گزشتہ 11 سال تاریخ کا گرم ترین عرصہ رہا، ڈبلیو ایم او
اقوام متحدہ کے موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) نے بتایا ہے کہ گزشتہ 11 برس جدید دور کے گرم ترین سال رہے جبکہ سمندر بھی ماضی کے مقابلے میں مسلسل گرم ہو رہے ہیں۔
ادارے نے تصدیق کی ہے کہ 2025 ریکارڈ پر موجود تین گرم ترین برسوں میں شامل تھا جس سے عالمی حدت میں غیر معمولی اضافے کا سلسلہ برقرار رہا۔ گزشتہ سال دنیا بھر میں زمین کی سطح کا اوسط درجہ حرارت قبل از صنعتی دور کی اوسط کے مقابلے میں 1.44 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ تھا۔
گزشتہ سال 2023 سے شروع ہونے والی حدت کی تین سالہ اوسط کے مقابلے میں قدرے کم گرم تھا جس کی ایک وجہ لا نینیا کا موسمی رجحان ہے جو نسبتاً سرد موسم سے منسلک ہوتا ہے۔ تاہم 'ڈبلیو ایم او' نے واضح کیا ہے کہ لا نینیا کے باعث آنے والی عارضی ٹھنڈک سے طویل المدتی حدت کے رجحان کا خاتمہ نہیں ہوا۔
شدید موسمی واقعات
گزشتہ سال زمین اور سمندروں کی غیر معمولی حدت نے شدید موسمی واقعات کو جنم دیا، جن میں سخت گرمی کی لہریں، موسلا دھار بارشیں اور مہلک سمندری طوفان شامل ہیں۔ اس صورتحال نے قدرتی آفات سے بروقت انتباہ کے نظام کی اہمیت کو مزید اجاگر کر دیا ہے۔
'ڈبلیو ایم او' کی سیکرٹری جنرل سیلسٹ ساؤلو نے کہا ہے کہ 2025 کا آغاز اور اختتام لا نینیا کے ٹھنڈے اثرات کے ساتھ ہوا، لیکن اس کے باوجود یہ عالمی سطح پر ریکارڈ گرم ترین برسوں میں شامل رہا جس کی بنیادی وجہ فضا میں حرارت کو قید کرنے والی گرین ہاؤس گیسوں کا مسلسل ارتکاز ہے۔
سمندروں میں بڑھتی ہوئی حدت
ادارے نے ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ گزشتہ سال سمندروں کا درجہ حرارت بھی بلند ترین سطح پر رہا جس سے موسمیاتی نظام میں طویل عرصہ سے جمع ہونے والی حرارت کی عکاسی ہوتی ہے۔
دنیا کے تقریباً 33 فیصد سمندری رقبے کا درجہ حرارت 1958 سے 2025 کے درمیان ریکارڈ کی گئی تین گرم ترین سطحوں میں شامل رہا جبکہ تقریباً 57 فیصد سمندری علاقے پانچ گرم ترین سطحوں میں آئے۔ ان میں بحر اوقیانوس کا استوائی اور جنوبی حصہ، بحیرہ روم، شمالی بحر ہند اور جنوبی سمندر شامل ہیں جو مختلف سمندری خطوں میں وسیع پیمانے پر حدت کے رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔
'ڈبلیو ایم او' نے اعلان کیا ہے کہ وہ گرین ہاؤس گیسوں، سطح زمین کے درجہ حرارت، سمندری حدت اور دیگر رجحانات سمیت موسمیاتی تبدیلی کے اہم اشاریوں کی مکمل تفصیلات تازہ ترین عالمی موسمیاتی صورتحال پر مارچ میں جاری کردہ اپنی رپورٹ میں بتائے گا۔