غزہ میں انسانی بحران ختم ہونے سے ابھی دور، یو این امدادی ادارہ
ہنگامی امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) نے کہا ہے کہ جنگ بندی کے بعد غزہ میں بڑے پیمانے پر امداد پہنچائی گئی ہے لیکن انسانی بحران تاحال برقرار ہے اور لاکھوں فلسطینی نقل مکانی، صدمے، غیر یقینی صورتحال اور شدید محرومی کا سامنا کر رہے ہیں۔
اوچا کی ترجمان اولگا چیریکوو نے یروشلم میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ شدید اور متواتر طوفانوں نے نہ صرف لوگوں کے معمولی اثاثے تباہ کر دیے ہیں بلکہ ان کے نتیجے میں جانی نقصان بھی ہوا ہے۔ تباہ شدہ عمارتیں گرنے سے کئی لوگ ان کی زد میں آ کر ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ شدید سردی کے نتیجے میں بچوں کے جانی نقصان کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔
حالیہ جنگ بندی کے بعد امدادی ادارے غزہ میں ایک لاکھ 65 ہزار میٹرک ٹن سے زیادہ امدادی سامان لا چکے ہیں۔ اس کے ساتھ سڑکوں کی مرمت، ہسپتالوں کی بحالی، ملبہ ہٹانے اور امدادی مراکز کو دوبارہ فعال کرنے کا کام بھی کیا گیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر امدادی اداروں کو کام کرنے کی اجازت دی جائے تو وہ ٹھوس نتائج دیتے ہیں۔
جنگ بندی میں امدادی خدمات
ترجمان نے بتایا کہ جنگ بندی کے ابتدائی دو مہینوں میں ہی 13 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو خوراک کے پیکٹ فراہم کیے گئے جبکہ 15 لاکھ سے زیادہ تیار کھانے غزہ بھر میں ضرورت مند لوگوں تک پہنچائے گئے جس سے غذائی تحفظ میں بہتری آئی۔
جب شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال نے غزہ کو لپیٹ میں لیا اور ہزاروں خاندان خطرے میں پڑ گئے تو امدادی اداروں نے بلدیاتی حکام کے ساتھ مل کر محفوظ متبادل تلاش کیے۔ اس دوران پناہ گزینوں میں خیمے، ترپالیں، گدے اور گرم کپڑے بھی تقسیم کیے گئے۔
اگرچہ یہ اہم کام ہے لیکن حالات کسی بھی وقت خراب ہو سکتے ہیں۔ غزہ میں فضائی حملے، گولہ باری اور مسلح جھڑپیں اب بھی جاری ہیں اور روزانہ شہری ہلاکتوں کی اطلاعات مل رہی ہیں۔ غزہ کا بیشتر حصہ کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا ہے جبکہ ضروریات امدادی صلاحیت سے کہیں زیادہ ہیں۔
امدادی سامان پر پابندیاں
ترجمان نے کہا کہ غزہ میں کام کرنے والی امدادی تنظیموں پر عائد پابندیوں اور کئی طرح کے امدادی سامان پر سخت کنٹرول کے باعث صورتحال ایک ایسے زخم پر محض پٹی لگانے جیسی ہے جسے بھرنے کے لیے مکمل اور مستقل علاج کی ضرورت ہے۔
سخت سردی میں طوفانوں نے انسانی امداد کی فراہمی میں حاصل ہونے والی کئی کامیابیوں کو بھی زائل کر دیا ہے۔ اگرچہ درجنوں طبی مراکز دوبارہ کھولے یا قائم کیے گئے ہیں مگر غزہ میں اس وقت 40 فیصد سے بھی کم طبی سہولیات فعال ہیں۔
اسی طرح، تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے سامان کو بھی غزہ لانے کی اجازت نہیں جس کی ان بچوں کو اشد ضرورت ہے جو دو سال سے سکول نہیں جا سکے۔
پائیدار امن کی ضرورت
اولگا چیریکوو نے سرحدی گزرگاہوں پر امدادی سامان کی ترسیل میں تاخیر، محدود انسانی راہداریوں، متواتر رکاوٹوں اور اقوام متحدہ و بین الاقوامی امدادی اداروں کی سرگرمیوں پر عائد پابندیوں کی طرف بھی توجہ دلائی اور کہا کہ ان حالات میں انسانی جانوں کو براہ راست خطرات لاحق ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ محض جنگ بندی بحالی کا منصوبہ نہیں ہے۔ غزہ میں کام کرنے والے امدادی کارکنوں کی ضروریات انتہائی سادہ ہیں کہ فریقین جنگ بندی کا احترام کریں، شہریوں کو تحفظ دیا جائے اور انسانی امداد کی رسائی کو مستقل، قابل پیش گوئی اور بلا رکاوٹ بنایا جائے۔ امدادی اداروں اور ضروری سامان پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں، ابتدائی بحالی کے اقدامات کے لیے مالی وسائل فراہم کیے جائیں اور عطیہ دہندگان کی جانب سے وسائل کی فراہمی جاری رہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ آج جنگی فریقین یا عطیہ دہندگان کے فیصلے ہی یہ طے کریں گے کہ آیا جنگ بندی کا یہ وقفہ پائیدار استحکام کی راہ ہموار کرتا ہے یا آئندہ طوفان سے پہلے کی خاموشی ثابت ہوتا ہے۔