انسانی کہانیاں عالمی تناظر

سمندروں میں حیاتیاتی تحفظ کا اہم معاہدہ جنوری 17 سے نافذالعمل ہوجائے گا

ایک پانی کے نیچے تقسیم سطح کی تصویر جس میں سمندری زندگی سے بھرا ہوا متحرک مرجان ریف دکھایا گیا ہے ، جس میں پانی کی لائن کے اوپر ایک زرخیز سبز جزیرہ نظر آتا ہے۔ اس تصویر میں سمندری ماحولیاتی نظام کی خوبصورتی اور نازکیت کی عکاسی کی گئی ہے ، جس سے تحفظ کی کوششوں کی ضرورت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
© The Ocean Story/Vincent Kneefel
سمندری حیاتیاتی تنوع کے معاہدے سے سمندروں کی حفاظت میں مدد ملے گی۔

سمندروں میں حیاتیاتی تحفظ کا اہم معاہدہ جنوری 17 سے نافذالعمل ہوجائے گا

از کونر لینن
موسم اور ماحول

دو دہائیوں کی گفت و شنید کے بعد سمندری حیات کے تحفظ کے لیے ایک اہم عالمی معاہدہ ہفتے کے روز نافذ العمل ہونے جا رہا ہے جو آئندہ برسوں میں سمندری ماحولیاتی نظام کی صحت کو یقینی بنانے کی کوششوں میں ایک بڑا قدم ہے۔

اس معاہدے کو ملکی حدود سے ماورا حیاتیاتی تنوع (بی بی این جے) کا نام دیا گیا ہے اور اس کی پابندی رکن ممالک پر قانوناً لازم ہو گی۔ یہ ایسے سمندری علاقوں اور بین الاقوامی سمندری تہہ کا احاطہ کرتا ہے جو کسی ملک کی بحری حدود میں نہیں آتے۔ 

سمندر کی سطح کا دو تہائی سے زیادہ اور کرہ ارض کی حیاتیاتی آبادی کے حجم کا 90 فیصد سے زیادہ حصہ ان علاقوں پر مشتمل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سمندر بہت گہرا ہے اور زمین پر زیادہ تر زندگی زیر آب پائی جاتی ہے۔

معاہدے کے بارے میں جاننے کے چند اہم نقاط:

'بی بی این جے' کیوں اہم ہے؟

اس معاہدے کا مقصد کھلے پانیوں اور بین الاقوامی سمندری تہہ کو ایسے ماحول میں تبدیل کرنا ہے جسے تمام انسانیت کے فائدے کے لیے پائیدار طور پر منظم کیا جا سکے۔

یہ پہلا سمندری معاہدہ ہے جو مشمولہ سمندری انتظام کو ممکن بناتا ہے جس میں مقامی لوگوں اور خواتین و مردوں کے درمیان توازن پر خصوصی دفعات بھی شامل ہیں۔

امید کی جا رہی ہے کہ جب معاہدہ مکمل طور پر نافذ ہو جائے گا تو یہ ماحولیاتی بحرانوں، جیسا کہ موسمیاتی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع کے نقصان اور آلودگی پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

مونگے مچھلیوں اور دوسری آبی حیات کے لیے ٹھکانوں کا کام کرتے ہیں۔
© Ocean Image Bank/Matt Curnock

بین الاقوامی نقطہ نظر 

معاہدے کے لیے ہونے والے مذاکرات میں تنزانیہ کی نمائندگی کرنے والے سفارتکار مزی علی حاجی نے کہا ہے کہ یہ معاہدہ بین الاقوامی پانیوں کے تحفظ میں ایک بڑا قدم ہے۔ سبھی کو یاد رکھنا چاہیے کہ اب کھلے پانیوں میں ہونے والی سرگرمیوں پر کنٹرول موجود ہے۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی آلودگی پھیلائے گا تو اسے اپنے کیے کی قیمت چکانا ہو گی۔ 

یہ معاہدہ اس معاملے پر موجودہ بین الاقوامی قانونی فریم ورک کو مضبوط کرتا ہے۔ اس کی بنیاد سمندری قانون سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن پر ہے جو سمندر اور سمندری تہہ کا استحصال روکنے اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے 1994 سے اصول و ضوابط مرتب کر رہا ہے۔

یہ معاہدہ اس کنونشن میں پائے جانے والے قانونی خلا کو پر کرتا، حیاتیاتی تنوع کے انتظام کی تفصیلات فراہم کرتا اور سمندری انتظام کو موسمیاتی تبدیلی اور پائیدار ترقی کےایجنڈے سے ہم آہنگ کرتا ہے۔ 

