سوڈان: جنگی و جنسی زیادتیوں کے شکار افراد مناسب مدد سے محروم، وولکر ترک
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے کہا ہے کہ سوڈان میں جنگ سے متاثرہ لوگوں کی مدد کے لیے عالمی برادری کی جانب سے جامع کوششوں کی ضرورت ہے جہاں لاکھوں افراد کو بدترین انسانی بحران کا سامنا ہے۔
انہوں نے سوڈان کے دورے میں امدادی مقاصد کے لیے منعقدہ اجلاس میں شرکت کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں اس ہولناک جنگ کے متاثرین روزانہ سنگین حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اندرون ملک بے گھر ہو جانے والے لوگوں کے لیے پناہ گاہیں ناکافی ہیں جبکہ ہزارون افراد کو کئی مرتبہ نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ جن خواتین کو جنسی تشدد کا سامنا کرنا پڑا ہے، ان کے لیے وسائل کی کمی کے باعث مناسب مدد دستیاب نہیں جبکہ معذور افراد کی ضروریات پر بھی خاطر خواہ توجہ نہیں دی جا رہی۔
ہائی کمشنر 14 جنوری سے سوڈان کے دورے پر ہیں جس میں انہوں نے پورٹ سوڈان میں حکومتی حکام، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور ملک میں اقوام متحدہ کی ٹیم سے ملاقاتیں کی ہیں۔
امدادی شراکت داروں سے ملاقات
انہوں نے شمالی ریاست کے دارالحکومت ڈونگولا کا دورہ بھی کیا جہاں انہوں نے ریاستی گورنر اور غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کے نمائندوں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے امدادی شعبے میں کام کرنے والے شراکت داروں سے دارفور اور کردفان میں شدید تشدد کے باعث بے گھر ہونے والے افراد کو درپیش مشکلات اور ان کی ضروریات پر تبادلہ خیال کیا۔
ڈونگولا میں ہونے والی ملاقات کے حوالے سے ہائی کمشنر کا کہنا تھا کہ اس میں لوگوں کو ضروری مدد پہنچانے کے طریقہ کار پر بات چیت ہوئی جس کا مقصد شراکتی اداروں کی مدد کرنا اور ان کے کام کو سہل بنانا تھا ۔
ہائی کمشنر شمالی ریاست میں واقع الافاد پناہ گزین کیمپ کا دورہ کر کے دارفور اور کردفان سے بے گھر ہونے والے افراد اور امدادی شراکت داروں سے ملاقات بھی کریں گے۔
سوڈان میں اقوام متحدہ کا دفتر برائے انسانی حقوق بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی نگرانی اور رپورٹنگ کرتا ہے اور شہریوں کے تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے کام کرتا ہے۔ دفتر شواہد پر مبنی واضح معلومات فراہم کرنے کے اقدامات بھی اٹھاتا ہے تاکہ تحفظ، احتساب اور متاثرہ آبادی کے حقوق کو اس کی ترجیحات میں مرکزی اہمیت حاصل رہے