یمن خانہ جنگی: پیچیدہ صورتحال میں انسانی بحران مزید ہولناک، یو این
یمن میں جنگ سے جڑی نئی سیاسی بے یقینی اور معاشی مشکلات نے شدید بھوک، بیماری اور نقل مکانی کا سامنا کرتے کمزور لوگوں کی مدد کے کام کو مزید پیچیدہ اور مشکل بنا دیا ہے۔
یمن میں اقوام متحدہ کے نمائندے اور امدادی رابطہ کار جولین ہارنیس نے کہا ہے کہ ملک میں حالات روزبروز بگڑتے جا رہے ہیں جہاں بھوک اور بیماری کے باعث بچوں کی ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔ خدشہ ہے کہ آئندہ ایک سال میں اموات اور بیماریوں کی شرح میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہو سکتا ہے۔
یہ انتباہ اس وقت سامنے آیا ہے جب جنوبی عبوری کونسل (ایس ٹی سی) سے وابستہ فورسز نے وسائل سے مالا مال اور تزویراتی اہمیت رکھنے والے مشرقی صوبوں حضرموت اور المہرہ میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کی جسے اطلاعات کے مطابق رواں ماہ کے آغاز میں سعودی عرب کی حمایت یافتہ سرکاری فورسز نے ناکام بنا دیا۔
یہ تازہ ترین بحران ایک دہائی سے زیادہ عرصہ سے جاری جنگ کے بعد سامنے آیا ہے جو دارالحکومت صنعا پر قابض انصاراللہ (حوثیوں) کی فورسز اور عدن میں قائم بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے درمیان جاری ہے جبکہ موخرالذکر کو سعودی قیادت میں فوجی اتحاد کی حمایت حاصل ہے۔
پیچیدہ سیاسی حالات
جولین ہارنیس نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ یہ ایک غیر معمولی حد تک پیچیدہ صورتحال ہے۔ گزشتہ مہینے عدن پر یمنی حکومت کی عملداری تھی لیکن 48 گھنٹوں کے اندر جنوبی عبوری کونسل نے حکومت زیرانتظام تمام علاقوں پر قبضہ کر لیا۔
اس سے چار ہفتے بعد سعودی عرب میں جنوبی عبوری کونسل کے ایک وفد نے بیان جاری کیا کہ انہوں نے درحقیقت اپنی تحریک تحلیل کر دی ہے، جس کے بعد حالیہ ایام میں حکومت نے اپنے علاقوں کا کنٹرول دوبارہ سنبھال لیا۔ تاہم، جولین ہارنیس کے مطابق، عدن میں مظاہرے ہو رہے ہیں جہاں لوگ کہہ رہے ہیں کہ تحریک تحلیل نہیں ہوئی اور وہ اب بھی ان علاقوں میں موجود ہیں۔
گزشتہ ہفتے یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہینز گرنڈبرگ نے سلامتی کونسل کو بتایا تھا کہ یہ بحران اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ جنگ کے مذاکراتی خاتمے کی راہ ہموار کرنے والے قابل اعتماد اور جامع سیاسی عمل کے بغیر استحکام کا کوئی وجود نہیں ہو گا۔
بدترین غذائی عدم تحفظ
اقوام متحدہ کی جاری کردہ تازہ ترین معلومات کے مطابق، آئندہ مہینے دو کروڑ سے زیادہ یمنی لوگوں یعنی ملک کی نصف آبادی کو شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا ہو گا جبکہ ہزاروں افراد قحط جیسی صورتحال کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ان حالات میں خدشہ ہے کہ رواں سال حالات کہیں زیادہ خراب ہوں گے۔
ملک میں صحت کا نظام بھی تباہی کے دہانے پر ہے۔ 450 سے زیادہ طبی مراکز پہلے ہی بند ہو چکے ہیں اور مزید ہزاروں کے لیے امدادی وسائل کی فراہمی رک جانے کا خدشہ ہے۔ حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام بھی خطرے میں ہیں اور یمن کے صرف دو تہائی بچوں کو ہی مکمل طور پر ویکسین مل سکی ہے۔
جس طرح معاشی اور سیاسی فیصلے سامنے آ رہے ہیں اس کے نتیجے میں ملک کے تمام حصوں میں غذائی عدم تحفظ بدترین صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ رسائی کے مسائل کے باوجود، اقوام متحدہ کے شراکت داروں نے گزشتہ سال 34 لاکھ لوگوں تک غذائی امداد پہنچائی جبکہ سیلاب اور بیماریوں کے پھیلاؤ کے دوران بھی ہنگامی مدد فراہم کی گئی۔
یمن کے لوگوں کا پرامن مستقبل یقینی بنانا اور انہیں ضروری امداد فراہم کرنا اس وجہ سے بھی مشکل ہو گیا ہے کہ حوثیوں نے اقوام متحدہ کے عملے اور سفارتی اہلکاروں سمیت کئی افراد کو حراست میں لے رکھا ہے۔