سزائے موت پر عملدرآمد میں وسیع اضافہ، ایران اور سعودی عرب سب سے آگے
عالمی سطح پر سزائے موت کے مکمل خاتمے کی جانب رجحان برقرار ہے، تاہم گزشتہ سال دنیا بھر میں اس سزا پر عملدرآمد میں بڑے پیمانے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کی بنیادی وجہ ایسے ممالک ہیں جہاں سزائے موت اب بھی برقرار ہے اور وہاں پھانسیوں کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے بتایا ہے کہ ان کے دفتر نے 2025 میں سزائے موت پر عملدرآمد میں تشویشناک اضافہ ریکارڈ کیا۔ موت کی بیشتر سزائیں ایسے جرائم پر دی گئیں جو بین الاقوامی قانون کے تحت انتہائی سنگین جرم کے معیار پر پورا نہیں اترتے۔ علاوہ، ازیں نوعمری میں کیے گئے جرائم پر موت کی سزا پانے والوں کے بارے میں مسلسل رازداری بھی شدید تشویش کا باعث ہے۔
عالمی سطح پر اس اضافے کی ایک بڑی وجہ منشیات سے متعلق جرائم میں سزائے موت کا بڑھتا ہوا رجحان ہے جبکہ ایسے جرائم دانستہ قتل کے ذمرے میں نہیں آتے۔ موت کی سزا نہ صرف بین الاقوامی قانون کے منافی ہے بلکہ جرائم کی روک تھام میں بھی موثر ثابت نہیں ہوتی۔
ایران اور سعودی عرب کا ریکارڈ
ایران میں گزشتہ سال کم از کم 1,500 افراد کو پھانسی دیے جانے کی اطلاعات ہیں جن میں سے تقریباً 47 فیصد سزائیں منشیات سے متعلق جرائم پر دی گئیں۔ ہائی کمشنر کے مطابق، ملک میں پھانسیوں کی رفتار اور تعداد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سزائے موت کو ریاستی دباؤ اور خوف پھیلانے کے ایک منظم آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے جس کا غیر متناسب اثر نسلی اقلیتوں اور تارکین وطن پر پڑ رہا ہے۔
سعودی عرب میں گزشتہ سال کم از کم 356 افراد کو پھانسی دی گئی جو 2024 میں قائم ہونے والے ریکارڈ سے بھی زیادہ ہے۔ ان میں سے 78 فیصد افراد کو منشیات سے متعلق جرائم پر سزائے موت دی گئی جبکہ ایسے جرائم پر پھانسیوں کا دوبارہ آغاز 2022 کےآخر میں ہوا تھا۔
وولکر ترک نے بتایا ہے کہ سعودی عرب میں موت کی سزا پانے والوں میں کم از کم دو ایسے افراد شامل تھے جنہوں نے اپنے جرائم بچپن میں کیے تھے۔
امریکہ میں گزشتہ سال 47 افراد کو موت کی سزا دی گئی جو گزشتہ 16 برس کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ 2024 میں گیس کے ذریعے سزائے موت دینے کا طریقہ کار متعارف کرایا گیا جس سے تشدد یا ظالمانہ سزا کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
سرعام اور خفیہ سزائے موت
افغانستان میں سرعام سزائے موت دینے کا عمل بدستور جاری ہے جو بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ 11 اپریل 2025 کو صوبہ بادغیس، نیمروز اور فراه میں کھیلوں کے میدان چار سزا یافتہ قاتلوں کو مقتولین کے لواحقین کے ہاتھوں یہ سزا دی گئی۔ اگست 2021 کے بعد ملک کے طالبان حکام ایسے متعدد واقعات میں سزائے موت دے چکے ہیں۔
گزشتہ سال صومالیہ میں کم از کم 24 اور سنگاپور میں 17 افراد کو پھانسی دی گئی۔ چین اور شمالی کوریا میں سزائے موت کو خفیہ رکھا جاتا ہے جس کے باعث درست اعداد و شمار حاصل کرنا آسان نہیں ہے۔ بیلاروس میں قومی سلامتی اور دہشت گردی سے متعلق قوانین کے تحت سزائے موت کے دائرہ کار کو حال ہی میں مزید وسیع کیا گیا ہے۔
اسرائیل میں ایسے کئی مسودہ ہائے قانون زیرغور ہیں جن کے تحت سزائے موت کو وسعت دی جا سکتی ہے اور ان میں فلسطینیوں کے لیے لازمی سزائے موت کی شقیں بھی شامل کی جا رہی ہیں۔ یہ اقدامات منصفانہ عدالتی کارروائی، انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی کے خدشات کو جنم دیتے ہیں۔ غزہ میں حماس کی جانب سے دی جانے والی پھانسیاں بھی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
سزا میں کمی کے اقدامات
دوسری جانب، 2025 میں بعض ممالک نے سزائے موت میں کمی لانے یا اس کے خاتمے کی جانب حوصلہ افزا اقدامات بھی کیے۔ ویت نام نے سزائے موت کے قابل جرائم کی تعداد کم کی۔ پاکستان نے دو غیر مہلک جرائم کو سزائے موت کی فہرست سے نکال دیا، تاہم ملک میں اب بھی 29 جرائم پر یہ سزا برقرار ہے۔
زمبابوے نے 31 دسمبر 2024 کو عام جرائم کے لیے سزائے موت ختم کر دی جبکہ کینیا نے اس حوالے سے قانون سازی کا جائزہ لینا شروع کیا ہے۔ ملائیشیا میں ازسرنو سزا سنانے کے نتیجے میں ایک ہزار سے زیادہ لوگوں کو پھانسی کے خطرے سے نجات ملی۔ کرغیزستان میں آئینی عدالت نے سزائے موت پر پابندی کو برقرار رکھتے ہوئے اسے دوبارہ متعارف کرانے کی کوشش کو غیر آئینی قرار دیا۔
وولکر ترک نے کہا ہے کہ سزائے موت جرائم پر قابو پانے کا موثر ذریعہ نہیں اور اس کے نتیجے میں بے گناہ افراد کو بھی جان سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔ عملی طور پر یہ سزا اکثر ناجائز اور امتیازی بنیاد پر دی جاتی ہے جو قانون کے سامنے برابری کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔
ہائی کمشنر نے ایک مرتبہ پھر تمام ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سزا پر فوری پابندی عائد کریں، موجودہ سزاؤں کو عمر قید یا دیگر سزاؤں میں تبدیل کریں اور سزائے موت کے مکمل خاتمے کی جانب پیش رفت کریں۔