انسانی کہانیاں عالمی تناظر

پاکستان: جانیے پناہ گزینوں کی یو این ہیلپ لائن پر آپریٹر سمیہ کے کام بارے

پاکستان میں یو این ایچ سی آر کی ہیلپ لائن ٹیم، جہاں کثیر لسانی عملہ پناہ گزینوں اور پناہ گزینوں، بشمول بچوں والی خواتین اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنے والی بیواؤں کو مدد فراہم کرتا ہے۔
© UNHCR/Hyejin Lee
سمیہ یو این ایچ سی آر ہیلپ لائن پر اپنے کام میں مصروف۔

پاکستان: جانیے پناہ گزینوں کی یو این ہیلپ لائن پر آپریٹر سمیہ کے کام بارے

مہاجرین اور پناہ گزین

سمیہ پاکستان میں پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) میں ہیلپ لائن کی ایک محنتی نمائندہ ہیں۔ وہ روزانہ پناہ گزینوں اور پناہ کے متلاشی افراد کی براہ راست بات سنتی ہیں اور انہیں درپیش مشکل ترین لمحات میں ان کی مدد کرتی ہیں۔

کمپیوٹر مانیٹر اور ہیڈ سیٹ جیسے آلات سے بھرے کمرے میں سمیہ اپنے 40 ساتھیوں پر مشتمل ایک کثیر لسانی ٹیم کے ساتھ کام کرتی ہیں جو پشتو، دری، فارسی، عربی، اردو اور انگریزی زبانیں جانتے ہیں۔

یہ تمام ساتھی ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر اپنا کام کرتے ہیں اور  ہر ہیڈ سیٹ انہیں کئی طرح کی زندگی، مختلف النوع کے خدشات اور کئی کہانیوں سے جوڑتا ہے۔ دیگر ساتھیوں کی طرح سمیہ کو عام طور پر روزانہ 30 سے 40 فون کال موصول ہوتی ہیں لیکن مصروف ایام میں یہ تعداد 60 تک بھی پہنچ جاتی ہے۔

کال کرنے والوں میں بہت سی ایسی خواتین بھی ہوتی ہیں جن کے گھر میں کوئی مرد نہیں ہوتا۔ ان میں چھوٹے بچوں کی مائیں اور ایسی بیوہ یا اکیلی خواتین بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی پاکستان میں گزاری ہے مگر اب انہیں خدشہ ہے کہ سب کچھ اچانک بدل جائے گا۔ وہ تکلیف دہ سوالات پوچھتی ہیں کہ 'ہمارا کیا بنے گا؟، کیا ہمیں واپس بھیج دیا جائے گا؟، ہم واپس نہیں جانا چاہتے، افغانستان میں کیسے رہیں گے؟'۔

افغانستان میں یو این ایچ سی آر کا عملہ اور اس کے شراکت دار پاکستان کے ساتھ ننگرہار اور قندھار کی سرحدی گزرگاہوں پر آنے والے لوگوں کی مدد میں مصروف ہیں۔
© UNHCR/Caroline Gluck
افغانستان میں یو این ایچ سی آر کا عملہ اور اس کے شراکت دار پاکستان کے ساتھ ننگرہار اور قندھار کی سرحدی گزرگاہوں پر آنے والے لوگوں کی مدد میں مصروف ہیں (فائل فوٹو)۔

مایوسی میں امید کی کرن

سمیہ لوگوں کو 'یو این ایچ سی آر' کی متعلقہ خدمات کے بارے میں بتاتی ہیں، رہنمائی دیتی ہیں اور عملی معلومات فراہم کرتی ہیں۔ لیکن انہیں سب سے زیادہ دکھ تب ہوتا ہے جب وہ انہیں بہتری کی یقین دہانی نہیں کرا سکتیں۔ وہ ایک اکیلی ماں کی کال یاد کرتی ہیں جو روتے ہوئے بتا رہی تھیں کہ ان کا گھر توڑ دیا گیا ہے اور کوئی پڑوسی انہیں اور ان کے بچوں کو پناہ نہیں دے رہا تھا۔ ایسے وقت میں سمیہ بس لائن پر رہتی ہیں، تاکہ ان سے بات کرنے والا فرد اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر سکے اور کچھ دیر سکون لے سکے۔

