فلسطینی علاقوں میں امدادی تنظیموں پر اسرائیلی پابندیاں خلاف قانون، ماہرین
جمہوری و انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کے ماہرین نے اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں درجنوں غیرسرکاری امدادی تنظیموں (این جی اوز) کی معطلی کو قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
ماہرین نے کہا ہے کہ اسرائیل امدادی سرگرمیوں کو روک کر مقبوضہ علاقوں کے جان لیوا حالات کو مزید بدتر بنا رہا ہے جس کے نتیجے میں اس کی قیادت پر اس ممکنہ مجرمانہ عمل ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ غزہ میں لوگوں کی زندگی کو تحفظ دینے والی تنظیموں پر پابندی اسرائیلی پالیسی میں ایک نئے جابرانہ مرحلے کی نشاندہی کرتی ہے جبکہ اس پالیسی کے ذریعے نسل کشی سے تباہ حال آبادی کے لیے زندگی پہلے ہی ناقابل برداشت ہو گئی ہے۔
یہ حکمت عملی ایسے حالات پیدا کرے گی جو فلسطینیوں کو دائمی محرومی میں دھکیل دیں گے بطور گروہ ان کی بقا کو خطرے میں ڈالیں گے اور نسل کشی کنونشن کی مزید خلاف ورزی کا باعث بنیں گے، لہٰذا ایسے اقدامات کو فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔
اسرائیل نے 30 دسمبر 2025 کو اٹھائے گئے قومی سلامتی کے اقدام کے طور پر اس نئے ضابطے کے تحت 37 بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کو غزہ اور مغربی کنارے میں کام کرنے سے روک دیا ہے۔ اس قانون کے ذریعے اسرائیلی حکام کو وسیع صوابدیدی اختیارات دیے گئے ہیں جن کے تحت وہ ان تنظیموں کو اس بنیاد پر مسترد کر سکتے ہیں کہ انہوں نے ماضی میں اسرائیلی شہریوں کے خلاف بین الاقوامی قانونی کارروائیوں اور ان کے بائیکاٹ کی حمایت کی یا اسرائیل کو ایک یہودی اور جمہوری ریاست تسلیم نہیں کیا۔
امدادی سرگرمیوں پر منظم حملے
ماہرین نے کہا ہے کہ یہ پابندی کوئی نیا اقدام نہیں بلکہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں امدادی سرگرمیوں پر منظم حملے کا حصہ اور غزہ میں زندگی کی آخری امید کو دانستہ طور پر ختم کرنے کی ایک اور کوشش ہے۔
غزہ میں نسل کشی سے بچ جانے والے افراد شدید سردی، خوراک کی بدترین کمی اور غذائی قلت کے علاوہ صحت و تعلیم کے نظام کی مکمل تباہی کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں شدید ماحولیاتی نقصان بھی ہو چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق، اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی افواج 500 سے زیادہ امدادی کارکنوں اور طبی عملے کے کم از کم 1,500 ارکان کو قتل کر چکی ہیں جبکہ امدادی کارکنوں کو دھمکانے، ہراساں کرنے اور ان کے خلاف بدنامی کی منظم مہمات بھی چلائی گئی ہیں۔ اقوام متحدہ کا ادارہ 'انروا' ان کارروائیوں کاسب سے نمایاں ہدف رہا ہے لیکن وہ واحد ہدف نہیں۔
نسل کشی کا نیا مرحلہ
ماہرین نے زور دیا ہے کہ ان اقدامات کو قانونی اور زمینی حقائق کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ یہ غزہ میں ایسے حالات پیدا کرنے کی حکمت عملی ہے جو فلسطینیوں کو دائمی محرومی میں دھکیل دیں، بطور گروہ ان کی بقا کو خطرے میں ڈالیں اور نسل کشی کنونشن کی مزید خلاف ورزی کا سبب بنیں۔
31 دسمبر 2025 تک تقریباً 50 ملین امریکی ڈالر مالیت کی ضروری امداد غزہ میں نہیں آ سکی جبکہ اس دوران جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری رہیں جن میں اسرائیلی افواج کی غزہ کے نصف سے زیادہ حصے میں پیش قدمی، فضائی حملے اور گولہ باری بھی شامل ہے۔ اس کے نتیجے میں تین ماہ سے کم عرصہ میں 400 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہوئے۔
ان کا کہنا ہے کہ اب اسرائیل اور اس کے حامی 'بغیر گواہ نسل کشی' کے مرحلے تک پہنچ چکے ہیں۔ صحافیوں کو قتل کیا جا رہا ہے، انہیں رسائی سے روکا جا رہا ہے یا بے دخل کیا جا رہا ہے، امدادی تنظیمیں مفلوج یا ملک بدر کی جا رہی ہیں اور دنیا کو ایک گمراہ کن تاثر دیا جا رہا ہے کہ جنگ بندی ہو چکی ہے جبکہ مظالم بلاروک و ٹوک جاری ہیں۔
دسمبر کے آغاز میں اقوامِ متحدہ کے ادارے اور این جی اوز صرف 85 ہزار افراد کے لیے 14,600 خیمے فراہم کر سکے جس کے نتیجے میں 13 لاکھ فلسطینی مناسب سرمائی پناہ سے محروم رہ گئے۔ اب تک کئی افراد، جن میں چھ بچے بھی شامل ہیں، ہائپوتھرمیا، ڈوبنے یا سردی سے متعلق زخموں کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
عالمی برادری کی ذمہ داری
ماہرین نے بااثر ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ میں انسانی امداد کی غیر مشروط رسائی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔ یہ ناقابل قبول ہے کہ جس ریاست پر بین الاقوامی جرائم کے الزامات ہوں اور جو غیر قانونی قبضہ برقرار رکھے ہوئے ہو وہ مقبوضہ علاقے میں ضروری امداد کو روک دے۔
انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر دیگر ممالک کے رہنما نسل کشی کو روکنے کے لیے اپنے اختیار میں تمام ممکنہ اقدامات نہ کریں تو ان پر بھی اس جرم کی ذمہ داری عائد ہو سکتی ہے۔
ماہرین نے واضح کیا ہے کہ اگرچہ اسرائیل کے غیر قانونی قبضے اور نسل پرستانہ طرز عمل کا خاتمہ ہی خطے میں پائیدار امن کی واحد ضمانت ہے تاہم رکن ممالک کو فوری طور پر انسانی امداد کی راہ میں تمام رکاوٹیں ختم کرنی چاہئیں اور اقوام متحدہ کی نگرانی میں زمینی اور بحری راستوں کے ذریعے مقبوضہ علاقوں میں محفوظ، مسلسل اور بلا رکاوٹ رسائی کو یقینی بنانا چاہیے۔
غیر جانبدار ماہرین و اطلاع کار
غیرجانبدار ماہرین یا خصوصی اطلاع کار اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقہ کار کے تحت مقرر کیے جاتے ہیں جو اقوام متحدہ کے عملے کا حصہ نہیں ہوتے اور اپنے کام کا معاوضہ بھی وصول نہیں کرتے۔