اسرائیل نے مشرقی یروشلم میں یو این ادارے کا ہیڈکوارٹر مسمار کر دیا
مشرقی یروشلم میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (انروا) کے ہیڈکوارٹر کو مسمار کر دیا گیا ہے۔ ادارے نے اس اقدام کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقوام متحدہ پر ایسا حملہ ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔
ادارے کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے کہا ہے کہ ہر جگہ اقوام متحدہ کی عمارتوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ یہ اقدام اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قانون، بالخصوص اقوام متحدہ کے استحقاق اور استثنیٰ کی انتہائی خطرناک، کھلی اور دانستہ خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا ہے کہ آج جو کچھ 'انروا' کے ساتھ ہو رہا ہے کل وہ مقبوضہ فلسطینی علاقے یا دنیا کے کسی بھی حصے میں کسی اور بین الاقوامی ادارے یا سفارتی مشن کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔
'انروا' کے ہیڈکوارٹر کو مسمار کرنے کا واقعہ منگل کی صبح پیش آیا اور بظاہر یہ کارروائی ارکان پارلیمان اور حکومت کے ایک رکن کی نگرانی میں ہوئی۔
اقوام متحدہ کے خلاف بڑھتے حملے
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے بھی اس واقعے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے جو اسرائیلی حکام اور ادارے کے درمیان کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔
ہائی کمشنر کی ترجمان روینہ شمداسانی نے کہا ہے کہ یہ واقعہ امدادی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے اداروں کو نشانہ بنانے کے رجحان میں شدت کا اظہار ہے۔ قبل ازیں 14 جنوری کو اسرائیلی افواج نے مشرقی یروشلم میں واقع 'انروا' کے ایک طبی مرکز میں داخل ہو کر اسے بند کرنے کا حکم دیا تھا۔ آئندہ ہفتوں میں ادارے کی مختلف تنصیبات بشمول طبی و تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی عمارتوں کو پانی اور بجلی کی فراہمی منقطع کیے جانے کا بھی منصوبہ ہے۔
عالمی عدالت کی حکم عدولی
فلپ لازارینی کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات اسرائیلی پارلیمان کی جانب سے دسمبر میں ہونے والی اس قانون سازی کا براہ راست نتیجہ ہیں جس نے 2024 میں ادارے کے خلاف منظور کیے گئے قوانین کو مزید سخت بنا دیا ہے۔
اس سے پہلے 'انروا' کی عمارتوں کو نذرآتش کیا جا چکا ہے جو اسرائیل کی جانب سے ادارے کے خلاف وسیع پیمانے پر چلائی جانے والی غلط اطلاعات کی مہم کے تناظر میں ہوا۔
گزشتہ اکتوبر میں عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) نے واضح کیا تھا کہ اسرائیل پر لازم ہے کہ وہ 'انروا' کی کارروائیوں کو روکنے یا ان میں رکاوٹ ڈالنے کے بجائے انہیں سہولت فراہم کرے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ اسرائیل کو مشرقی یروشلم پر کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔
کمشنر جنرل نے خبردار کیا ہے کہ بین الاقوامی قانون طویل عرصہ سے بڑھتے ہوئے حملوں کی زد میں ہے اور رکن ممالک کے موثر ردعمل کے بغیر اس کے غیرفعال ہو جانے کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