سوڈان میں جنسی زیادتی کا بطور جنگی ہتھیار استعمال، نزہت خان
عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی نائب پراسیکیوٹر نزہت شمیم خان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ سوڈان کے جنگ زدہ خطے دارفور میں اجتماعی قتل، جنسی زیادتی اور نسلی بنیاد پر حملوں جیسے مظالم تشدد کی منظم مہم کے تحت ایک سے دوسرے علاقے تک پھیلتے جا رہے ہیں۔
انہوں نے سلامتی کونسل کو سوڈان کی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ دارفور کی صورتحال مزید تاریک ہو چکی ہے جہاں شہری اجتماعی اذیت کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہیں جو حالات درپیش ہیں وہ جنگی اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مترادف ہیں۔
علاقے میں منظم اور وسیع پیمانے پر اجتماعی مجرمانہ کارروائیاں ہو رہی ہیں جن میں بڑے پیمانے پر ماورائے عدالت سزائے موت دینے کے واقعات بھی شامل ہیں۔ ان مظالم کو علاقے پر تسلط جمانے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
غیر عرب لوگوں کے خلاف مظالم
نزہت شمیم خان نے کہا کہ شمالی دارفور کے دارالحکومت الفاشر پر سوڈانی مسلح افواج کی حریف ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے قبضے کے بعد سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ایذا رسانی کی مہم شروع کی گئی جس میں خاص طور پر غیر عرب لوگوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان جرائم میں عصمت دری، ناجائز گرفتاریاں، سزائےموت اور اجتماعی قبروں کی تیاری شامل ہے اور مجرم ایسے واقعات کی ویڈیو بنا کر خوشی کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
ویڈیوز میں وہی طرزِ عمل نظر آتا ہے جو دارفور میں ماضی کے مظالم کے دوران دیکھا گیا تھا، جن میں غیر عرب قبائل سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو حراست میں لینا، تشدد کا نشانہ بنانا اور انہیں قتل کرنا شامل ہے۔
الغنینہ میں جرائم کی تحقیقات
پراسیکیوٹر کے دفتر نے الغنینہ میں ہونے والے جرائم کی تحقیقات میں بھی پیش رفت کی ہے جہاں عینی شاہدین نے پناہ گزین کیمپوں پر حملوں، لوٹ مار، صنفی تشدد اور بچوں کے خلاف جرائم کی شہادتیں فراہم کی ہیں۔
2023 میں اس علاقے میں جنگ کے دوران بدترین تشدد دیکھنے میں آیا جب 'آر ایس ایف' اور اس کی اتحادی ملیشیاؤں نے مسالیت برادری کا قتل عام کیا جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد ہمسایہ ملک چاڈ میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔
اقوام متحدہ کے حکام اور انسانی حقوق سے متعلق غیرجانبدار تفتیش کاروں نے ان حملوں کو نسلی بنیادوں پر کیا جانے والا تشدد قرار دیا اور انسانیت کے خلاف جرائم کے خدشات ظاہر کیے۔
نزہت شمیم خان نے کہا کہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے الغنینہ میں دیکھے گئے مظالم کا انداز اب الفاشر میں بھی دہرایا جا رہا ہے۔ جب تک یہ تنازع اور اسے ہوا دینے والا عدم احتساب کا احساس ختم نہیں ہوتا، یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
جنسی تشدد کا جنگی ہتھیار
نائب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا، جنسی تشدد، بشمول زیادتی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اور صنفی بنیاد پر جرائم کو آئی سی سی کی تحقیقات میں ترجیح بنایا گیا ہے۔
انہوں نے اس معاملے میں ثقافتی اور سلامتی کی رکاوٹوں کا اعتراف کیا جو متاثرین کو شکایت درج کرانے سے روکتی ہیں اور زور دیا کہ ایسے جرائم کی تحقیقات صنفی حساسیت اور متاثرین کے تحفظ کو مدنظر رکھ کر کی جانی چاہئیں۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 'آئی سی سی' سوڈانی مسلح افواج کے مبینہ جرائم کو بھی دستاویزی شکل دے رہی ہے اور واضح کیا کہ تنازع کے تمام فریقین بین الاقوامی قانون کے تحت شہریوں کے تحفظ کے پابند ہیں۔
جرائم پر عدم احتساب
نزہت شمیم خان نے گزشتہ سال اکتوبر میں سابق جنجاوید ملیشیا کے کمانڈر علی محمد علی عبدالرحمٰن المعروف علی کشیب کی 'آئی سی سی' سے سزا کو احتساب کی سمت ایک اہم پیش رفت قرار دیا لیکن خبردار کیا کہ جاری مظالم کی وسعت اس پیش رفت کو بے معنی بنا رہی ہے۔
انہوں نے سوڈانی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ ان اعلیٰ سطحی ملزموں کے خلاف کارروائی کریں جنہیں عدالت طویل عرصہ سے تلاش کر رہی ہے۔ ان میں سوڈان کے سابق صدر عمرالبشیر، سابق وزیر داخلہ احمد ہارون اور سابق وزیر دفاع عبدالرحیم محمد حسین شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ سطح پر گرفتاریوں کے بغیر دارفور کے متاثرین کے لیے انصاف محض کھوکھلا وعدہ رہے گا۔