عالمی تعاون کمزور کرنے والی طاقتیں متحرک، یو این چیف کا انتباہ
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے جنرل اسمبلی کی 80ویں سالگرہ پر لندن میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بین الاقوامی تعاون کو کمزور کرنے والی طاقتیں صف آرا ہو رہی ہیں اور انسانیت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب تمام انسان ایک ساتھ کھڑے ہوں اور باہمی تعاون کو فروغ ملے۔
برطانوی دارالحکومت کے میتھوڈسٹ سنٹرل ہال میں سالگرہ کی تقریب میں بات کرتے ہوئے انہوں نے شرکا سے اپیل کی کہ وہ تبدیلی کے لیے وہی جرات اور حوصلہ دکھائیں جس کا مظاہرہ 80 برس قبل اس ہال میں جمع ہونے والوں نے ایک بہتر دنیا کی تعمیر کے لیے کیا تھا۔
برطانیہ کی اقوام متحدہ ایسوسی ایشن کے زیراہتمام اس تقریب میں دنیا بھر سے ایک ہزار سے زیادہ مندوبین نے شرکت کی۔ اس موقع پر مقررین میں سیکرٹری جنرل کے علاوہ جنرل اسمبلی کی صدر اینالینا بیئربوک، اقوام متحدہ کے خلائی چیمپئن پروفیسر برائن کاکس اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کی خیرسگالی سفیر مایا غزال شامل تھے۔ اس موقع پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پہلے اجلاس کی 80ویں سالگرہ بھی منائی گئی جو 17 جنوری 1946 کو قریبی چرچ ہاؤس میں منعقد ہوا تھا۔
سیکرٹری جنرل نے اس مقام کی علامتی اہمیت پر روشنی ڈالی جہاں دوسری عالمی جنگ کے اختتام سے صرف چار ماہ بعد پہلی جنرل اسمبلی کا انعقاد ہوا تھا۔
انہوں نے کہا کہ جنگ سے تباہ حال لندن میں اس ہال تک پہنچنے کے لیے مندوبین کو ایسی بستی سے گزرنا پڑا جو جنگ کے زخموں سے چور تھی۔ بکنگھم پیلس، ویسٹ منسٹر ایبے اور ہاؤس آف کامنز پر جرمن فضائیہ نے بم برسائے تھے۔ جب یہ بم گرتے تھے تو خوفزدہ شہری اسی میتھوڈسٹ سنٹرل ہال کے تہہ خانے میں پناہ لیتے تھے جو لندن میں فضائی حملوں سے بچاؤ کی بڑی پناہ گاہوں میں سے ایک تھی۔
انتونیو گوتیرش نے کہا کہ کئی حوالوں سے یہ ہال اقوام متحدہ کے مقصد کی تجسیم اور ایسی جگہ ہے جہاں آنے والے لوگ امن، سلامتی اور بہتر زندگی کی امید اور یقین رکھتے ہیں۔
جنگ، تباہی اور امید
پہلی جنرل اسمبلی کے بعد 80 برسوں میں اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی تعداد 51 سے بڑھ کر 193 ہو چکی ہے۔ سیکرٹری جنرل نے کہا کہ جنرل اسمبلی اقوام متحدہ کا مرکزی مشاورتی، پالیسی ساز اور نمائندہ ادارہ اور ممالک کے خاندان کی پارلیمان ہے۔ یہ ہر آواز کے لیے ایک فورم، اتفاق رائے پیدا کرنے کا مرکز اور تعاون کا مینار ہے۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ جنرل اسمبلی کا کام ہمیشہ آسان یا ہموار نہیں ہوتا، مگر یہ ادارہ دنیا کا عکاس ہے جس میں اس کی تقسیم بھی جھلکتی ہے اور امیدیں بھی۔ یہی وہ سٹیج ہے جہاں انسانوں کی مشترکہ کہانی پیش ہوتی ہے۔
انہوں نے گزشتہ دہائی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس دوران غزہ، یوکرین اور سوڈان کے مسلح تنازعات بے پناہ ظلم اور سفاکی کی مثال بنے، مصنوعی ذہانت تقریباً راتوں رات ہر جگہ پھیل گئی اور کووڈ وبا نے قوم پرستی کی آگ پر تیل ڈال کر ترقی اور موسمیاتی اقدامات کی رفتار سست کر دی۔
