یو این: ایران کی صورتحال پر تشویش لیکن بیرونی مداخلت کی مخالفت
ایران میں جاری عوامی احتجاج اور خونریز واقعات پر سلامتی کونسل کے اجلاس میں ارکان نے مظاہرین کی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پرامن اظہار و اجتماع کی آزادی سمیت بنیادی حقوق کو برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا جبکہ متعدد ارکان نے ملک پر امریکہ کے ممکنہ حملے کی مخالفت کی ہے۔
امریکہ کی درخواست پر بلائے گئے اجلاس میں اقوام متحدہ کے شعبہ قیام امن و سیاسی امور میں اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل مارتھا پوبی نے کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے ایران کی موجودہ صورتحال کو غیر مستحکم اور گہری تشویش کا باعث قرار دیا اور بتایا کہ ملک میں مظاہرے جاری ہیں تاہم ان کے حجم اور شدت میں کمی آئی ہے۔
انہوں نے ملک کے خلاف امریکہ کی ممکنہ عسکری کارروائی پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ مزید بگاڑ کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش سمجھتے ہیں کہ ایران کے حوالے سے تمام خدشات، بشمول جوہری مسئلے اور جاری مظاہروں سے متعلق مسائل کو سفارت کاری اور بات چیت کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے اس حساس موقع پر زیادہ سے زیادہ احتیاط برتنے اور فریقین سے ایسے اقدامات سے گریز کرنے کی اپیل کی جو مزید جانوں کے نقصان یا خطے میں وسیع کشیدگی کا باعث بن سکتے ہیں۔
اس موقع پر ایرانی صحافی مسیح علی نجاد اور انسانی حقوق کے کارکن احمد باتیبی نے کونسل کو بتایا کہ انہیں حکومت پر تنقید کرنے اور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر قید اور تشدد کی سزائیں بھگتنا پڑیں۔
اجلاس سے سلامتی کونسل کے مختلف ارکان نے خطاب کرتے ہوئے ایران کی صورتحال پر اظہار خیال کیا۔
امریکہ
امریکہ کے سفیر مائیک والٹز نے دونوں ایرانی شخصیات کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ایران کی حکومت نے اپنے ہی شہریوں اور عوام پر جو تشدد اور ظلم ڈھایا ہے اس کے اثرات بین الاقوامی امن و سلامتی پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے عوام اپنی آزادی کا مطالبہ اس قدر شدت سے کر رہے ہیں جس کا مظاہرہ ملک کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا۔
امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ ان کا ملک اور اس کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بہادر ایرانی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ تمام تر بہانوں کے باوجود، ایرانی حکومت اپنے عوام کی معاشی بدحالی کی مکمل ذمہ دار ہے اور اسے جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔
ایران
ایران کے نائب مستقل سفیر غلام حسین دارزی نے کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ملک میں مظاہرین کے تحفظ یا ایرانی عوام کی حمایت کے دعووں کے تحت طاقت کے استعمال کی کوئی بھی دھمکی بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی سنگین خلاف ورزی ہو گی۔ اقوام متحدہ کی ساکھ اور خود چارٹر کی بقا اب اس بات پر منحصر ہے کہ آیا ان بنیادی پابندیوں کا احترام کیا جاتا ہے یا انہیں اس ادارے کے کسی مستقل رکن کی جانب سے کمزور کیا جاتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران نہ کشیدگی چاہتا ہے اور نہ ہی محاذ آرائی۔ اس کے خلاف کسی طرح کے غیرقانونی اقدامات کے تمام نتائج کی ذمہ داری انہی عناصر پر عائد ہوگی جو ایسے اقدامات کا آغاز کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے یہ اجلاس ایرانی قوم کے خلاف اپنے کرائے کے عناصر کی جانب سے کیے گئے جرائم میں اپنی براہ راست شراکت داری کو چھپانے کے لیے طلب کیا ہے۔ امریکہ ایک طرف خود کو ایرانی عوام کا دوست ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ دوسری جانب نام نہاد انسانی ہمدردی کے بیانیے کی آڑ میں سیاسی عدم استحکام اور فوجی مداخلت کی بنیادیں رکھ رہا ہے۔
ایران کے سفیر نے کونسل کے اجلاس میں سول سوسائٹی کے نمائندوں کی شرکت پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے سیاسی ایجنڈے کی نمائندگی کرتے ہیں۔
روس
روس کے سفیر ویزلے نیبینزیا نے سفیروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا دیکھ رہی ہے کہ امریکہ کس طرح ایران کے حوالے سے کشیدگی میں اضافہ کر رہا ہے اور خوف و ہراس کی فضا کو ہوا دے رہا ہے۔ امریکہ کی درخواست پر بلایا گیا سلامتی کونسل کا یہ اجلاس ایک خودمختار ملک کے اندرونی معاملات میں کھلی جارحیت اور مداخلت کو جواز فراہم کرنے کی محض ایک اور کوشش کے سوا کچھ نہیں۔
