انسانی کہانیاں عالمی تناظر

غزہ: ایسی جنگ بندی بے معنی جس میں بچوں کی ہلاکتیں جاری، یونیسف

مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے ’انروا‘ کے مطابق غزہ میں حالہ جنگ کے دروان 660,000  بچے تعلیم سے محروم ہیں۔
UN News
دو سالہ جنگ نے غزہ کے بچوں کی زندگی کو ناقابل تصور حد تک مشکل بنا دیا ہے۔

غزہ: ایسی جنگ بندی بے معنی جس میں بچوں کی ہلاکتیں جاری، یونیسف

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے بتایا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود غزہ میں فضائی حملوں اور شدید سردی سے اموات کا سلسلہ جاری ہے جہاں اکتوبر کے آغاز سے اب تک 100 سے زیادہ بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔

یونیسف کے ترجمان جیمز ایلڈر نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ ان اعدادوشمار کی رو سے جنگ بندی کے دوران تقریباً روزانہ ایک بچہ ہلاک ہو رہا ہے۔ یہ ہلاکتیں بمباری، ڈرون حملوں، ٹینکوں کی گولہ باری، براہ راست فائرنگ اور ریموٹ کنٹرول کواڈ کاپٹروں کی کارروائیوں کے نتیجے میں ہو رہی ہیں۔

Tweet URL

حالیہ دنوں شدید سرد موسم کے باعث چھ بچے ہائپوتھرمیا سے بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ پناہ گزینوں کے کمزور خیمے 30 تا 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی تند و تیز سرد ہواؤں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ انہیں تحفظ دینے کے لیے پناہ کے مزید سامان کی اشد ضرورت ہے۔ 

طبی بنیاد پر انخلا کی ضرورت 

ترجمان نے کہا ہے کہ جنگ بندی کے باعث بنیادی صحت کی سہولیات فراہم کرنے میں حقیقی پیش رفت ہوئی ہے۔ یونیسف نے اپنے شراکت داروں کے تعاون سے غزہ کے شمالی علاقے میں شفا خانے قائم کیے ہیں اور حفاظتی ٹیکوں کی خدمات کو وسعت دی ہے۔ 

شدید زخمی بچوں کے لیے طبی بنیاد پر علاقے سے انخلا تاحال معطل ہے۔ نہ تو ان بچوں کو غزہ سے باہر لے جانے کے لیے درخواستوں کی منظوری میں اضافہ ہوا ہے اور نہ ہی مزید ممالک کو ان بچوں کو قبول کرنے پر آمادہ کیا جا سکا ہے۔

انہوں نے بتایا ہے کہ اپنے حالیہ دور غزہ کے دوران انہوں نے کئی ایسے بچوں اور خاندانوں سے بات کی جنہیں طویل اور پیچیدہ سرکاری عمل مکمل کرنے کے باوجود طبی انخلا سے محروم رکھا گیا۔ ان میں ایک نو سالہ بچہ بھی شامل ہے جس کی آنکھ میں بم کے ٹکڑے پھنسے ہوئے ہیں اور مناسب علاج میسر نہ آنے پر وہ ایک یا دونوں آنکھوں کی بینائی کھو دے گا۔ غزہ سٹی کے الشفا ہسپتال میں داخل ایک بچی کو بیرون ملک علاج کے لیے نہ بھیجا گیا تو اس کی موت واقع ہو سکتی ہے جبکہ ایک بچے کی جان بچانے کے لیے اس کی ٹانگ کاٹنا ضروری ہے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی حکام کی جانب سے ضابطے کی رکاوٹوں کے باعث ادویات اور خوراک کی ترسیل میں مسلسل تاخیر ہو رہی ہے۔ بعض ضروری طبی اشیا کو اس لیے غزہ لانے کی اجازت نہیں کہ اسرائیلی حکام کے مطابق، انہیں جنگی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ 

امدادی تنظیموں پر پابندی کا خدشہ

یونیسف کے ترجمان نے اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) پر عائد کی جانے والی حالیہ پابندی کے خطرات کی نشاندہی بھی کی ہے جو آئندہ ماہ نافذ ہو جائے گی اور ان کے بقول یہ اقدام لوگوں کو پہنچنے والی ضروری امداد روکے جانے کے مترادف ہو گا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود بین الاقوامی میڈیا کو غزہ میں داخلے کی اجازت نہیں دی جا رہی حالانکہ اس کی اشد ضرورت ہے۔ 

جیمز ایلڈر نے واضح کیا ہے کہ دو سالہ جنگ نے غزہ کے بچوں کی زندگی کو ناقابل تصور حد تک مشکل بنا دیا ہے۔ ان کے نفسیاتی زخموں کا علاج نہیں ہو پا رہا اور یہ صورتحال جس قدر طول پکڑتی جا رہی ہے ان کے نقصان کا مداوا اتنا ہی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