انہوں نے بتایا کہ 2025 بین الاقوامی تعاون اور اقوام متحدہ کی اقدار کے لیے انتہائی مشکل سال تھا۔ امدادی بجٹ میں کٹوتی ہوئی، عدم مساوات میں اضافہ ہوا، موسمیاتی تباہی تیز ہو گئی، بین الاقوامی قانون پامال ہوا، سول سوسائٹی کے خلاف کریک ڈاؤن بڑھ گیا، صحافیوں کو بے خوفی سے قتل کیا گیا اور اقوام متحدہ کے عملے کو بارہا دھمکیاں دی گئیں یا کام کے دورانہلاک کیا گیا۔
اقوام متحدہ کے مطابق، 2025 میں عالمی عسکری اخراجات 2.7 کھرب ڈالر تک پہنچ گئے جو برطانیہ کے موجودہ امدادی بجٹ سے 200 گنا زیادہ یا اس کی پوری معیشت کے 70 فیصد سے زیادہ ہیں۔ اسی دوران معدنی ایندھن کی کمپنیوں کے منافع بڑھتے رہے جبکہ عالمی حدت میں اضافے کے نئے ریکارڈ ٹوٹے۔
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ سائبر دنیا میں الگورتھم نے جھوٹ کو فائدہ پہنچایا، نفرت کو ہوا دی اور آمریت پسندوں کو کنٹرول کے طاقتور ذرائع فراہم کیے۔
کثیرالفریقی تعاون کی اہمیت
انتونیو گوتیرش نے زور دیا کہ دنیا کے باہم پیوسط مسائل سے نمٹنے کے لیے مضبوط، موثر اور وسائل سے آراستہ کثیرالفریقی نظام درکار ہے مگر افسوسناک طور سے کثیرالفریقی اقدار کو کمزور کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بین الاقوامی پانیوں اور سمندری تہہ میں زندگی کے تحفظ کے لیے حالیہ دنوں نافذ ہونے والے عالمی معاہدے کی مثال دی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ جدید سفارت کاری کا نمونہ ہے جس کی قیادت سائنس نے کی اور جس میں حکومتوں کے ساتھ سول سوسائٹی اور مقامی لوگوں نے بھی حصہ ڈالا۔
انہوں نے کہا، بین الاقوامی تعاون کی یہ خاموش کامیابیاں، جنگوں کا ٹل جانا، قحط کا خاتمہ اور اہم معاہدوں کا طے پانا ہمیشہ شہ سرخیاں نہیں بنتیں مگر یہ حقیقت ہیں اور ان کی اہمیت ہے۔ ایسی مزید کامیابیوں کے لیے بین الاقوامی قانون کے مکمل احترام کو یقینی بنانا ہو گا اور کثیرالجہتی نظام کو اپنے عہد کے مطابق مضبوط کرنا ہو گا۔
سیکرٹری جنرل نے اقوام متحدہ کے قیام میں برطانیہ کے فیصلہ کن کردار اور آج کی دنیا میں کثیرالفریقی نظام کی بھرپور حمایت پر اس کا شکریہ ادا کیا۔
امن، انصاف اور مساوات
انتونیو گوتیرش نے مستقبل کے لیے ایسے بین الاقوامی نظام کا مطالبہ کیا جو جدید دنیا کی عکاسی کرے اور جس کے ذریعے عالمی مالیاتی نظام اور سلامتی کونسل میں اصلاحات کی جائیں۔ جیسے جیسے عالمی طاقت کے مراکز بدل رہے ہیں، دنیا کے پاس مزید منصفانہ مستقبل تشکیل دینے کا موقع ہے۔ بصورت دیگر وہ مزید غیر مستحکم ہو جائے گی۔
انہوں نے کہا، ایک مستقل غلط فہمی آج کل اور بھی بلند آواز میں سنائی دے رہی ہے کہ امن ایک سادہ لوحی ہے اور واحد حقیقی سیاست خود غرضی اور طاقت کی سیاست ہے۔ مگر اقوام متحدہ کے بانی حقیقت سے ناواقف نہیں تھے۔ انہوں نے جنگ دیکھی تھی اور وہ جانتے تھے کہ امن، انصاف اور مساوات ہی سب سے زیادہ جراتمندانہ، سب سے زیادہ عملی اور سب سے زیادہ ضروری جدوجہد ہیں۔
مرانڈا الیگزینڈر ویبر مغربی یورپ کے لیے اقوام متحدہ کے علاقائی اطلاعاتی مرکز (انرک) کی لکھاری ہیں۔