یوکرین پر روسی حملوں میں تیزی، لاکھوں لوگ بنیادی شہری سہولتوں سے محروم
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا گیا ہے کہ یوکرین نے نئے سال میں ایسے وقت قدم رکھا ہے جب روس کے مہلک حملوں میں اضافہ ہو گیا ہے جن کے نتیجے میں توانائی کے نظام بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور سخت سردی میں لاکھوں لوگ حرارت، بجلی اور پانی سے محروم ہو گئے ہیں۔
قیام امن اور سیاسی امور کے لیے اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل روزمیری ڈی کارلو نے کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ نئے سال کے آغاز پر یوکرین کے لیے نہ تو امن آیا ہے اور نہ ہی جنگ میں کوئی وقفہ ہوا ہے۔ اس کے بجائے لڑائی اور تباہی پہلے سے بھی بڑھ گئی ہے۔
جب درجہ حرارت نقطۂ انجماد سے نیچے گر رہا ہے تو روس نے ملک میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے تیز کر دیے ہیں جس کا سب سے بڑا بوجھ معمر و معذور افراد اور بچوں پر پڑ رہا ہے۔
انہوں نے 8 اور 9 جنوری کی درمیانی شب ہونے والے ایک بڑے حملے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس رات روس نے یوکرین پر 242 ڈرون اور 36 میزائل داغے جن سے دارالحکومت کیئو میں کم از کم چار افراد ہلاک اور 25 زخمی ہوئے جن میں ایک طبی کارکن بھی شامل تھا جو پہلے حملے سے متاثرہ لوگوں کو مدد دینے کے دوران کیے گئے ایک اور حملے میں مارا گیا۔
توانائی کا نظام مفلوج
انڈر سیکرٹری جنرل نے بتایا کہ ان حملوں میں کیئو کا تقریباً نصف حصہ حرارت سے محروم ہو گیا اور لاکھوں شہری متاثر ہوئے۔ پولینڈ کی سرحد کے قریب مغربی لویو میں درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل اوریشنک کے حملے میں توانائی کی تنصیبات اور رہائشی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔ یہ میزائل جوہری وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے جسے قبل ازیں 2024 میں بھی استعمال کیا گیا تھا۔
ان حملوں میں بندرگاہوں اور بحری نقل و حمل پر بھی حملے ہوئے۔ 8 جنوری کو اوڈیسا میں غیر ملکی پرچم بردار بحری جہاز روسی ڈرون حملوں کا نشانہ بنے۔ بعد ازاں بندرگاہ پر ہونے والے دیگر حملوں میں دو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہو گئے جبکہ اتوار کو اوڈیسا پر دوبارہ حملہ ہوا۔
سنگین انسانی بحران
اقوام متحدہ کے امدادی رابطہ دفتر (اوچا) کے ڈائریکٹر رمیش راجاسنگھم نے کونسل کو بتایا کہ بڑے پیمانے پر حملے موسم سرما میں زندہ رہنے کے لیے درکار بنیادی ذرائع کو تباہی کے دہانے پر لے آئے ہیں جبکہ درجۂ حرارت منفی 10 ڈگری سیلسیئس کے قریب گر چکا ہے۔ یہ حملے اس نظام کو مفلوج کر دیتے ہیں جس پر اس موسم میں شہریوں کا انحصار ہوتا ہے۔
کریوی ریہ میں بجلی کی فراہمی طویل وقفوں کے لیے متاثر ہونے کے باعث لوگ برف پگھلا کر پانی حاصل کرنے اور اسے موم بتیوں پر گرم کرنے کے لیے مجبور ہیں۔ لوگوں کو مدد پہنچانے کے لیے کیئو میں امدادی اداروں کی جانب سے 1,200 سے زیادہ مقامات پر حرارت کا خصوصی انتظام کیا گیا ہے۔
امدادی وسائل کی اپیل
یوکرین کے شہری محاذ جنگ کے قریبی علاقوں سے نقل مکانی کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے دونیسک خاص طور پر قابل ذکر ہے جہاں سے آنے والے بہت سے لوگوں کو پناہ، طبی سہولت اور موسم سرما کے لیے امداد درکار ہے جس تک رسائی تاحال محدود ہے۔
اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق، یوکرین میں ایک کروڑ 8 لاکھ افراد کو انسانی امداد کی اشد ضرورت ہے۔ امدادی شراکت دار یوکرین میں رواں سال کی ضروریات پوری کرنےکے لیے کَل 2.31 ارب ڈالر کی امدادی اپیل جاری کریں گے۔ ان وسائل سے 41 لاکھ 20 ہزار افراد کو مدد دی جانا ہے۔
دونوں حکام نے کونسل کے روبرو واضح کیا کہ شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے پر حملے بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہیں اور ناقابل قبول ہیں جنہیں فوراً بند ہونا چاہیے۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات درکار ہیں کہ انسانی امداد بروقت ضرورت مند لوگوں تک پہنچتی رہے۔