انسانی کہانیاں عالمی تناظر

علاقائی قوتیں سوڈان خانہ جنگی کے خاتمے میں کردار ادا کریں، وولکر ترک

سوڈان کے دارفور کے شہر تاویلا میں ایک وسیع پناہ گزین کیمپ، جہاں تقریباً 89,000 بے گھر افراد الفاشر سے فرار ہو گئے ہیں۔ اقوام متحدہ اور غیر سرکاری تنظیمیں خوراک، پانی، صحت کی دیکھ بھال اور نفسیاتی سماجی مدد سمیت امداد فراہم کرتی ہیں۔ بہت سے بے گھر خواتین ہیں جنہوں نے جنسی تشدد کا تجربہ کیا ہے۔
© UNOCHA/ Mohamed Galal
سوڈان میں خانہ جنگی کی وجہ سے لاکھوں لوگ گھر بار چھوڑ کر عارضی پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

علاقائی قوتیں سوڈان خانہ جنگی کے خاتمے میں کردار ادا کریں، وولکر ترک

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے کہا ہے کہ سوڈان ناقابل بیان ظلم و بربریت کا شکار ہے لیکن اقوام متحدہ لوگوں کو تحفظ اور مدد پہنچانے کے لیے ہرممکن اقدامات جاری رکھے گا۔

انہوں نے سوڈان کا دورہ مکمل کرنے کے بعد کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں سفاکیت کی داستان دنیا کی آنکھوں کے سامنے رقم ہو رہی ہے جو انسانیت کے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے اور اس سے نظریں چرائی نہیں جا سکتیں۔ علاقائی قوتوں اور اس جنگ کو ہتھیار فراہم کرنے یا اس سے معاشی فائدہ اٹھانے والوں کو اس ظلم کا خاتمہ کرنے کے لیے ہرممکن کردار ادا کرنا ہو گا۔

Tweet URL

ہائی کمشنر نے کہا کہ وہ سوڈان میں پانچ یوم گزار کر آئے ہیں جہاں انہوں نے قومی و مقامی حکام، غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندوں، انسانی امداد فراہم کرنے والے کارکنوں، صحافیوں، وکلا اور ان لوگوں سے ملاقات کی جو انتہائی تشدد اور بے رحمی کا شکار ہونے کے بعد نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ اس جنگ نے پورے ملک کو ایک ایسے اندھے گڑھے میں دھکیل دیا ہے جس کی گہرائی کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ مگر جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس تنازع نے امن، انصاف اور آزادی کی خواہش اور جدوجہد کو کمزور کر دیا ہے وہ غلطی پر ہیں۔ سوڈان میں انسانی ہمت اور ظلم سے انکار کی جرات آج بھی باقی ہے۔ 

انہوں نے بتایا کہ دورے میں ان کی ملاقات ایسے نوجوانوں سے بھی ہوئی جو انتہائی خطرات مول لے کر اور بہت سی رکاٹوں کا سامنا کرتے ہوئے لوگوں کو امداد پہنچا رہے ہیں۔ اسی طرح، خواتین کی قیادت میں چلنے والی تنظیمیں مظالم کا شکار خواتین کو مفت مدد فراہم کر رہی ہیں۔ ان لوگوں کو دیکھ کر امید زندہ رہتی ہے۔ وہ انہیں سلام پیش کرتے ہیں اور اقوام متحدہ ان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ 

جنسی تشدد کا جنگی ہتھیار 

ہائی کمشنر نے کہا کہ اس جنگ میں خواتین اور لڑکیوں کے جسم کو جنگی ہتھیار بنا دیا گیا ہے۔ سوڈان میں اقوام متحدہ کا دفتر برائے انسانی حقوق اکتوبر میں الفاشر اور گزشتہ برس زمزم پناہ گزین کیمپ پر حملوں میں جنسی تشدد کے واقعات کو دستاویزی شکل دے چکا ہے۔

اس جنگ میں پیش آنے والے ہولناک واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ جنسی تشدد جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ یہ ایک جنگی جرم ہے اور ادارے کے پاس ٹھوس شواہد ہیں کہ یہ جرم منظم اور وسیع پیمانے پر جاری ہے۔

وولکر ترک نے بتایا کہ انہوں نے الفاشر پر ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے حملے اور قبضے کے دوران وسیع پیمانے پر ماورائے عدالت قتل کی اطلاعات بھی سنی ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ شہر کے محاصرے کے دوران لوگوں کے لیے خشک دودھ یا آٹا لانے کی کوشش کرنے والوں کو بھی قتل کر دیا گیا۔ 

اس تنازع کے دوران، تمام فریقین نے انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین پامالیاں کی ہیں۔ ایسے بھیانک جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو کسی صورت بچ نکلنے نہیں دینا چاہیے چاہے ان کا تعلق کسی بھی فریق سے ہو۔

