ایرانی حکومت جبر کا راج ختم اور عوامی مسائل حل کرے، وولکر ترک
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے کہا ہے کہ انہیں ایران میں مظاہرین کے خلاف سکیورٹی فورسز کے بڑھتے تشدد پر سخت تشویش ہے جہاں اطلاعات کے مطابق اب تک سیکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں گرفتار کیے جا چکے ہیں۔
ہائی کمشنر نے ایرانی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ پرامن مظاہرین کے خلاف ہر طرح کے تشدد اور جبر کو فوری طور پر بند کریں اور انٹرنیٹ سمیت مواصلاتی خدمات تک مکمل رسائی بحال کریں۔
انہوں نے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی پر جوابدہی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرامن مظاہرین کا قتل بند ہونا چاہیے اور انہیں دہشت گرد قرار دے کر ان کے خلاف تشدد کو جائز ٹھہرانا ناقابل قبول ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ 2022 میں بھی ایرانی معاشرے کے وسیع طبقات اپنے ملک کے نظام حکومت میں بنیادی تبدیلیوں کا مطالبہ کرتے ہوئے سڑکوں پر نکلے جن پر تشدد کیا گیا جبکہ اس مرتبہ بھی حکام کا ردعمل یہ ہے کہ جائز مطالبات کو دبانے کے لیے بے رحمانہ طاقت استعمال کی جائے۔
سزائے موت کے اعلان پر تشویش
وولکر ترک نے کہا ہے کہ ہولناک تشدد کا سلسلہ مزید نہیں چل سکتا۔ ایرانی عوام اور ان کے انصاف، مساوات اور عدل کے مطالبات کو سنا جانا چاہیے۔ مظاہرین کے قتل، ان کے خلاف تشدد اور انسانی حقوق کی دیگر تمام پامالیوں کی بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں اور معیارات کے مطابق تحقیقات ہونی چاہئیں اور ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرایا جانا ضروری ہے۔
اطلاعات کے مطابق، ایران میں بہت سے ہسپتال بچوں سمیت زخمیوں کی بڑی تعداد کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ ملک بھر میں انٹرنیٹ اور ٹیلی مواصلاتی رابطے بند ہونے کے باعث ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی درست تعداد کے بارے میں جاننا مشکل ہے۔ اطلاعات کے مطابق، مظاہروں میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی ہلاکت بھی ہوئی ہے۔
وولکر ترک نے کہا ہے کہ عدالتی حکام کی جانب سے مظاہرین کے خلاف تیزرفتار مقدمے چلا کر انہیں موت کی سزا دینے کے بیانات تشویش ناک ہیں۔ ایرانی عوام کو پرامن احتجاج کا حق حاصل ہے اور ان کے تحفظات کو سنا اور دور کیا جانا چاہیے۔