انسانی کہانیاں عالمی تناظر

سرکاری اہلکاروں کی بدعنوانی کے بغیر انسانی سمگلنگ ناممکن، یو این ادارہ

media:entermedia_image:b953895a-34a2-436a-8cfb-e829f91d8988
© IOM/Sibylle Desjardins
مونا ایک ایجنٹ کے ذریعے ایک خلیجی ریاست میں روزگار کے لیے پہنچی لیکن وہاں جا کر انہیں پتہ چلا کہ ان کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔

سرکاری اہلکاروں کی بدعنوانی کے بغیر انسانی سمگلنگ ناممکن، یو این ادارہ

جرائم کی روک تھام اور قانون

2011 میں چلی میں ایک انسانی سمگلر کو اس جرم میں سزا سنائی گئی کہ اس نے پیرو کے غریب شہریوں کو اچھے مستقبل کا لالچ دے کر چلی منتقل کرنے کا انتظام کیا جہاں ان کا جنسی استحصال کیا جانا تھا۔ اس منصوبے میں چلی کی سرحد پر تعینات ایک پولیس افسر بھی شریک تھا جس نے اس جرم کے لیے معاونت فراہم کی۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسداد منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) کی نئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگر سرحدی محافظ، سرکاری اہلکار اور ادارے رقم یا جنسی فوائد کے بدلے آنکھیں بند نہ کریں یا خود بلیک میلنگ کا شکار نہ ہوں تو اس قدر بڑے پیمانے پر انسانی سمگلنگ ممکن نہیں ہو گی۔

اس رپورٹ میں انسانی سمگلنگ اور بدعنوانی کے درمیان پوشیدہ روابط کو بے نقاب کیا گیا ہے۔یہ تقریباً 80 ممالک میں انسانی سمگلنگ کے 120 سے زیادہ واقعات کا تجزیہ پیش کرتی ہے۔ اسے 30 سے زیادہ ممالک کے پالیسی سازوں، ماہرین استغاثہ، تفتیش کاروں اور آزاد ماہرین سے مشاورت کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔ 

بدعنوانی اور انسانی سمگلنگ کا گہرا تعلق 

انسانی سمگلنگ سے وابستہ جرائم میں جنسی استحصال، جبری مشقت، جبراً بھیک منگوانا، انسانی اعضا کی غیر قانونی تجارت اور پیوندکاری اور بچوں کو غیر قانونی طور پر گود لینے جیسے جرائم بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ سے واضح ہوتا ہے کہ بدعنوانی انسانی سمگلنگ کے ہر مرحلے میں سرایت کیے ہوئے ہے اور اسے ممکن بناتی ہے۔ سمگل کیے جانے والے لوگوں کو پھانسنے اور انہیں دوسرے علاقوں یا ممالک میں پہنچانے کے دوران بدعنوان اہلکار جعلی دستاویزات فراہم کرتے ہیں، بے قاعدگیوں کو نظرانداز کرتے ہیں اور جعلی اداروں یا منظم جرائم پیشہ گروہوں سے ملی بھگت کرتے ہیں۔

سرحدی گزرگاہوں پر رشوت اور بدعنوانی کے ذریعے حاصل کردہ کاغذات لوگوں کی مختلف ممالک اور علاقوں کی جانب منتقلی میں مدد دیتے ہیں۔

جب کوئی فرد استحصال کا شکار ہو جاتا ہے تو اس کے لیے مدد مانگنا عموماً ناممکن حد تک مشکل ہوتا ہے۔ بدعنوانی زراعت، تعمیرات، ماہی گیری اور گھریلو ملازمت جیسے شعبوں میں جاری استحصالی سرگرمیوں کو تحفظ فراہم کرتی ہے اور متاثرین کو جبری مشقت، جنسی استحصال اور جبری مجرمانہ سرگرمیوں میں جکڑے رکھتی ہے۔

بدعنوانی انسانی سمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں بھی رکاوٹ بنتی ہے، چاہے وہ پولیس کی تفتیش ہو، مقدمات کی پیروی، عدالتی فیصلے یا متاثرین کو مدد فراہم کرنے کے اقدامات ہوں۔

'یو این او ڈی سی' کے اقدامات 

'یو این او ڈی سی' بدعنوانی اور انسانی سمگلنگ کے اس شیطانی چکر کو توڑنے کے لیے رکن ممالک کی معاونت کر رہا ہے جس میں ایسے قوانین کی تشکیل بھی شامل ہے جن کے ذریعے انسانی سمگلنگ میں ملوث سرکاری اہلکاروں کو سخت سزائیں دی جائیں اور متاثرین کے لیے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی محفوظ انداز میں اطلاعات فراہم کرنا ممکن ہو۔

اقوام متحدہ کے دیگر ادارے بھی اس جدوجہد میں شریک ہیں۔ عالمی ادارہ مہاجرت (آئی او ایم) کی  معاونت سے مالدووا نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا کہ وہ سرحد پار جرائم، بشمول انسانی سمگلنگ کی نشاندہی اور روک تھام کے لیے اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کر رہا ہے۔ یہ اقدامات اس کے نئے پیسنجر انفارمیشن یونٹ (پی آئی یو) کے صدر دفتر کے ذریعے اٹھائے جا رہے ہیں۔

'پی آئی یو' اقوام متحدہ کے جدید سافٹ ویئر سے لیس ہے جو مسافروں کے بارے میں معلومات کو بہتر انداز میں جمع کرنے، ان کے تجزیے اور اس کی روشنی میں فوری اقدامات کو ممکن بناتا ہے۔ مالدووا اس نظام کو اپنانے والا ساتواں ملک ہے جبکہ اس سے قبل ناروے، لکسمبرگ، بوٹسوانا، جارجیا، فلپائن اور منگولیا بھی اس سے کام لے رہے ہیں۔