غزہ میں انسانی امداد کی ترسیل جبکہ ہیبرون میں اسرائیل کا کرفیو
ہنگامی امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے ہیبرون کے بعض حصوں میں 25 ہزار فلسطینیوں پر کرفیو نافذ کر دیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، علاقے میں فوجی گاڑیوں کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے، عمارتوں کی چھتوں پر نشانہ باز موجود ہیں جبکہ چھ سڑکیں بند کر دی گئی ہیں۔
ان حالات میں دکانوں اور تنوروں نے کام چھوڑ دیا ہے جہاں سے تقریباً چار ہزار افراد اشیائے خورونوش حاصل کرتے تھے۔ علاوہ ازیں، درجن سے زیادہ سکولوں میں تدریسی سرگرمیاں بھی معطل کر دی گئی ہیں جس سے ہزاروں طلبہ متاثر ہوئے ہیں۔
ادارے نے بتایا کہ مقامی بجلی گھر کو نقصان پہنچنے کے باعث گزشتہ ہفتے کے آخر سے علاقے میں بجلی طویل وقفوں کے لیے بند ہو رہی ہے۔ کرفیو کے باعث بہت سے خاندان اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں اور انہیں خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی ضروریات تک رسائی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
'ڈبلیو ایف پی' کے امدادی اقدامات
عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے غزہ میں جنگ بندی کے 100 دن بعد اپنی امدادی کارروائیوں میں توسیع کر دی ہے جس کے تحت ہر ماہ 10 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو ضروری غذائی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ اس امداد میں راشن کے پیکٹ، روٹی، تیار کھانے اور سکولوں کے لیے خوراک شامل ہے۔
ادارہ اور اس کے شراکت دار غزہ بھر میں سیکڑوں امدادی مراکز اور 20 گودام چلا رہے ہیں جن کے تحت درج ذیل امداد مہیا کی جا رہی ہے:
- ہر ماہ 10 لاکھ سے زیادہ افراد کو مکمل غذائی راشن بشمول آٹے کے دو تھیلوں اور ملی جلی خوراک کے دو پیکٹوں کی فراہمی۔
- 45 اجتماعی باورچی خانوں کے ذریعے روزانہ چار لاکھ سے زیادہ گرم کھانوں کی تقسیم۔
- دو لاکھ حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین اور پانچ سال سے کم عمر بچوں کے لیے غذائی قلت سے بچاؤ کی خدمات، ماہانہ 14 ہزار خواتین کے لیے علاج معالجے کی سہولیات۔
- 250 عارضی تعلیمی مراکز میں دو لاکھ 35 ہزار بچوں کے لیے کھانے کی فراہمی۔
- ہر ماہ تقریباً 60 ہزار خاندانوں کو مقامی منڈیوں سے خوراک خریدنے کے لیے مالی معاونت مہیا کرنے کے اقدامات۔
علاوہ ازیں، ادارہ خیموں، کمبلوں، کپڑے دھونے کے انتظام اور گدوں کی ترسیل میں بھی امدادی اداروں کی معاونت کر رہا ہے۔
شدید غذائی عدم تحفظ
اگرچہ قحط سے بچاؤ کی سمت نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم 'ڈبلیو ایف پی' نے خبردار کیا ہے کہ صورتحال اب بھی انتہائی نازک ہے۔ تمام سرحدی گزرگاہوں کو کھلا رکھنا، انسانی امداد اور تجارتی اشیا کی بلاتعطل فراہمی اور جنگ بندی کا برقرار رہنا اس امر کے لیے ناگزیر ہے کہ غزہ دوبارہ تباہ کن قحط کی لپیٹ میں نہ چلا جائے۔
غزہ کی 77 فیصد آبادی اب بھی شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے، جبکہ ایک لاکھ سے زیادہ لوگ قحط کی بدترین سطح پر زندگی گزار رہے ہیں۔ غزہ کے بیشتر گھرانوں کا انحصار اب بھی غذائی امداد پر ہے۔
ادارے نے واضح کیا ہے کہ ضروری امداد کے ساتھ روزگار کی بحالی، متنوع غذا کی فراہمی میں اضافے اور خود کفالت کی طرف پیش رفت بھی ضروری ہے۔ اگرچہ غزہ میں تجارتی سامان کی آمد میں اضافہ ہوا ہے، تاہم خوراک کی بلند قیمتوں کے باعث بیشتر خاندان اسے خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
امدادی راہداریوں کی ضرورت
'ڈبلیو ایف پی' نے مطالبہ کیا ہے کہ سرحدی راستے کھلے رہنے چاہئیں، خوراک اور تجارتی سامان کی ترسیل جاری رہے اور جنگ بندی برقرار رکھی جائے تاکہ غزہ دوبارہ بھوک کا شکار نہ ہو۔
ادارے نے کہا ہے کہ اردن اور مصر کے راستے مزید محفوظ امدادی راہداریوں کا قیام ضروری ہے تاکہ خوراک، پانی، ادویات اور پناہ گاہوں کی فراہمی ممکن ہو سکے۔ غزہ میں صلاح الدین روڈ کی بحالی نقل و حمل کو موثر بنائے گی اور سلامتی کے خطرات کو کم کرے گی۔
غزہ کے خاندانوں کے لیے بحالی کا سفر طویل ہے، تاہم ادارہ کمزور ترین طبقات کی مدد کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے تاکہ استحکام، وقار اور امید کو یقینی بنایا جا سکے۔
حفاظتی ٹیکوں کی مہم
اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)، ادارہ برائے اطفال (یونیسف) اور فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے ادارے (انروا)نے امدادی شراکت داروں اور وزارت صحت کے تعاون سے غزہ میں معمول کی ضمنی ویکسینیشن مہم کے دوسرے مرحلے کا آغاز کیا ہے۔
مہم آئندہ جمعرات تک جاری رہے گی جس کا مقصد تین سال سے کم عمر بچوں کو قابل انسداد بیماریوں سے مزید تحفظ فراہم کرنا ہے۔ یہ مہم تقریباً 130 طبی مراکز میں 170 ٹیموں کے ذریعے چلائی جا رہی ہے جبکہ سات متحرک ٹیمیں دور دراز اور مشکل رسائی والے علاقوں میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ مہم کا تیسرا اور آخری مرحلہ اپریل میں شروع ہو گا۔