انروا طبی مرکز پر اسرائیلی چھاپہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی، لازارینی
فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (انروا) کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے مشرقی یروشلم میں ادارے کے طبی مرکز پر اسرائیلی فورسز کے چھاپے کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور اقوام متحدہ سے متعلق ذمہ داریوں سے لاپروائی قرار دیا ہے۔
کمشنر جنرل نے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں تصدیق کی ہے کہ یہ مرکز اقوام متحدہ کی تنصیب ہے۔ اسرائیلی حکام نے اسے 30 دن کے لیے بند کرنے کا حکم دیا ہے جس کے نتیجے میں فلسطینی پناہ گزین بنیادی طبی سہولیات سے محروم ہو گئے ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ اس دوران اسرائیل کی جانب سے انروا کی تنصیبات کو پانی اور بجلی کی فراہمی آئندہ ہفتوں میں منقطع کیے جانے کا شیڈول بھی بنایا گیا ہے جن میں طبی مراکز اور تعلیمی اداروں کی عمارتیں بھی شامل ہیں۔
لازارینی کے مطابق، یہ صورت حال دسمبر میں اسرائیلی پارلیمان کی جانب سے منظور کی گئی قانون سازی کا براہ راست نتیجہ ہے جس کے ذریعے 2024 میں منظور کیے گئے انروا مخالف قوانین کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) کے حالیہ فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے مطابق، ریاست اسرائیل بین الاقوامی قانون کے تحت اس بات کی پابند ہے کہ وہ انروا کی سرگرمیوں کو روکنے یا ان میں رکاوٹ ڈالنے کا سبب بننے کے بجائے ان میں سہولت فراہم کرے۔