کردفان میں بربریت کا خطرہ 

ہائی کمشنر نے کہا کہ انہیں تشویش ہے کہ الفاشر جیسے مظالم کردفان میں دہرائے جانے کا سنگین خطرہ موجود ہے جہاں اکتوبر کے بعد تنازع تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اس خطے کی ریاستیں انتہائی غیر مستحکم ہیں جہاں مسلسل لڑائی، شدید گولہ باری، ڈرون حملوں اور بمباری کی اطلاعات ہیں۔ جنگ کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیل رہی ہے اور بنیادی خدمات کا خاتمہ ہو رہا ہے جس کی بھاری قیمت عام شہری ادا کر رہے ہیں۔

جنوبی کردفان کے شہر قادوقلی میں قحط کی تصدیق ہو چکی ہے اور دلنگ سمیت دیگر علاقوں میں قحط کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ الفاشر میں جو کچھ ہوا اس کے آثار مہینوں پہلے ظاہر ہو چکے تھے مگر انتباہ کو نظرانداز کیا گیا جس کے باعث ہولناک جرائم وقوع پذیر ہوئے۔ 

جنگی مقاصد کے لیے بچوں کی بھرتی

وولکر ترک نے کہا کہ جدید عسکری سازوسامان، خصوصاً بغیر پائلٹ ڈرون طیاروں کی بھرمار نے متحارب فریقین کی تباہ کن صلاحیت میں اضافہ کیا، جنگ کو طول دیا اور شہریوں کے لیے بحران کو مزید گہرا کیا ہے۔ یہ نہایت قابل نفرت ہے کہ جدید ہتھیار خریدنے پر خطیر رقوم خرچ کی جا رہی ہیں جبکہ یہی وسائل عوام کی تکالیف میں کمی لانے پر صرف ہونے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ انہیں سوڈانی معاشرے میں بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی پر بھی تشویش ہے جس میں شہریوں کو مسلح کرنے اور بچوں کو جنگی مقاصد کے لیے بھرتی کرنے کا رجحان نمایاں ہے۔ ڈونگولا اور پورٹ سوڈان میں 50 سے زیادہ مقامی و بین الاقوامی تنظیموں سے ملاقاتوں کے دوران انہوں نے مسلسل یہی اپیل سنی کہ اس پاگل پن کو روکا جائے اور این جی اوز، صحافیوں، وکلا اور امدادی کارکنوں کو بلا رکاوٹ اور بلا خوف اپنا کام کرنے دیا جائے۔

سول سوسائٹی اور میڈیا پر پابندیاں 

ہائی کمشنر نے بتایا کہ ملک بھر میں ہزاروں شہریوں بشمول سول سوسائٹی کے کارکنوں، وکلا اور صحافیوں کو فریق مخالف سے تعاون کے الزامات میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔ صحافیوں پر ایسی پابندیاں لگائی جا رہی ہیں جو ان کے کام کو ناممکن بنا دیتی ہیں اور انہیں دونوں جانب سے بدنامی، گمشدگی اور تشدد جیسے واقعات کا سامنا ہے۔

آزاد اور خودمختار میڈیا کی عدم موجودگی نفرت انگیز بیانیے کو فروغ دیتی ہے جو مزید مظالم کو جنم دیتا ہے۔ صحافیوں اور سول سوسائٹی کے کام کو سہولت اور تحفظ دیا جانا چاہیے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹوں کو ختم کیا جائے۔

اعتماد سازی کے عملی اقدامات اس ہولناک جنگ کے خاتمے، جامع امن کے قیام اور مشمولہ سول حکمرانی کی واپسی کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔

ہائی کمشنر کی اپیل 

انہو نے تمام متحارب فریقین سے مطالبہ کیا کہ وہ شہریوں اور شہری تنصیبات کا تحفظ یقینی بنائیں۔ قادوقلی اور دلنگ سمیت جنگ زدہ علاقوں سے شہریوں کے محفوظ انخلا کی ضمانت دیں اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ رسائی ممکن بنائیں۔

قیدیوں کے ساتھ انسانی سلوک، لاپتہ افراد کے بارے میں معلومات کی فراہمی، اور گرفتار شہریوں کی رہائی بھی فوری ترجیحات میں شامل ہونی چاہئیں۔

انہوں نے اس اپیل کو دہرایا کہ تمام فریق طاقت کے کھیل اور ذاتی مفادات کو ایک طرف رکھیں اور سوڈانی عوام کے مشترکہ مفاد پر توجہ دیں۔ انسانی حقوق کو اعتماد سازی اور اس جنگ کے خاتمے کا محور بنایا جائے تاکہ پائیدار امن کی مشکل مگر ممکن راہ پر دوبارہ قدم رکھا جا سکے۔ اقوام متحدہ کا دفتر برائے انسانی حقوق اس ضمن میں ہرممکن مدد دینے کو تیار ہے۔