عالمی سطح پر روزگار کی صورتحال مستحکم لیکن معقول ملازمتوں کی کمیابی
عالمی سطح پر بے روزگاری کی شرح بظاہر مستحکم ہے تاہم اچھے روزگار کے مواقع میں کمی آئی ہے جبکہ مصنوعی ذہانت اور تجارتی پالیسیوں میں غیر یقینی صورتحال معاش سے متعلق مسائل کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
عالمی ادارہ محنت (آئی ایل او) کی جانب سے رواں سال کے لیے روزگار اور سماجی رجحانات سے متعلق جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2026 میں عالمی سطح پر بے روزگاری کی شرح تقریباً 4.9 فیصد رہنے کا امکان ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا بھر میں تقریباً 18 کروڑ 60 لاکھ افراد بے روزگار ہوں گے۔
روزگار میں سب سے زیادہ اضافہ غریب ممالک میں متوقع ہے جس کی ایک بڑی وجہ امیر ممالک میں معمر افراد کی بڑھتی ہوئی آبادی ہے جس کے باعث کام کرنے کی عمر کے افراد کی تعداد میں کمی آ رہی ہے۔ بالائی متوسط درجے کی آمدنی والے ممالک میں روزگار بڑھنے کی شرح 0.5 فیصد متوقع ہے جبکہ کم آمدنی والے ممالک میں یہ شرح 3.1 فیصد تک ہو سکتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برسرروزگار ہونے کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ سبھی اچھا روزگار کما رہے ہیں۔ تقریباً 30 کروڑ لوگ ایسے ہیں جو کام کرنے کے باوجود انتہائی غربت میں زندگی گزار رہے ہیں اور ان کی روزانہ آمدنی 3 ڈالر سے کم ہے۔
امسال غیررسمی شعبے میں کام کرنے والوں کی تعداد اندازاً 2.1 ارب ہو گی جہاں انہیں سماجی تحفظ، کام کے حقوق اور ملازمت کے تحفظ تک محدود رسائی ہوتی ہے۔
نوجوانوں کے روزگار کو خطرہ
کم آمدنی والے ممالک میں نوجوانوں کے لیے روزگار کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے جہاں 27.9 فیصد نہ تو تعلیم میں ہیں اور نہ ہی انہیں کسی ہنر کی تربیت حاصل ہے۔
اعلیٰ آمدنی والے ممالک کے تعلیم یافتہ نوجوان بھی اس غیر یقینی صورتحال سے محفوظ نہیں۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور خودکار نظام ان کے لیے روزگار کا حصول مزید مشکل بنا سکتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس ٹیکنالوجی پر کڑی نگرانی کی ضرورت ہے۔
صنفی فرق برقرار
خواتین کے حقوق اور مساوات کے تناظر میں اس رپورٹ کے اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ سماجی روایات اور دقیانوسی تصورات اب بھی مضبوطی سے قائم ہیں۔
ان شعبوں میں گزشتہ دہائیوں کے دوران حاصل ہونے والی کامیابیاں رک گئی ہیں اور کام کی جگہ پر صنفی برابری کی جانب پیش رفت سست ہو گئی ہے۔ آج مردوں کے مقابلے میں خواتین کے افرادی قوت میں شامل ہونے کے امکانات 24 فیصد کم ہیں۔
غیر یقینی تجارتی صورتحال
گزشتہ سال عالمی معیشت بین الاقوامی تجارتی قوانین اور محصولات (ٹیرف) میں بڑی تبدیلیوں سے بری طرح متاثر ہوئی جن میں امریکہ کا مرکزی کردار رہا۔
عالمی تجارت دنیا بھر میں تقریباً 46 کروڑ 50 لاکھ افراد کے روزگار کو سہارا دیتی ہے جن میں سے نصف سے زیادہ کا تعلق ایشیا اور الکاہل خطے سے ہے۔ اس غیر یقینی صورتحال کے باعث خاص طور پر جنوب مشرقی ایشیا، جنوبی ایشیا اور یورپ میں محنت کشوں کی اجرتیں متاثر ہو رہی ہیں۔
مربوط اور مشترکہ اقدامات
