انسانی کہانیاں عالمی تناظر

لیبیا: غیر قانونی حراستی مراکز میں قید سیکڑوں تارکین وطن رہا

لیبیا میں کئی اجتماعی قبریں دریافت ہوئی تھیں (فائل فوٹو)۔
ICC
لیبیا میں تارکین وطن کی اجتماعی قبریں دریافت ہوتی رہتی ہیں (فائل فوٹو)۔

لیبیا: غیر قانونی حراستی مراکز میں قید سیکڑوں تارکین وطن رہا

مہاجرین اور پناہ گزین

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے مشرقی لیبیا میں غیر قانونی حراستی مراکز سے رہائی پانے والے سیکڑوں افراد کی مدد کے لیے ہنگامی ٹیمیں تعینات کر دی ہیں جنہیں انتہائی غیر انسانی اور ہولناک حالات میں قید رکھا گیا تھا۔

گزشتہ ہفتے لیبیا کے حکام نے اجدابیہ میں قائم ایک غیر قانونی حراستی مرکز پر چھاپہ مار کر اسے بند کیا جس کے نتیجے میں 195 مہاجرین کو رہائی ملی جبکہ مرکز کے قریب قبروں سے 21 افراد کی لاشیں بھی برآمد ہوئیں۔

Tweet URL

ابتدائی تحقیقات سے اندازہ ہوتا ہے کہ متاثرین کو قید میں رکھ کر ان پر تشدد کیا گیا تاکہ ان کے اہلخانہ سے تاوان وصول کیا جا سکے۔

ادارے نے متاثرین کی بازیابی اور تحقیقات کے آغاز پر لیبیا کے حکام کی کوششوں کا خیر مقدم کیا ہے۔ تاہم یہ بھی کہا گیا ہے کہ مہاجرین کے تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے، انسانی سمگلنگ کے گروہوں کو ختم کرنے اور ذمہ دار عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی ضرورت ہے۔

زیر زمین قید خانہ 

کفرہ نامی علاقے میں ہونے والی ایک اور کارروائی میں سکیورٹی فورسز نے زمین سے تین میٹر نیچے قائم خفیہ حراستی مرکز کا پتا چلایا ہے۔ اس جگہ سے 221 مہاجرین کو آزاد کرایا گیا جن میں خواتین اور چھوٹے بچے بھی شامل تھے۔

ان  میں سے کم از کم دس افراد کو فوری طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا کیونکہ طویل عرصہ تک انتہائی غیر انسانی حالات میں قید رہنے کے بعد ان کی جسمانی حالت خراب ہو چکی تھی۔ 

لیبیا میں 'آئی او ایم' کی سربراہ نیکولیٹا جیوردانو نے کہا ہے کہ یہ چونکا دینے والے واقعات اس سنگین خطرے کو واضح کرتے ہیں جس کا سامنا ان مہاجرین کو ہوتا ہے جو ہجرت کے راستوں پر سرگرم جرائم پیشہ گروہوں کا شکار بن جاتے ہیں۔

ادارے کی ٹیمیں متاثرین کے طبی معائنے کر رہی ہیں، تشویشناک حالت والے لوگوں کو ہسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے اور زندہ بچ جانے والوں کو گرم لباس مہیا کیے جا رہے ہیں۔