انسانی کہانیاں عالمی تناظر

’روہنگیا نسل کشی‘: آئی سی جے میں میانمار کے خلاف مقدمے کی سماعت شروع

دی ہیگ میں بین الاقوامی عدالت انصاف کے کمرہ عدالت کا اندرونی حصہ، بینچ کے ججوں اور حاضرین کے ساتھ۔
ICJ-CIJ/ Frank van Beek ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں عالمی عدالت انصاف میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران لی گئی تصویر۔

’روہنگیا نسل کشی‘: آئی سی جے میں میانمار کے خلاف مقدمے کی سماعت شروع

جرائم کی روک تھام اور قانون

عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) میانمار کے خلاف انسداد نسل کشی کنونشن کے اطلاق سے متعلق گیمبیا کے مقدمے کی آج کھلی سماعت شروع کر رہی ہے جو 29 جنوری تک جاری رہے گی۔ یہ مقدمہ میانمار میں روہنگیا اقلیت کے خلاف فوجی حکومت کی کارروائی کے تناظر میں دائر کیا گیا ہے۔

افریقی ملک گیمبیا نے 11 نومبر 2019 کو میانمار کے خلاف 1948 کے نسل کشی کنونشن کی مبینہ خلاف ورزی کے الزام میں درخواست دائر کی تھی۔

اس میں عدالت سے دیگر کے علاوہ یہ استدعا کی کہ وہ میانمار کو اس کنونشن کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے اسے تمام غلط افعال روکنے، نسل کشی کا شکار ہونے والےروہنگیا متاثرین کے مفاد میں ان کے نقصان کی تلافی سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے اور مستقبل میں ایسے واقعات کا اعادہ نہ کرنے کی یقین دہانی کرانے کا پابند کرے۔ 

عدالتی دستور کے آرٹیکل 63 کے تحت کینیڈا، ڈنمارک، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز اور برطانیہ (مشترکہ طور پر)، مالدیپ، سلووینیہ، جمہوریہ کانگو، بیلجیئم اور آئرلینڈ کی جانب سے اس دعوے کی حمایت کے اعلانات کیے گئے جنہیں عدالت نے قابل قبول قرار دیا۔ 

نسل کشی پر اہم ترین مقدمہ 

یہ مقدمہ قانونی اعتبار سے صرف میانمار کی صورت حال تک محدود نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ وسیع اہمیت رکھتا ہے۔

یہ معاملہ انسداد نسل کشی کنونشن کی اب تک کی سب سے اہم تشریحات میں سے ایک ہو گا۔ اس میں عدالت سے یہ وضاحت بھی طلب کی گئی ہے کہ ریاستوں کی ذمہ داریاں بالخصوص نسل کشی کے واقعات پیش آنے کے بعد مجرموں کو سزا دینے سے ہٹ کر ایسے واقعات کو روکنے کی ذمہ داری عملی طور پر کیا معنی رکھتی ہے۔ 

اس مقدمے میں عدالت کا فیصلہ اس بات کا تعین کرے گا کہ یہ کنونشن عالمی سطح پر کیسے لاگو ہو گا اور اس کے اثرات صرف میانمار تک محدود نہیں رہیں گے۔

'آئی سی جے' اس وقت نسل کشی کنونشن کے اطلاق سے متعلق چار مقدمات کی سماعت کر رہی ہے جن میں گیمبیا بنام میانمار کے علاوہ جنوبی افریقہ بنام اسرائیل، یوکرین بنام روس، اور سوڈان بنام متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔

ان تمام مقدمات میں عدالت کے دائرہ اختیار کی بنیاد نسل کشی کنونشن کو بنایا گیا ہے۔