انسانی کہانیاں عالمی تناظر

یوکرین: لوگوں کو یخ بستہ موسم میں بجلی کے شدید بحران کا سامنا

گرمیوں میں بجلی کی بندش کے دوران بچوں کے ساتھ خاندان یوکرین کے شہر کیف میں ایک موبائل 'پوائنٹ آف انوینٹیبلٹی' خیمے کے اندر جمع ہوتے ہیں۔ والدین آلات چارج کرتے ہیں اور گرم مشروبات تیار کرتے ہیں جبکہ بچے کھلونے اور ماڈلنگ مٹی کے ساتھ کھیلتے ہیں، جو یونیسف کے نفسیاتی فرسٹ ایڈ کٹس اور نفسیاتی سماجی خدمات کی حمایت کرتے ہیں۔
© یونیسف/ولکسی فیلی
یوکرین کے دارالحکومت کیئو میں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے لوگ گرم موبائل خیموں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

یوکرین: لوگوں کو یخ بستہ موسم میں بجلی کے شدید بحران کا سامنا

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے بتایا ہے کہ یوکرین بھر میں لوگ روس کے متواتر میزائل اور ڈرون حملوں کے باعث ہمہ وقت بقا کی جدوجہد پر مجبور ہیں۔ حملوں کے نتیجے میں کئی یوم تک بجلی معطل رہتی ہے جبکہ درجہ حرارت جان لیوا حد تک گر جاتا ہے۔

ملک میں یونیسف کے نمائندے منیر مامدزادے نے کہا ہے کہ جنوبی علاقے ژیپوریژیا اور مشرقی شہر خارکیئو میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے باعث بجلی اور حرارت کی فراہمی کا نظام متاثر ہوا ہے۔ سردی کی شدت کے باعث لوگ بچوں کے کھلونوں سمیت ہر شے کھڑکیوں اور درزوں میں ٹھونس رہے ہیں تاکہ ٹھنڈی ہوا کا گزر روکا جا سکے۔

Tweet URL

توانائی کے نظام پر حملوں کے باعث سردی کا جان لیوا خطرہ اب ملکی سطح کی ہنگامی صورت حال بنتا جا رہا ہے۔ انہوں نے جمعے کے روز دارالحکومت کیئو میں درجہ حرارت منفی 15 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرنے کا تذکرہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ آئندہ ہفتے مزید سردی پڑ سکتی ہے جبکہ ملک بھر میں لاکھوں خاندان حرارت کے بغیر زندگی گزار رہے ہیں۔

امدادی ترجیحات میں تبدیلی

اب تک بیشتر انسانی امداد محاذ جنگ سے قریبی علاقوں میں فراہم کی جاتی رہی ہے، تاہم شہروں کے بنیادی ڈھانچے اور رہائشی علاقوں پر روسی حملوں نے رہائشی عمارتوں میں رہنے والے لوگوں کی کہیں زیادہ پیچیدہ ضروریات کو اجاگر کر دیا ہے۔

ان میں کیئو کی رہائشی سویتلانا بھی شامل ہیں جو اپنی تین سالہ بیٹی آدینا کی دیکھ بھال کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں۔ ایک رہائشی عمارت کی دسویں منزل پر رہنے والی سویتلانا نے بتایا کہ کئی روز سے ان کے گھر میں نہ حرارت ہے نہ بجلی۔ بہت سے خاندان بنیادی سہولتوں کے بغیر ہیں۔

انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز (آئی ایف آر سی) کی ترجمان جیمی واہ نے کہا ہے کہ اگرچہ خارکیئو اور اوڈیسا میں گزشتہ حملوں کے بعد چند روز میں بجلی بحال ہو گئی تھی، مگر دارالحکومت میں صورت حال زیادہ مشکل دکھائی دیتی ہے۔ 

مامدزدے نے خبردار کیا ہے کہ یوکرین پر روسی حملے کے آغاز کو تقریباً چار سال گزرنے کے باوجود بچوں کی زندگیاں اب بھی بچپن کے بجائے بقا کی جدوجہد میں الجھی ہوئی ہیں۔ 2025 میں ہلاک اور زخمی ہونے والے بچوں کی تعداد میں 2024 کے مقابلے میں 11 فی صد اضافہ ہوا ہے۔

اجتماعی امدادی مراکز

یونیسیف یوکرینی شہروں میں کمزور افراد کی مدد کے لیے بڑے اجتماعی خیموں کو بھی مدد فراہم کرتا ہے جہاں لوگ خود کو گرم رکھ سکتے ہیں اور بچوں کے لیے کھیل اور کھلونے دستیاب ہوتے ہیں۔

موسم سرما میں جب بجلی بند ہوتی ہے تو کیئو کے ایسے ہی ایک اجتماعی مرکز میں جمع لوگ اپنے آلات چارج کرتے اور گرم مشروبات تیار کرتے ہیں جبکہ بچے کھلونوں سے کھیلتے ہیں۔ اس دوران انہیں یونیسف کی جانب سے نفسیاتی ابتدائی امداد کا سامان اور معاونت بھی فراہم کی جاتی ہے۔

سویتلانا گھر میں نہ تو اپنی بچی کو نہلا سکتی ہیں اور نہ ہی کھانا پکا سکتی ہیں۔ وہ اپنی بچی کو کپڑے کی کئی تہوں میں لپیٹتی اور اندھیری سیڑھیوں سے دس منزلیں اتر کر اس خیمے تک پہنچتی ہیں جو یوکرین کے محکمہ ہنگامی خدمات نے اس عمارت کے باہر قائم کیا ہے۔ وہاں وہ گرم کھانا حاصل کر سکتی ہیں، اپنے آلات چارج کر سکتی ہیں اور کسی ماہر نفسیات سے بھی بات کر سکتی ہیں۔

بچوں کے لیے سنگین خطرات

یونیسیف نے خبردار کیا ہے کہ بچے اندھیرے میں زندگی گزارنے اور شدید سردی کا سامنا کرنے کے جسمانی اور ذہنی اثرات کے لیے زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ یہ حالات خوف اور ذہنی دباؤ میں اضافہ کرتے ہیں اور سانس کی بیماریوں سمیت دیگر طبی مسائل کو جنم دے سکتے ہیں یا انہیں مزید بگاڑ سکتے ہیں۔ 

انتہائی کم عمر بچوں کے لیے خطرہ کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ نوزائیدہ اور شیر خوار بچے تیزی سے جسمانی حرارت کھو دیتے ہیں اور ہائپوتھرمیا یا سانس کی بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