انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ماورائے عالمی قوانین طرزعمل پر خاموشی کی گنجائش نہیں، یو این چیف

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے پوڈیم پر تقریر کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے شعار کو دیکھا جا رہا ہے۔
UN Photo/Manuel Elías
اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتیرش جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔

ماورائے عالمی قوانین طرزعمل پر خاموشی کی گنجائش نہیں، یو این چیف

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کو تنازعات، عدم مساوات، جغرافیائی سیاسی تقسیم اور غیر یقینی حالات کا سامنا ہے، لیکن ناانصافی، بے حسی یا قانون سے بالاتر رویوں کے سامنے خاموش تماشائی بن کر کھڑا ہونے کی کوئی گنجائش نہیں۔

انہوں نے نئے سال کے آغاز پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے آخری خطاب میں کہا ہے کہ جس وقت دنیا کو بین الاقوامی تعاون کی سب سے زیادہ ضرورت ہے اس وقت یہ اس تعاون کو اپنانے اور اس میں سرمایہ کاری کرنے پر کچھ زیادہ آمادہ دکھائی نہیں دیتی۔ تاہم، ہر طرح کے ہنگامہ خیز حالات کے باوجود، اقوام متحدہ نے ایسی جگہوں پر بھی بہتری لانے کے لیے اپنی گنجائش پیدا کی ہے جہاں پہلے اسے یہ موقع نہیں دیا گیا تھا۔

Tweet URL

انہوں نے اس حوالے سے غزہ، یوکرین، سوڈان اور دیگر خطوں میں امن کی راہ پر قائم رہنے کے عزم اور انتہائی ضرورت مند افراد تک ضروری امداد پہنچانے کے لیے ہر ممکن کوششوں کا حوالہ دیا۔ 

ان کا کہنا تھا کہ تین اصول ایسے ہیں جن پر اقوام متحدہ کے تمام کام کی بنیاد ہونی چاہیے۔ ان میں ادارے کے منشور کی مکمل اور مخلصانہ پاسداری، انصاف پر مبنی امن اور تقسیم کے دور میں اتحاد کی تعمیر شامل ہیں۔

عالمی قانون کی کھلی پامالی 

سیکرٹری جنرل نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ کا منشور بین الاقوامی تعلقات، امن، پائیدار ترقی اور انسانی حقوق کی بنیاد ہے۔ آج بین الاقوامی قانون کی پامالی کسی خفیہ انداز میں نہیں ہو رہی بلکہ دنیا بھر کی ٹی وی سکرینوں پر سب کے سامنے ہو رہی ہے۔ لوگ براہ راست دیکھ رہے ہیں کہ قانون کی خلاف ورزی پر بازپرس نہ ہونے کے کیا نتائج نکلتے ہیں۔ 

غیر قانونی طاقت کا استعمال اور اس کی دھمکیاں، شہریوں، امدادی کارکنوں اور اقوام متحدہ کے اہلکاروں پر حملے، غیر آئینی حکومتی تبدیلیاں، انسانی حقوق کی پامالیاں، اختلاف رائے پر جبر اور وسائل کی لوٹ مار اس کے واضح نتائج ہیں۔

انصاف پر مبنی امن

انتونیو گوتیرش نے دنیا میں جاری مختلف تنازعات کا ذکر کیا جن میں غزہ بھی شامل ہے جہاں انہوں نے جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے آغاز کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے علاقے میں انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ جنگ بندی کا مکمل نفاذ ہونا چاہیے تاکہ بین الاقوامی قانون کے مطابق دو ریاستی حل کی جانب ناقابل واپسی راہ ہموار ہو سکے۔

انہوں نے سوڈان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ فریقین کو فوری طور پر لڑائی بند کرنے پر اتفاق کرنا چاہیے اور مستقل جنگ بندی اور سوڈانی قیادت میں ایک جامع سیاسی عمل کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے چاہئیں۔ صرف بندوقیں خاموش کرا دینا کافی نہیں۔ امن صرف جنگ کی عدم موجودگی کا نام نہیں۔ تنازعات کی جڑوں کو ختم کرنا ہو گا ورنہ مسئلے کا کوئی بھی حل کمزور ثابت ہو گا۔

انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو بھی بڑا خطرہ قرار دیا اور خبردار کیا کہ موسمیاتی ابتری کا شکار دنیا کبھی پرامن دنیا نہیں ہو سکتی۔ موسمیاتی انصاف دراصل امن اور سلامتی میں سرمایہ کاری ہے کیونکہ کہیں بھی کمزوری ہر جگہ خطرہ بن جاتی ہے۔

پناہ گزینوں کے حقوق

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ دنیا بھر میں نسل پرستی، غیر ملکیوں سے نفرت، انتہا پسندانہ قوم پرستی اور مذہبی عدم برداشت کے بوجھ تلے دبے معاشرے ٹوٹنے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ یہ زہریلے رجحانات سماجی تانے بانے کو کھوکھلا کر رہے ہیں اور تقسیم اور بداعتمادی کو ہوا دے رہے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ بہت سے لوگ خود کو نظرانداز شدہ محسوس کرتے ہیں جبکہ تیز رفتار عالمگیریت اور ٹیکنالوجی کی ترقی نے ان کے لیے دستیاب مواقع کو محدود کر دیا ہے۔ معاشرے خود کو بند کر کے یا دیواریں کھڑی کر کے آگے نہیں بڑھ سکتے۔ ہر ملک کو بین الاقوامی قانون کے دائرے میں اپنی سرحدوں کے انتظام اور اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کا خودمختار حق حاصل ہے لیکن مہاجرین اور پناہ گزینوں کے بھی حقوق ہیں جن کا ہر جگہ احترام اور تحفظ کیا جانا چاہیے۔

متحد معاشروں کی تعمیر

انہوں نے زور دیا کہ تمام انسانوں کو متحد معاشرے تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے جہاں تشویشناک کے علاوہ امید افزا چیزیں بھی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ تقسیم اور عدم مساوات کی قوتیں مضبوط ہیں لیکن یکجہتی اور انصاف کی صلاحیت بھی اتنی ہی طاقتور ہے اور مشکل حالات میں بھی اپنے کام کو امن، وقار اور امید سے جوڑا جا سکتا ہے۔

خطاب کے آخر میں سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ یہ بات کبھی نہیں بھلانی چاہیے کہ ہم کون ہیں اور کس مقصد کے لیے کھڑے ہیں۔ اقوام متحدہ ایک زندہ وعدہ اور اس بات کا وعدہ ہے کہ اختلافات کے باوجود مسائل کو مل جل کر حل کیا جائے گا۔ اس وعدے کو نبھانا ہو گا اور شکست تسلیم کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