کیا مصنوعی ذہانت جوہری توانائی کے نئے دور کا سبب ہوگی؟
دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے تیزی سے بڑھتے ہوئے استعمال نے بجلی کے نظام پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ موسمیاتی بحران کو بڑھائے بغیر اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے جوہری توانائی کا بڑے پیمانے پر حصول ناگزیر ہے۔
بجلی کی عالمگیر طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ 2035 تک اس میں 10 ہزار ٹیرا واٹ آور سے زیادہ اضافے کی توقع ہے جو آج کی تمام ترقی یافتہ معیشتوں میں بجلی کی مجموعی کھپت کے برابر ہے۔
اس اضافے میں مصنوعی ذہانت کا کردار بہت نمایاں ہے۔ اے آئی ٹیکنالوجی ڈیٹا سنٹرز پر انحصار کرتی ہے اور ایک درمیانے درجے کا ڈیٹا سنٹر جتنی بجلی خرچ کرتا ہے وہ تقریباً ایک لاکھ گھروں کی ضروریات کے برابر ہوتی ہے۔ عالمی ادارہ توانائی (آئی ای اے) کے مطابق، 2023 سے 2024 کے درمیان ڈیٹا سنٹرز کی بجلی کی طلب میں 75 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا اور اندازہ ہے کہ 2030 تک ترقی یافتہ معیشتوں میں بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کا 20 فیصد سے زیادہ حصہ ڈیٹا سنٹرز پر خرچ ہو رہا ہو گا۔
امریکہ میں اے آئی کی کئی بڑی کمپنیاں قائم ہیں جہاں یہ پیش گوئی کی جا رہی ہے کہ رواں دہائی کے اختتام تک اے آئی کی ڈیٹا پروسیسنگ میں استعمال ہونے والی بجلی کی مقدار ایلومینیم، سٹیل، سیمنٹ اور کیمیکل صنعتوں کی مجموعی بجلی کھپت سے بھی تجاوز کر جائے گی۔
گزشتہ سال دسمبر میں، دنیا بھر سے پالیسی ساز، ٹیکنالوجی کمپنیاں اور جوہری صنعت کے رہنما آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے (آئی اے ای اے) کے صدر دفتر میں جمع ہوئے تاکہ اس بات پر غور کیا جا سکے کہ جوہری توانائی کس طرح اے آئی کی توسیع کو ممکن بنا سکتی ہے اور اے آئی کس طرح جوہری صنعت میں جدت لا سکتی ہے۔
مستحکم اور ماحول دوست بجلی
جدید ترین اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے ہزاروں سنٹرل پروسیسنگ یونٹوں کو ہفتوں بلکہ مہینوں تک مسلسل چلانا پڑتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت کا روزمرہ استعمال تقریباً ہر شعبے میں پھیل رہا ہے جن میں ہسپتال، سرکاری انتظامیہ، ٹرانسپورٹ، زراعت، لاجسٹکس اور تعلیم شامل ہیں۔
گوگل میں اے آئی پر کام کرنے والے سینئر مینیجر مینوئل گرائزنگر کہتے ہیں کہ دنیا کو ایسی صاف، مستحکم اور ماحول دوست بجلی درکار ہے جو ہر وقت دستیاب ہو۔ یہ ایک نہایت بلند معیار ہے اور اسے صرف ہوا اور شمسی توانائی سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اے آئی مستقبل کا انجن ہے لیکن ایندھن کے بغیر انجن بے کار ہوتا ہے۔ جوہری توانائی محض ایک انتخاب نہیں بلکہ مستقبل میں توانائی کے نظام کا ایک ناگزیر بنیادی جزو ہے۔
جوہری صنعت کا پرامید منظرنامہ
'آئی اے ای اے' کے ڈائریکٹر جنرل رافائل مینوئل گروسی بھی گرائزنگر کی رائے سے متفق ہیں جن کا کہنا ہے کہ جوہری صنعت اے آئی کی انقلابی ترقی کے دوران توانائی کے شعبے میں اس کی شراکت دار ہو گی۔ وہ کہتے ہیں کہ، ماحول دوست بجلی پیدا کرنے، اس کی 24 گھنٹے قابل بھروسہ فراہمی، توانائی کی انتہائی بلند کثافت، گرڈ کے استحکام اور حقیقی پیمانے پر توسیع سے متعلق ضروریات صرف جوہری توانائی ہی پوری کر سکتی ہے۔
جوہری صنعت اس وقت خاصی پرجوش دکھائی دیتی ہے۔ دنیا بھر میں اس توانائی کے 71 نئے ری ایکٹر زیرتعمیر ہیں جبکہ 441 ری ایکٹر پہلے ہی کام کر رہے ہیں۔ امریکہ میں 94 جوہری پلانٹ موجود ہیں جو کسی بھی ملک سے زیادہ بڑی تعداد ہے جبکہ ملک میں مزید 10 ری ایکٹر تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے۔
ڈیٹا سنٹر استعمال کرنے والی ٹیکنالوجی کمپنیاں 2050 تک جوہری توانائی کی عالمی صلاحیت کو کم از کم تین گنا بڑھانے کے ہدف کے حصول کا عہد کر چکی ہیں۔ مثال کے طور پر، مائیکروسافٹ نے بجلی کی خریداری کا 20 سالہ معاہدہ کیا ہے جس کے نتیجے میں پنسلوینیا میں تھری مائل آئی لینڈ جوہری بجلی گھر کے یونٹ ون کو دوبارہ شروع کیا گیا ہے۔
