ایران کی صورتحال پر سلامتی کونسل کے خصوصی اجلاس کی مکمل ویڈیو کوریج
ایران کی موجودہ صورتحال پر غور کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا خصوصی اجلاس نیو یارک میں شروع ہوچکا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، حالیہ ہفتوں کے دوران ایران میں حکومت مخالف مظاہروں میں سیکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
سلامتی کونسل کا یہ اجلاس امریکہ کی درخواست پر بلایا گیا ہے جس نے جمعرات کو ایرانی حکومت کی جانب سے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن پر تادیبی اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے ایران کے پانچ اعلیٰ حکام پر پابندیاں نافذ کیں جن میں ملک کی سپریم کونسل برائے قومی سلامتی (ایس سی این ایس) کے سیکرٹری علی لاریجانی بھی شامل ہیں۔
دسمبر کے آخری ہفتے میں مہنگائی میں اضافے اور قومی کرنسی کی قدر میں اچانک کمی کے خلاف ایران میں ملک گیر احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔
اتوار کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے ملک میں تشدد کی خبروں اور ایرانی حکام کی جانب سے مظاہرین کے خلاف طاقت کے حد سے زیادہ استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور تحمل سے کام لینے پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے تمام شہریوں کو یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ اپنے مطالبات کا پرامن انداز میں اور بلاخوف اظہار کر سکیں۔
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اظہار رائے، تنظیم سازی اور پرامن اجتماع کے حقوق بین الاقوامی قانون کا حصہ ہیں اور ان کا مکمل احترام کیا جانا چاہیے۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے مظاہرین کی ہلاکتوں، تشدد کے واقعات اور انسانی حقوق کی پامالیوں کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے ایسے واقعات کے ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرانے پر زور دیا ہے۔