اس صورتحال کا سب سے زیادہ اثر بچوں، معمر اور معذور افراد پر پڑ رہا ہے۔
یوکرین کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی رابطہ کار میتھیائس شمالے نے بتایا ہے کہ گزشتہ 48 گھنٹوں میں ہزاروں شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ والدین اپنے بچوں کے لیے گرم کھانا تیار کرنے سے محروم ہیں اور بہت سے معمر افراد ایک مرتبہ پھر سرد گھروں میں تنہا رہ گئے ہیں۔ توانائی کے نظام پر یہ خوفناک حملے بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہیں اور انہیں فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔
جوہری سلامتی کے خدشات
ان حملوں نے جوہری سلامتی کے حوالے سے بھی نئے خدشات کو جنم دیا ہے۔ جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے 'آئی اے ای اے' کے مطابق، حملوں میں کئی ایسے بجلی گھر متاثر ہوئے ہیں جن کا جوہری سلامتی میں اہم کردار ہوتا ہے۔ سابق چرنوبل جوہری پاور پلانٹ کو عارضی طور پر بیرونی بجلی کی فراہمی سے مکمل طور پر محروم ہونا پڑا جبکہ دیگر جوہری تنصیبات تک جانے والی بجلی کی لائنیں بھی متاثر ہوئیں۔
اگرچہ چرنوبل پلانٹ برسوں پہلے بجلی پیدا کرنا بند کر چکا ہے تاہم اسے ٹھنڈا رکھنے کے نظام، تابکاری کی نگرانی اور جوہری فضلے کے محفوظ انتظام کے لیے بجلی کی مسلسل فراہمی ناگزیر ہے۔
ادارے کے ڈائریکٹر جنرل رافائل مینوئل گروسی نے کہا ہے کہ ادارہ ان حملوں سے جوہری سلامتی پر مرتب والے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