جوہری توانائی پر بڑھتی سرمایہ کاری
دنیا کے دیگر ممالک بھی اے آئی کی ترقی کے تناظر میں جوہری توانائی میں بھرپور سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ گروسی کے مطابق، یورپ میں فرینکفرٹ، ایمسٹرڈیم اور لندن جیسے دنیا کے بڑے ڈیجیٹل کوریڈور موجود ہیں۔ فرانس اور برطانیہ جیسے روایتی جوہری طاقت کے حامل ممالک جوہری تعمیرات کو دوگنا کر رہے ہیں جبکہ پولینڈ جیسے ابھرتے ہوئے ممالک بھی تیزی سے اس میدان میں داخل ہو رہے ہیں۔
روس کی ریاضی اور کمپیوٹر سائنس میں مضبوط تحقیقی بنیاد ہے جو کہ جوہری توانائی کے شعبے میں دنیا کا سب سے بڑا برآمد کنندہ اور جدید ری ایکٹر ٹیکنالوجی کا اہم آپریٹر اور ڈویلپر ہے۔ اسی طرح، چین اے آئی اور جوہری توانائی دونوں شعبوں میں نمایاں ترقی کر رہا ہے۔
رافائل گروسی کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی اور ڈیٹا سنٹرز کی تعمیر ایک ساتھ آگے بڑھ رہی ہے اور اسی دوران دنیا میں نئے جوہری ری ایکٹروں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
جاپان ڈیٹا سنٹرز کی تعمیر اور اپ گریڈیشن میں بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے جبکہ مشرق وسطیٰ میں متحدہ عرب امارات نے جوہری توانائی کا پروگرام شروع کر کے خود کو بڑے علاقائی اے آئی مرکز کے طور پر منوایا ہے۔
چھوٹے جوہری ری ایکٹر
زیادہ توانائی کی فوری ضرورت نے چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹروں کی تعمیر کو بھی فروغ دیا ہے۔ یہ روایتی بڑے بجلی گھروں سے بالکل مختلف ہوتے ہیں جن کی تعمیر کے لیے بھاری سرمایہ کاری اور تقریباً 10 سال کا وقت درکار ہوتا ہے۔
رافائل گروسی کے مطابق، اس قسم کے ری ایکٹر کم جگہ گھیرتے ہیں، جدید حفاظتی نظام کے حامل ہوتے ہیں اور انہیں صنعتی علاقوں کے قریب، حتیٰ کہ کسی ڈیٹا سینٹر میں بھی نصب کیا جا سکتا ہے۔
انہیں استعمال کرنے والی ٹیکنالوجی کمپنیاں علاقائی گرڈ کی کمی یا ترسیلی نقصانات کی فکر سے آزاد ہو جاتی ہیں۔ یہ ان علاقوں میں ایک فیصلہ کن فائدہ ثابت ہو سکتا ہے جہاں گرڈ کی اپ گریڈیشن سست روی کا شکار ہو اور نئے کنکشن کے لیے طویل انتظار کرنا پڑتا ہو۔
اگرچہ یہ ری ایکٹر ابھی تحقیق اور ترقی کے مرحلے سے مکمل طور پر باہر نہیں آئے، تاہم 'آئی اے ای اے' ریگولیٹروں اور صنعت کے ساتھ مل کر انہیں قابل عمل بنانے پر کام کر رہی ہے۔امکان ہے کہ توانائی کی طلب پوری کرنے کے لیے جلد ہی بڑی تعداد میں چھوٹے ری ایکٹر نصب کیے جائیں گے۔
گوگل نے ایک توانائی کمپنی کے ساتھ معاہدہ کیا ہے جس کے تحت وہ متعدد چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹروں سے جوہری بجلی خریدے گا جو عالمی سطح پر اپنی نوعیت کا پہلا معاہدہ ہے۔ اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق رہا تو یہ ری ایکٹر 2030 تک کام شروع کر سکتے ہیں۔
خلا میں شمسی توانائی پر تحقیق
گوگل خلا میں شمسی توانائی کے نیٹ ورکس سے متعلق تحقیق بھی کر رہا ہے تاکہ مدار میں بڑے پیمانے پر مشین لرننگ کو ممکن بنایا جا سکے اور شمسی توانائی سے بلا روک ٹوک فائدہ اٹھایا جا سکے۔ دو تجرباتی سیٹلائٹ 2027 کے اوائل میں لانچ کیے جانا ہیں تاکہ خلا کے ماحول میں شعاعی مزاحمت اور ڈیٹا پروسیسنگ کی صلاحیتوں کا جائزہ لیا جا سکے۔
چاہے خلا میں شمسی توانائی حاصل کرنا ہو، پرانے ری ایکٹروں کو دوبارہ فعال بنانا ہو، نئی نسل کے چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹروں میں سرمایہ کاری ہو یا بڑے جوہری پلانٹس کی تعمیر، تمام اقدامات ایک ہی سمت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ توانائی کا ایک ایسا نظام تشکیل دینے کی ضرورت ہے جو بڑی حد تک جوہری توانائی پر مبنی ہو اور مستقبل کی ضروریات کو پورا کر سکے۔