پاکستان: تولیدی صحت میں بہتری لیکن غربت اور سماجی رویے اب بھی رکاوٹیں
پاکستان میں دوران زچگی طبی خدمات اور خاندانی منصوبہ بندی تک رسائی میں بہتری آئی ہے، تاہم خواتین کی بڑی تعداد اب بھی تعلیم کی کمی، غربت، تشدد اور صحت کے نظام میں خامیوں کے باعث اپنے بنیادی تولیدی حقوق سے محروم ہے۔
اقوام متحدہ کے فنڈ برائے آبادی (یو این ایف پی اے) کی جانب سے پاکستان میں تولیدی خودمختاری سے متعلق نئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خواتین کی شادی کی اوسط عمر میں گزشتہ تین دہائیوں کے دوران بتدریج اضافہ ہوا ہے۔ سال 91-1990 میں خواتین کی پہلی شادی کی اوسط عمر 18.6 سال تھی جو 18-2017 میں بڑھ کر 20.4 سال ہو گئی۔ اس پیش رفت کے باوجود یہ عمر عالمی سطح پر تجویز کردہ کم از کم 21 سال کی عمر سے کم ہے۔
اس حوالے سے پاکستان کے دیہی اور شہری علاقوں کے درمیان واضح فرق بھی برقرار ہے۔ شہری خواتین دیہی خواتین کے مقابلے میں تاخیر سے شادی کرتی ہیں۔ اس کی بڑی وجوہات میں تعلیم، قانون کے نفاذ اور سماجی روایات کا فرق ہیں۔
اس رپورٹ میں پاکستان کی آبادی اور صحت سے متعلق تحقیق (پی ڈی ایچ ایس) کے نتائج اور عالمی تقاضوں کی روشنی میں ملک میں تولیدی خودمختاری کی صورتحال کا جامع جائزہ لیا گیا ہے۔
تعلیم، تحفظ اور خودمختاری
رپورٹ کے مطابق تولیدی خودمختاری کا مطلب یہ ہے کہ خواتین اور مرد کسی جبر، تشدد یا امتیاز کے بغیر شادی، بچے پیدا کرنے اور مانع حمل کے طریقوں کے بارے میں آگاہی پر مبنی اور آزادانہ فیصلے کر سکیں۔ تاہم پاکستان میں جسمانی تحفظ، صحت کی سہولیات تک رسائی اور گھریلو فیصلہ سازی جیسے بنیادی پہلوؤں کے حوالے سے عدم مساوات اب بھی موجود ہے۔
رپورٹ میں تعلیم کو خواتین کے تحفظ اور خودمختاری کا سب سے طاقتور ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین کی شادی کی اوسط عمر تقریباً 25 سال ہے جبکہ ناخواندہ خواتین کی شادی اوسطاً 18 سے 19 سال کی عمر میں ہو جاتی ہے۔ اسی طرح، معاشی حالات بھی کم عمری کی شادی کے خطرے کو بڑھاتے ہیں۔ غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کو امیر گھرانوں کے مقابلے میں کہیں پہلے شادی کرنا پڑتی ہے۔
تشدد اور تولیدی اختیار
رپورٹ میں تشدد کو تولیدی خودمختاری کی راہ میں سنگین رکاوٹ قرار دیا گیا ہے۔ 18-2017 کے اعداد و شمار کی رو سے تقریباً 24 فیصد شادی شدہ خواتین نے شوہروں کی جانب سے جسمانی یا جنسی تشدد کا سامنا کیا۔
یہ شرح غریب گھرانوں میں نمایاں طور پر زیادہ پائی گئی جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ معاشی عدم مساوات خواتین کو تشدد کے خطرے سے دوچار کرتی ہے۔
رپورٹ میں خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں مانع حمل طریقوں کے بارے میں آگاہی پر مبنی انتخاب کی صورتحال تشویشناک ہے۔ 18-2017 میں صرف 19 فیصد خواتین کو مانع حمل طریقوں کے مضر اثرات، ان سے نمٹنے کے طریقوں اور متبادل کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کی گئیں۔ یہ شرح گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کم ہوئی ہے جو صحت کے نظام میں مشاورت اور تربیت کی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ خاص طور پر دیہی علاقوں میں خواتین عام طور پر شوہر یا سسرال کے دباؤ میں فیصلے کرنے پر مجبور ہوتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، مانع حمل طریقوں کے استعمال میں مجموعی طور پر اضافہ ہوا ہے، تاہم جدید طریقوں کا استعمال تقریباً 25 فیصد تک ہی محدود ہے۔ غریب، کم تعلیم یافتہ اور دیہی خواتین جدید مانع حمل سہولیات سے بہت کم فائدہ اٹھا رہی ہیں۔
جنسی معاملات میں عدم اختیار
اس رپورٹ میں فیصلہ سازی کے حوالے سے انکشاف کیا گیا ہے کہ صرف 31 فیصد خواتین ہی جنسی تعلقات، مانع حمل طریقوں کے استعمال اور صحت کی دیکھ بھال کے بارے میں مکمل خودمختار فیصلے کر پاتی ہیں۔ گھریلو سطح پر بھی خواتین کا کردار محدود ہے۔ صرف 10 فیصد خواتین اپنی صحت سے متعلق فیصلے خود کرتی ہیں جبکہ اکثریت میں یہ فیصلے شوہر کرتے ہیں یا مشترکہ طور پر لیے جاتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، مشترکہ فیصلہ سازی بظاہر مثبت نظر آتی ہے لیکن اکثر صورتوں میں اس کے پیچھے گھریلو خودمختاری کا عدم توازن موجود ہوتا ہے۔
یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کے تیزی سے بڑھتے ہوئے ممالک میں شامل ہے، جہاں آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ اگرچہ یہ صورتحال معاشی مواقع پیدا کر سکتی ہے لیکن بلند شرح پیدائش، محدود تولیدی خودمختاری اور تعلیم و روزگار کے ناکافی مواقع اس ممکنہ فائدے کو خطرے میں بدل سکتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت کو خواتین کی تعلیم، معاشی بااختیاری، قانونی اصلاحات اور صحت کے نظام میں معیار اور مساوات کو یقینی بنانا ہو گا۔ حقیقی تولیدی خودمختاری نہ صرف ایک بنیادی انسانی حق ہے بلکہ صحت مند خاندانوں، مستحکم معیشت اور پائیدار ترقی کے لیے بھی ناگزیر ہے۔