'نافذ العمل' ہونے کا مطلب کیا ہے؟

نافذ ہونے کے بعد اس معاہدے کی پابندی ان 83 ممالک کے لیے قانونی طور پر لازم ہو جائے گی جنہوں نے اس پر دستخط کیے ہیں۔ یہ ممالک اسے اپنی قومی قانون سازی میں شامل کریں گے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ دنیا کے مزید ممالک بھی اس معاہدے کا حصہ بنیں گے۔

معاہدہ آئندہ ہفتے کے روز نافذ العمل ہو گا۔ اسے درکار کم از کم 60 ممالک کی قانونی منظوری مل چکی ہے اور یہ تعداد پوری ہوئے 120 یوم بھی مکمل ہو چکے ہیں جو کہ اس کے نفاذ سے متعلق ضروری شرط ہے۔

ایک سمندری تلوار جو بحیرہ روم کے ساحل مالٹا کے صاف نیلے پانیوں میں پانی کے نیچے خوبصورتی سے تیرتی ہے۔
© FAO/Kurt Arrigo

کون سے ممالک معاہدے میں شامل ہیں؟

کئی بڑی معیشتوں نے 'بی بی این جے' کو منظور کر لیا ہے جن میں چین، جرمنی، جاپان، فرانس اور برازیل خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ 

چین کا اثر سمندر سے جڑی صنعتوں جیسا کہ جہاز سازی، آبی زراعت، ماہی گیری اور ساحلوں کے قریب تیل و گیس کے استخراج کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس نے 2023 میں 155 ارب ڈالر کی سمندری مصنوعات برآمد کی تھیں۔ تاہم، امریکہ، انڈیا، برطانیہ اور روس نے تاحال اس معاہدے میں مکمل شمولیت اختیار نہیں کی۔

  • امریکہ نے 2023 میں یہ معاہدہ اپنایا تھا لیکن ابھی تک سینیٹ نے اس کی منظوری نہیں دی۔ 
  • انڈیا نے 2024 میں اسے اپنایا مگر ملک میں اس حوالے سے قانون سازی زیر التوا ہے۔
  • برطانیہ نے 2025 میں قانون سازی متعارف کروائی مگر اس کی پارلیمنٹ نے بھی تاحال معاہدے کی توثیق نہیں کی۔ 
  • روس نے نہ تو معاہدہ اپنایا ہے اور نہ ہی اسے منظور کیا۔ اس کی وجہ موجودہ انتظامی فریم ورک کو برقرار رکھنا اور بین الاقوامی پانیوں میں بحری سفر کی آزادی کو یقینی بنانا بتائی گئی۔

کیا یہ معاہدے کے لیے بڑا نقصان ہے؟

مزی حاجی چند بڑی معیشتوں کی ہچکچاہٹ کے باوجود اس معاہدے کے موجودہ اثرات کے بارے میں پرامید ہیں۔ 

ان کا کہنا ہے کہ ترقی پذیر اور چھوٹے جزائر پر مشتمل ممالک کو بڑے اور ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے حمایت کی ضرورت ہے۔ توقع ہے کہ مستقبل میں وہ اس معاہدے کو قبول کریں گے کیونکہ اس سے انہیں بھی فائدہ ہو گا۔ کھلے پانیوں کا تحفظ سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

media:entermedia_image:4777824e-b32b-4801-be62-38a7226dcbf9
© Unsplash/Francesco Ungaro

آگے کیا ہو گا؟

مزید ممالک کے لیے اس معاہدے میں شامل ہونے کے دروازے کھلے ہیں اور ایسی صورت میں یہ زیادہ موثر ہو جائے گا۔ مزی حاجی کہتے ہیں کہ جب کسی معاملے پر مذاکرات کیے جاتے ہیں تو ہر کوئی فوری طور پر اسے منظور کرنے یا اپنانے کو تیار نہیں ہوتا۔ بعض فریق ابتدا میں صرف جائزہ لیتے ہیں اور جب انہیں اپنا فائدہ نظر آتا ہے تو اس میں شامل ہو جاتے ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ مستقبل میں مزید ممالک اس معاہدے کا حصہ بنیں گے۔ 

'بی بی این جے' پر عملدرآمد اسے کامیاب بنانے کی کنجی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف تادیبی کارروائی کرنا ہو گی۔ معاہدے کے متن کے مطابق، اس کے نفاذ کے بعد ایک سال کے اندر پہلا اجلاس ہو گا تاکہ ان تمام امور پر پیش رفت کی نگرانی کی جا سکے۔