انسانی کہانیاں عالمی تناظر

سری لنکا: جنسی زیادتیوں کے شکار افراد کو انصاف کی فراہمی نظر انداز، رپورٹ

media:entermedia_image:128bb192-2043-4b7d-9e91-b382942c7575
© UNICEF Sri Lanka/InceptChange
متاثرین کا کہنا ہے کہ جنسی تشدد ایک ایسا عذاب ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔

سری لنکا: جنسی زیادتیوں کے شکار افراد کو انصاف کی فراہمی نظر انداز، رپورٹ

انسانی حقوق

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) نے کہا ہے کہ سری لنکا میں گزشتہ دہائیوں میں طویل عرصہ تک جاری رہنے والے مسلح تنازع میں جنسی تشدد کے متاثرین کو انصاف کی فراہمی کا معاملہ نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

انسانی حقوق دفتر نے اس مسئلے پر 'ہم سب کچھ کھو بیٹھے، انصاف کی امید بھی' کے عنوان سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور جنگی جرائم پر احتساب، اعتراف اور ازالے کی عدم موجودگی نے سزا سے بچ نکلنے کی ایسی روایت کو جنم دیا ہے جو آج بھی متاثرین کی زندگیوں پر اثرانداز ہو رہی ہے۔ سری لنکا کی حکومت کو فوری طور پر اندرون ملک جوابدہی کو آگے بڑھانے کے اپنے وعدوں پر عمل کرنا ہو گا اور اس مسئلے پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے بنیادی اور غیرمعمولی اصلاحات لانا ہوں گی۔

Tweet URL

'او ایچ سی ایچ آر' کے ترجمان جیریمی لارنس نے بتایا ہے کہ اس مسئلے پر 10 سالہ تحقیقاتی عمل کے نتائج، متاثرین، صنفی بنیاد پر تشدد کے مقامی ماہرین، سول سوسائٹی کے ارکان اور دیگر فریقوں سے ہونے والی وسیع تر مشاورت پر مبنی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ 2009 میں ختم ہونے والے مسلح تنازع کے متاثرین میں بہت سے لوگ آج بھی دائمی جسمانی زخموں، بانجھ پن، شدید نفسیاتی دباؤ اور خودکشی کے خیالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ متاثرین اور ان کے نمائندوں نے نگرانی، دھمکیوں اور ہراسانی کے مستقل ماحول کی نشاندہی کی ہے جس کے باعث ایسے واقعات بارے درج کرائی جانے والی اطلاعات نہ ہونے کے برابر ہیں اور مؤثر قانونی چارہ جوئی تقریباً ناپید ہے۔

جنسی تشدد کا دائمی عذاب 

ترجمان نے کہا ہے کہ تنازعات کے دوران جنسی تشدد بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے جو جنگی یا انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آ سکتی ہے۔ متعدد بین الاقوامی معاہدوں اور وعدوں کے تحت سری لنکا قانونی طور پر اس بات کا پابند ہے کہ وہ ایسے جرائم کو روکے، ان کی تحقیقات کرے، ذمہ داروں پر مقدمات چلائے اور متاثرین کو انصاف اور ازالہ فراہم کرے۔

رپورٹ میں اس حقیقت کو بھی واضح کیا گیا ہے کہ عسکریت پسندی اور ہنگامی قانونی ڈھانچوں نے ایسا ماحول پیدا کیا جس میں تنازع کے بعد بھی صنفی بنیاد پر تشدد بشمول جنسی تشدد کی اطلاعات سامنے آتی رہیں۔

متاثرین کی جانب سے بیان کردہ اجتماعی زیادتی، جنسی اعضا کو نقصان پہنچانے، جبراً برہنہ کرنے اور سرعام تذلیل جیسے الزامات نہایت ہولناک ہیں۔ کئی متاثرین کا کہنا ہے کہ جنسی تشدد ایک ایسا عذاب ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔ ان حملوں کا مقصد دیرپا ذہنی صدمہ پہنچانا اور پوری کی پوری برادریوں کو توڑ دینا تھا۔

اعتراف، احتساب اور ازالہ 

رپورٹ میں سری لنکا کی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ریاستی سکیورٹی فورسز اور دیگر عناصر کی جانب سے ماضی میں کیے گئے جنسی تشدد کو فوری اور اعلانیہ تسلیم کرے اور اس حوالے سے باضابطہ معافی جاری کرے۔ سکیورٹی اداروں، عدلیہ اور قانونی نظام میں متاثرین کو مدنظر رکھتے ہوئے اصلاحات نافذ کی جائیں، ایک آزاد استغاثہ دفتر قائم کیا جائے اور متاثرین کو نفسیاتی اور سماجی مدد تک رسائی دی جائے۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے کہا ہے کہ اعتراف حقیقت، سچائی، احتساب اور ازالہ متاثرین کی عزت نفس کی بحالی اور سری لنکا میں مفاہمت اور شفا یابی کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ضروری ہیں۔