انسانی کہانیاں عالمی تناظر

جنوبی یمن کے مستقبل کا فیصلہ کسی ایک فریق کے بس میں نہیں، گرنڈبرگ

یمن کے لیے جنرل سیکریٹری کے خصوصی نمائندے ہانس گرینڈبرگ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو یمن کی صورتحال سے آگاہ کیا۔
14-01-2026-UN-Photo-Hans-Grundberg.jpg
یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے ہینز گرنڈبرگ ویڈیو لنک کے ذریعے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔

جنوبی یمن کے مستقبل کا فیصلہ کسی ایک فریق کے بس میں نہیں، گرنڈبرگ

امن اور سلامتی

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے ہینز گرنڈبرگ نے واضح کیا ہے کہ جنوبی یمن کے مستقبل کا فیصلہ نہ تو کوئی ایک فریق کر سکتا ہے اور نہ ہی طاقت کے زور پر اس مسئلے کا حل ممکن ہے۔ اقوام متحدہ کی سرپرستی میں امن عمل کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے جامع اور ہمہ گیر سیاسی مکالمہ ناگزیر ہے۔

انہوں نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ چند ماہ کےدوران یمن میں تیز رفتار اور اہم پیش رفت دیکھنے کو ملی ہے جس کے نتیجے میں سیاسی اور سلامتی کے توازن میں تبدیلیاں آئی ہیں۔ ان حالات میں جنوبی یمن کا پیچیدہ اور دیرینہ مسئلہ آخرکار تمام یمنی عوام بالخصوص جنوبی علاقے میں رہنے والے تمام طبقات کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

Tweet URL

گرنڈبرگ نے بتایا کہ صدر رشاد العلیمی کی جانب سے سعودی عرب کی میزبانی میں جنوبی یمن کے مختلف فریقوں کے ساتھ مکالمے کا اقدام اس علاقے سے متعلق مسئلے کو مشمولہ سیاسی عمل کے ذریعے حل کرنے کی سمت ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔ یہ مکالمہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یمن میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع سیاسی عمل کے لیے داخلی مشاورت اور اتفاق رائے کس قدر ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور اس سلسلے میں انہوں نے قاہرہ، مسقط اور ریاض میں یمنی فریقوں، علاقائی شراکت داروں اور عالمی برادری کے نمائندوں سے تفصیلی ملاقاتیں کی ہیں تاکہ کشیدگی کم کی جا سکے اور سیاسی حل کو فروغ دیا جا سکے۔ 

تصادم سے گریز کی ضرورت 

خصوصی نمائندے نے خبردار کیا کہ اگرچہ حالیہ دنوں عسکری کشیدگی میں کمی آئی ہے اور عمومی استحکام دیکھا گیا ہے تاہم جنوبی یمن کے بعض حصوں میں سلامتی کی صورتحال اب بھی نازک ہے۔ اگر یمن کے بے شمار مسائل کو الگ الگ حل کرنے کے بجائے ایک جامع حکمت عملی کے تحت ان پر قابو نہ پایا گیا تو ملک کو استحکام نصیب نہیں ہو گا۔

 یہ یمنی قیادت کے لیے فیصلہ کن لمحہ ہے کہ وہ طاقت کے بجائے سیاست، تقسیم کے بجائے اداروں اور تنگ نظری کے بجائے قومی مفاد میں سرمایہ کاری کرے۔ اس وقت یمن کو نئے تصادم کی نہیں بلکہ استحکام اور جامع امن عمل کی جانب فیصلہ کن قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ 

انہوں نے صنعا میں اقوام متحدہ، غیرسرکاری اداروں اور سفارت خانوں کے عملے کی حراست پر سخت تشویش کا اظہار کیا اور بتایا کہ عملے کی رہائی کے لیے اقوام متحدہ کی کوششوں کے باوجود انصار اللہ (حوثیوں) نے مزید افراد کو حراست میں لے لیا ہے اور تشویشناک بات یہ ہے کہ بعض کو ان کی خصوصی فوجداری عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔

ایسے اقدامات اقوام متحدہ پر سنگین حملہ اور بالواسطہ طور پر پوری عالمی برادری کے خلاف ہیں۔ انہوں نے انصار اللہ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر تمام زیرحراست عملے کو رہا کریں، عدالت میں بھیجے گئے مقدمات واپس لیں اور اقوام متحدہ کے اداروں پر مزید حملے بند کریں۔ انہوں نے علاقائی اور عالمی فریقین سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اپنے اثر و رسوخ کو بروئے کار لا کر اقوام متحدہ کے عملے کی فوری رہائی یقینی بنائیں۔

بدترین انسانی حالات

اقوام متحدہ کے امدادی رابطہ دفتر (اوچا)کے ڈائریکٹر رمیش راجاسنگھم نے کہا ہے کہ نئے سال کے آغاز پر یمن میں انسانی بحران مزید سنگین ہو چکا ہے۔ ضروریات میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ امداد تک رسائی کم ہو رہی ہے اور مالی وسائل کی قلت ہے۔

انہوں نے سلامتی کونسل کے سامنے تین مطالبات رکھتےہوئے کہا کہ:

کونسل کے تمام ارکان اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے انصاراللہ کے زیرحراست اقوام متحدہ کے 73 اہلکاروں اور بین الاقوامی و مقامی این جی اوز، سول سوسائٹی اور سفارتی اداروں کے موجودہ و سابق عملے کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالیں۔

یمنی بحران سے نمٹنے کے لیے مالی امداد میں اضافہ کیا جائے کیونکہ یہ بحران ختم ہونے کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے۔

سلامتی کونسل متحد رہے اور یمن کے حوالے سے انسانی اقدار کے دفاع میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کرے۔

سلامتی کونسل میں قرارداد کی منظوری

ایک علیحدہ اجلاس میں سلامتی کونسل نے ایک قرارداد منظور کی جس کے تحت اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حوثیوں کے حملوں سے متعلق ماہانہ رپورٹ پیش کرنے کی شرط کو مزید چھ ماہ (15 جولائی تک) کے لیے توسیع دی گئی۔

قرارداد 2812 کے حق میں 13 ووٹ آئے جبکہ روس اور چین نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