روہنگیا نسل کشی مقدمہ: مسلمانوں کو توہین اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا، گیمبیا
عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں میانمار کے خلاف انسداد نسل کشی کنونشن کی خلاف ورزی کے الزام میں گیمبیا کے مقدمے کی سماعت جاری ہے۔ عدالت کو بتایا گیا ہے کہ میانمار کے فوجی حکام نے روہنگیا اقلیت کے خلاف تشدد کو ہوا دی اور انہیں 'مسلمان کتے' قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا خاتمہ ہونا چاہیے۔
گیمبیا کی قانونی ٹیم کی رکن جیسیکا جونز نے عدالت کے روبرو کہا کہ روہنگیا طویل عرصہ سے میانمار کی فوج کے حکام کی جانب سے تضحیک اور اظہار نفرت کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔
انہوں نے اگست 2017 میں فیس بک پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو کا حوالہ دیا جس میں ایک فوجی اہلکار روہنگیا کے خلاف نسل کش تشدد کی کھلی ترغیب دیتا دکھائی دیتا ہے جبکہ ایسے اقدامات 1948 کے انسداد نسل کشی کنونشن کے تحت میانمار کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس فوجی افسر کا کہنا تھا 'ہم ان دیہاتوں کو صاف کر دیں گے جہاں یہ جانور رہتے ہیں۔ ہمارے پاس بندوقیں ہیں، گولیاں ہیں۔ ہم اسی مقصد کے لیے آئے ہیں۔ اسلحے اور ان جانوروں پر حملہ کرنے کے جذبے کے ساتھ۔ اگر تم تلوار اٹھا سکتے ہو تو تلوار اٹھاؤ، لاٹھی اٹھا سکتے ہو تو لاٹھی اٹھاؤ، جو بھی اٹھا سکتے ہو اٹھاؤ اور بہادری سے ان جانوروں کا سامنا کرو۔'
مسلم اکثریتی افریقی ملک گیمبیا کا الزام ہے کہ میانمار کی فوجی حکومت نے 2016 سے 2018 کے دوران ریاست راخائن کے شمالی علاقوں میں روہنگیا افراد کے خلاف بدترین نسل کشی کے جرائم کا ارتکاب کیا۔ ان میں اجتماعی پھانسیاں، خواتین اور بچوں سمیت 10 ہزار تک عام شہریوں کا اندھا دھند قتل، وسیع پیمانے پر جنسی تشدد اور سیکڑوں دیہاتوں کو جان بوجھ کر نذر آتش کرنا شامل ہے۔
نسلی تطہیر کی درسی مثال
2017 میں اس وقت اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق زید رعد الحسین نے روہنگیا کے خلاف تشدد کو نسلی تطہیر کی درسی مثال قرار دیا تھا جس کے نتیجے میں تقریباً سات لاکھ روہنگیا ہمسایہ ملک بنگلہ دیش کی جانب فرار ہونے پر مجبور ہوئے جہاں ان کی اکثریت آج بھی مقیم ہے۔
2020 میں گیمبیا کی درخواست پر 'آئی سی جے' نے میانمار کو نسل کشی کے اقدامات روکنے کا حکم دیا تھا۔ اب گیمبیا عدالت سے مطالبہ کر رہا ہے کہ میانمار کو اس کے اقدامات پر جوابدہ ٹھہرایا جائے اور متاثرین کے لیے تلافی اور معاوضہ یقینی بنایا جائے۔
میانمار طویل عرصہ سے اس الزام کی تردید کرتا آ رہا ہے کہ اس نے روہنگیا کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا۔ اس کا دعویٰ ہے کہ وہ محض انسداد بغاوت کی کارروائیاں کر رہا تھا۔
اہم ترین مقدمہ
یہ مقدمہ بین الاقوامی قانون کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل سمجھا جا رہا ہے کیونکہ یہ پہلا موقع ہے کہ اس عدالت کے جج ایسے تنازع پر فیصلہ دینے جا رہے ہیں جو کسی ایسے ملک کی جانب سے دائر کیا گیا ہے جو مبینہ جرم سے براہ راست متاثر نہیں ہوا۔
آئندہ ہفتے تین روہنگیا گواہوں کی عدالت میں پیشی متوقع ہے جو اپنے ساتھ پیش آنے والے ہولناک واقعات پر بیانات دیں گے۔
'آئی سی جے' اقوام متحدہ کا اعلیٰ ترین عدالتی ادارہ ہے جو رکن ممالک کے درمیان قانونی تنازعات کا فیصلہ کرتا اور بین الاقوامی قانون سے متعلق مشاورتی آرا دیتا ہے۔ یہ عدالت افراد کے خلاف مقدمات نہیں سنتی بلکہ ریاستی ذمہ داری کا تعین کرتی ہے۔
نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں اس مقدمے کی سماعت 29 جنوری تک جاری رہے گی۔