مہاجرت کے مسائل سے نمٹنے کے لیے آئی او ایم کو درکار 2.5 ارب ڈالر
عالمی ادارہ مہاجرت (آئی او ایم) نے رواں سال دنیا بھر میں بحرانی حالات سے نمٹنے کے 32 ترجیحی منصوبے جاری کر دیے ہیں جن کے لیے 2.5 ارب ڈالر کے امدادی وسائل درکار ہوں گے۔
امدادی منصوبوں کے ذریعے 22.7 ملین لوگوں کو مدد مہیا کی جائے گی جنہیں اس کی اشد ضرورت ہے۔ ان میں مہاجرین، اندرون ملک بے گھر افراد اور ان کے میزبان لوگ شامل ہیں۔
ادارے نے کہا ہے کہ ان منصوبوں میں انتہائی فوری ضروریات پر توجہ مرکوز کی گئی ہے اور ان کا تعلق ایسے اقدامات سے ہے جہاں شراکت داری کے ذریعے زیادہ فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ ایسے شراکت داروں میں مقامی لوگ، حکومتیں یا دیگر متنوع شراکت داروں سمیت سبھی شامل ہو سکتے ہیں۔
اگرچہ 2.5 ارب ڈالر کی یہ مالی ضرورت گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کم ہے، تاہم اس کا مطلب ضروریات میں کمی نہیں۔ اس کا مقصد محدود وسائل کو وہاں مرکوز کرنا ہے جہاں ضرورت اور اثر دونوں سب سے زیادہ ہوں۔ اس معاملے میں شدید ترین بحرانوں سے متاثرہ کمزور ترین آبادی کو فوقیت دی جائے گی ایسے اقدامات اٹھائے جانا ہیں جو جانیں بچانے اور لوگوں کو مستحکم کرنے میں کہیں زیادہ موثر ثابت ہو سکیں۔
قابل بھروسہ وسائل کی ضرورت
'آئی او ایم' کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، سوڈان میں مسلح تنازع کے آغاز کے بعد ملک کی تقریباً ایک تہائی آبادی اندرون یا بیرون ملک بے گھر ہو چکی ہے۔ ادارہ رواں سال اس جنگ سے متاثرہ 13 لاکھ افراد کی مدد کے لیے 170 ملین امریکی ڈالر کی فراہمی چاہتا ہے۔
ادارے نے کہا ہے کہ امدادی مقاصد کے لیے مقامی کرداروں اور اداروں کی معاونت کو ترجیح دی جا رہی ہے اور ان کی صلاحیتوں پر سرمایہ کاری کا منصوبہ ہے تاکہ معیاری امداد کی فراہمی ممکن ہو اور زیادہ پائیدار اور مقامی قیادت میں اقدامات ہو سکیں۔ تمام 32 منصوبوں کے حوالے سے ایک بنیادی حقیقت واضح ہے کہ لاکھوں زندگیاں بروقت اور قابل اعتماد فنڈنگ پر منحصر ہیں۔
قابل عمل امدادی ترجیحات
ان امدادی منصوبوں کے تحت دنیا بھر میں ضروریات کو قابل عمل ترجیحات میں ڈھالا گیا ہے تاکہ ہر ڈالر بحران سے متاثرہ لوگوں تک براہ راست پہنچنے، ان کی حفاظت اور وقار کو یقینی بنائے انہیں اور بحالی میں مدد دے۔
'آئی او ایم' نے شراکت داروں، عطیہ دہندگان اور عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ ان منصوبوں کے ساتھ عملی طور پر جڑیں اور ایسے اقدامات میں تعاون کریں جو ضرورت کے مطابق اور آگاہی پر مبنی ہوں اور ان میں ایسے لوگوں کو مرکزی اہمیت دی جائے جن کی زندگیاں بحران اور بے گھری نے تہس نہس کر دی ہیں۔