انسانی کہانیاں عالمی تناظر

مشرق وسطیٰ میں یو این امن کاروں کے لیے خطرات میں اضافہ، ژاں پیئر لاکوا

چھپی ہوئی یونیفلیٹ اور نیلے ہیلمیٹ پہننے والے یونیفلیٹ کے امن فورسز، جو لبنان کے شہر میس ایل جبل میں بلیو لائن کے ساتھ گشت کر رہے ہیں، جن کے پاس رائفلیں ہیں اور جن کے پاس اقوام متحدہ کا پرچم ہے۔
© UNIFIL/Pasqual Gorriz
زمینی سطح پر حالات دن بدن مشکل ہونے کے باوجود اقوام متحدہ اپنی امن کارروائیوں کی انجام دہی جاری رکھے ہوئے ہے۔

مشرق وسطیٰ میں یو این امن کاروں کے لیے خطرات میں اضافہ، ژاں پیئر لاکوا

امن اور سلامتی

مشرق وسطیٰ میں اقوام متحدہ کے امن مشن سلامتی کے بڑھتے ہوئے خطرات اور غیر یقینی سیاسی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ مالی وسائل کی قلت نے ان کے کام کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔

امن کاری کے لیے اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل ژاں پیئر لاکوا نے خطے کے طویل دورے کے بعد سعودی عرب کے شہر جدہ سے ویڈیو لنک کے ذریعے نیویارک میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ امن دستوں کو پیش آنے والے خطرناک واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور وہ نہایت نازک اور غیر مستحکم ماحول میں کام کر رہے ہیں۔

Tweet URL

زمینی سطح پر حالات دن بدن مشکل ہونے کے باوجود اقوام متحدہ اپنی امن کارروائیوں کی انجام دہی جاری رکھے ہوئے ہے۔ لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس (یونیفیل) کے قبل از وقت انخلا کا امکان نہیں اور یہ فورس رواں سال دسمبر کے اختتام تک اپنا کام کرتی رہے گی جو لبنانی فوج کی معاونت اور سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 پر عمل درآمد کی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہے۔ 

انڈر سیکرٹری جنرل نے لبنان میں امن دستوں پر حملوں کے واقعات میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا جن میں عموماً اسرائیلی افواج ملوث رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات کی تعداد بہت زیادہ رہی ہے اور ان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اسرائیلی حکام کے ساتھ بھی اس معاملے کو اٹھایا اور واضح کیا کہ امن کاروں کی زندگی کو خطرے میں ڈالنا کسی کے مفاد میں نہیں۔

مالی دباؤ اور موافقت

انڈر سیکرٹری جنرل نے سکیورٹی خطرات کے علاوہ امن کارروائیوں کو درپیش مالی مسائل کے اثرات کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ بعض رکن ممالک کی جانب سے واجبات کی فراہمی میں تاخیر یا عدم ادائیگی کے باعث یونیفیل اور دیگر مشن اپنے اخراجات میں کمی لانے پر مجبور ہیں۔

انہوں نے امن دستوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جدت اور آپریشنل تبدیلیوں کے ذریعے مالی دباؤ کے منفی اثرات کو کامیابی سے کم کیا ہے۔

شام اور علاقائی صورتحال

شام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی 'ڈس انگیجمنٹ آبزرور فورس' (انڈوف) سلامتی کونسل اور شامی حکام کے بھرپور تعاون سے اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہے۔ تاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ 1974 کے اس معاہدے کے تحت مخصوص علاقے میں اسرائیلی افواج کی موجودگی کے بعد زمینی حالات میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں صرف انڈوف ہی واحد عسکری موجودگی ہونی چاہیے اور امریکہ کی ثالثی میں اس حوالے سے اسرائیل اور شام کے درمیان حالیہ بات چیت ایک مثبت پیش رفت ہے۔

بارودی سرنگوں کی صفائی

انڈر سیکرٹری جنرل نے لبنان، شام، غزہ اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اقوام متحدہ کی جانب سے بارودی سرنگوں کی صفائی کی کوششوں کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ اس حوالے سے ضروریات انتہائی وسیع ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ امن مشن مزید کام کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن شہریوں کے تحفظ اور جنگ سے متاثرہ علاقوں میں بحالی کے عمل کے لیے اضافی وسائل کی فراہمی نہایت ضروری ہے۔