'آئی ایل او' کے ڈائریکٹر جنرل گلبرٹ ہونگبو نے باعزت روزگار اور سماجی انصاف کے فروغ کے لیے بالخصوص کمزور معیشتوں میں مربوط اقدامات اور اداروں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومتوں، آجروں اور کارکنوں نے باہم مل کر ذمہ دارانہ طور پر ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے اور خواتین و نوجوانوں کے لیے معیاری روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے مشترکہ و مربوط ادارہ جاتی اقدامات نہ کیے تو باعزت روزگار کا فقدان برقرار رہے گا اور سماجی ہم آہنگی خطرے میں پڑ جائے گی۔
علاقائی صورتحال
افریقہ
- ذیلی صحارا افریقہ میں اچھی آمدنی والی ملازمتوں کی تعداد آبادی میں تیزی سے ہونے والے اضافے کے مقابلے میں ناکافی ہے۔
- اس خطے میں تقریباً 90 فیصد کارکن غیر رسمی روزگار سے وابستہ ہیں۔
- نصف سے زیادہ کارکن درمیانی درجے کی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔
لاطینی امریکہ اور غرب الہند
- 2024 سے 2025 کے درمیان روزگار میں 44 لاکھ کا اضافہ ہوا۔ روزگار اور آبادی کا تناسب 59.1 فیصد سے بڑھ کر 59.3 فیصد ہو گیا۔
- 2025 میں 51.1 فیصد روزگار غیر رسمی تھا۔
- نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 11.9 فیصد رہی جو ان سے بڑی عمر کے افراد کی شرح (4.3 فیصد) سے تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔
شمالی امریکہ
- روزگار میں اضافے کی رفتار سست ہو رہی ہے اور خالی آسامیوں میں کمی آ رہی ہے۔
- درمیانی مدت میں کینیڈا اور امریکہ دونوں میں بے روزگاری بڑھنے کا امکان ہے۔
عرب ممالک
- گزشتہ سال خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک کی افرادی قوت میں خواتین کی شرح 39.5 فیصد رہی جبکہ مردوں کی شرح 86.7 فیصد تھی۔ غیر جی سی سی ممالک میں فرق اور بھی زیادہ ہے جہاں 66.1 فیصد مرد اور صرف 10.8 فیصد خواتین برسرروزگار ہیں۔
- جی سی سی ممالک ڈیجیٹلائزیشن اور مصنوعی ذہانت سے متعلق حکمت عملی تیار کرنے میں تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں جبکہ دیگر ممالک کمزور بنیادی ڈھانچے اور سرمایہ کاری کی کمی کے باعث مسائل کا شکار ہیں۔
- گزشتہ سال تمام عرب ممالک میں بے روزگاری کی شرح 9.5 فیصد رہی جو 2024 کی شرح کے برابر تھی۔
ایشیا اور الکاہل
- 2025 میں بے روزگاری کی شرح 4.1 فیصد رہی جو ایک دہائی قبل 5.1 فیصد تھی۔
- صنعتی روزگار اب بھی ملازمتوں کا اہم ذریعہ ہے جو مجموعی روزگار کا 16.1 فیصد جبکہ مشرقی ایشیا میں 20 فیصد ہے۔
- نوجوانوں کے روزگار کو مسلسل مسائل درپیش ہیں۔ چین میں گزشتہ سال کے وسط میں شہری نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 17.8 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔
یورپ اور وسطی ایشیا
- بے روزگاری کی شرح 5.5 فیصد پر مستحکم ہے۔
- وسطی و مغربی ایشیا میں 31.5 فیصد کارکن غیر رسمی روزگار سے وابستہ ہیں۔
- مشرقی یورپ میں یہ شرح 13.8 فیصد جبکہ شمالی، جنوبی اور مغربی یورپ میں صرف 3.6 فیصد ہے۔
- معمر افراد کی بڑھتی آبادی طویل مدتی خطرات پیدا کر رہی ہے۔ 2050 تک مجموعی آبادی میں معمر افراد کا تناسب نمایاں طور پر بڑھنے کا امکان ہے۔
اقوام متحدہ کی سفارشات
- مہارتوں، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے میں مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔
- روزگار میں صنفی بنیاد پر فرق کو کم کرنے اور نوجوانوں کے لیے ملازمتیں بڑھانے کی غرض سے رکاوٹوں کا خاتمہ کرنا اور ٹیکنالوجی کا ذمہ دارانہ استعمال ضروری ہے۔
- تمام خطوں میں تجارت اور باعزت روزگار کو مضبوط بنایا جانا چاہیے۔
- قرض، مصنوعی ذہانت اور تجارتی غیر یقینی صورتحال سے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے کے لیے عالمی اور ملکی سطح پر مربوط پالیسیاں درکار ہیں۔