انہوں نے کہا، اگر واشنگٹن کے بقول ایران کی قیادت ہوش کے ناخن نہیں لیتی تو پھر امریکہ ایرانی مسئلے کو اپنے پسندیدہ طریقے سے حل کرے گا۔ یعنی ایسے حملوں کے ذریعے جو کسی ناپسندیدہ حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے کیے جائیں تاکہ اپنے اقدامات کو ساکھ دی جائے اور ان کا جواز پیش کیا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کے اندرونی معاملات پر توجہ دینے کے بجائے اس اجلاس کو سلامتی کونسل کے اس مینڈیٹ کے زاویے سے دیکھا جانا چاہیے جس کا مقصد بین الاقوامی امن اور سلامتی کو برقرار رکھنا ہے۔
ایران پر سلامتی کونسل کے خصوصی اجلاس کی مکمل ویڈیو
برطانیہ
برطانوی سفیر آرچیبالڈ ینگ نے کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ملک کو ایران میں ممکنہ طور پر ہزاروں افراد کو ہلاک اور گرفتار کیے جانے کی اطلاعات پر صدمہ ہے۔ انٹرنیٹ مکمل طور پر بند کیے جانے کے باوجود ایران سے سامنے آنے والی ویڈیوز سے ظاہر ہوتا ہے کہ حالات کہیں زیادہ خراب ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی ریاست یہ دعویٰ کرے گی کہ مظاہرے بیرونی حمایت یافتہ قوتوں کی ترغیب سے ہوئے لیکن جھوٹ اور پروپیگنڈہ اس کے اقدامات کا جواز نہیں دے سکتا۔
سفیر کا کہنا تھا کہ ان کا ملک ایرانی ریاست کے اقدامات کی سخت مذمت کرتا ہے اور ایرانی عوام بالخصوص ایرانی خواتین کے حوصلے کو خراج تحسین پیش کرتا ہے جو بہادری سے اپنی آزادی اور وقار کے لیے آواز بلند کر رہی ہیں۔
چین
اقوام متحدہ میں چین کے مستقل سفیر سن لی نے کہا کہ امریکہ نے ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کی کھلی دھمکیاں دی ہیں۔ چین ہمیشہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کا حامی رہا ہے اور رکن ممالک کی خودمختار برابری اور اندرونی معاملات میں عدم مداخلت بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصول ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ طاقت کے استعمال سے کبھی مسائل حل نہیں ہوتے۔ بین الاقوامی قانون سے انحراف کرنے والا کوئی بھی اقدام قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ ایران کے خلاف عسکری مہم جوئی خطے کو تباہی کے دہانے پر لے جائے گی۔
فرانس
اقوام متحدہ میں فرانس کے مستقل سفیر جیروم بونا فونٹ نے ایرانی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور ایرانی حکام سے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری اور ایرانی عوام کے بنیادی حقوق اور آزادیوں کا احترام کرنے کی اپیل کی۔
انہوں نے ایران میں بلاجواز حراست میں لیے گئے تمام افراد کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا اور حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق کا خاص اجلاس بلانے اور متعلقہ طریقہ ہائے کار کو فعال کرنے کی بھی اپیل کی۔
پاکستان
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل سفیر عاصم افتخار احمد نے کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک ایران اور خطے میں حالیہ پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور حالات کی جلد معمول پر واپسی کے لیے پرامید ہے۔ پاکستان کو ایرانی عوام اور قیادت کی دانشمندی پر مکمل اعتماد ہے۔
رکن ممالک کے اندرونی معاملات میں کسی بھی طرح کی بیرونی مداخلت بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں سے متصادم ہے۔ جو ہر ملک کی علاقائی سالمیت یا سیاسی خودمختاری کے خلاف طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی کی سختی سے ممانعت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تمام تنازعات کو پرامن ذرائع اور بین الاقوامی قانون کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔ مسلسل کشیدگی، طاقت کا استعمال اور یکطرفہ اقدامات نہ صرف بحرانوں کو مزید گہرا کریں گے بلکہ بے جا انسانی تکالیف کا سبب بھی بنیں گے۔
کولمبیا
کولمبیا کی سفیر لیونور زلاباتا ٹوریس نے کونسل کو یاد دلایا کہ اظہار رائے اور اجتماع کی آزادی بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون میں درج ہیں۔ احتجاج کے حق کے جواب میں ظلم و ستم، مجرمانہ کارروائی اور سنسرشپ کا منظم انداز ناقابل جواز ہے اور قانون کی حکمرانی کو کمزور کرتا ہے۔
انہوں نے خاص طور پر خواتین پر اس کے ممکنہ غیر متناسب اثرات بارے تشویش ظاہر کی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے لیے ملک میں محفوظ رسائی کی فوری ضمانت اور انٹرنیٹ کی بحالی کا مطالبہ کیا۔
بحرین
اقوام متحدہ میں بحرین کی نائب مستقل مندوب نینسی عبداللہ جمال نے کہا کہ ان کے ملک کو ایران کے واقعات پر گہری تشویش ہے۔ ایرانی حکام احتیاط برتیں اور کسی بھی ایسی کشیدگی یا تشدد سے گریز کریں جو جانی و مالی نقصان یا خطے کی سلامتی اور استحکام پر سنگین اثرات مرتب کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ کی بنیادی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے۔ ایرانی حکومت اپنے عوام کے بہترین مفاد کا تحفظ کرے اور ان کی خواہشات کو پورا کیا جائے تاکہ ملک اور خطے میں سلامتی اور استحکام حاصل ہو سکے۔