وہ کہتی ہیں، ان لوگوں کا دکھ محسوس کیے بغیر رہنا بہت مشکل ہے۔ آپ بے حس نہیں ہو سکتے کیونکہ آپ انہی کی زبان بولتے ہیں، ان کی ثقافت کو سمجھتے ہیں اور انہی کی طرح زندگی گزارتے ہیں۔ ان کا خوف آپ کا اپنا خوف بن جاتا ہے۔

کچھ دن کام کے بعد خود کو بہت تھکا ہوا اور بے بس محسوس کرتی ہیں مگر پھر بھی ہر صبح دوبارہ مدد کے لیے صف اول میں واپس آ جاتی ہیں۔

ہیلپ لائن کی اہمیت 

2023 کے بعد پاکستانی حکومت کے غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی کے منصوبے (آئی ایف آر پی) کے تحت دس لاکھ سے زیادہ افغان اپنے ملک واپس لوٹ چکے ہیں۔ ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جو برسوں سے پاکستان میں رہ رہے تھے اور اسے اپنا گھر سمجھتے تھے۔ اب شدید انسانی بحران سے دوچار ملک میں واپس جانا ان کے لیے بہت مشکل ہے۔

پاکستان میں پناہ گزینوں اور پناہ کے متلاشی افراد کی نقل وحرکت پر مزید پابندیاں لگا دی گئی ہیں۔ خصوصاً، دارالحکومت اسلام آباد کے قریب رہنے والے افراد اب 'یو این ایچ سی آر' کے دفاتر یا شراکت دار اداروں تک آسانی سے رسائی حاصل نہیں کر سکتے۔ تاہم یورپی یونین اور دیگر عطیہ دہندگان کی امدادی مالی معاونت کی بدولت ہیلپ لائن کے ذریعے مدد کا سلسلہ جاری ہے۔

پاکستان میں پناہ لیے افغان خاندان واپسی کے سفر پر روانہ ہو رہے ہیں۔
© UNHCR/Caroline Gluck
پاکستان میں پناہ لیے افغان خاندان واپسی کے سفر پر روانہ ہو رہے ہیں۔

تسلی، معلومات اور تحفظ 

بہت سے لوگ ہیلپ لائن پر کال کر کے ضروری معلومات لیتے ہیں تاکہ جھوٹی خبروں یا غلط وعدوں جیسا کہ ملک بدر ہونے کی افواہوں یا پیسے کے بدلے دوبارہ آباد ہونے کے وعدوں کی تصدیق کر سکیں۔ یہ ہیلپ لائن ان کے لیے بہت اہم مدد بن گئی ہے۔

سمیہ کہتی ہیں کہ یہ ہیلپ لائن ان لوگوں کو تحفظ دیتی ہے۔ اگر یہ نہ ہوتی تو بہت سے لوگ دھوکہ کھاتے، غلط معلومات پاتے یا بلا وجہ ڈر جاتے۔

جن لوگوں کے لیے اپنے گھروں سے باہر نکلنا ممکن نہیں، ان کے لیے ہیلپ لائن اکثر صحیح معلومات کا واحد ذریعہ ہوتی ہے۔ یہ انہیں خوف سے بھی نجات دیتی ہے۔ سمیہ بہت سی تکلیف دہ فون کال سن چکی ہیں لیکن ایک کال کو یاد کر کے وہ خود کو مضبوط محسوس کرنے لگتی ہیں۔ 

ایک معمر افغان خاتون نے ایک مرتبہ صرف شکریہ ادا کرنے کے لیے یہ کال کی تھی۔ وہ بالکل اکیلی تھیں۔ انہیں 'یو این ایچ سی آر' کی جانب سے نقد امداد ملی تھی اور وہ چاہتی تھیں کہ ہیلپ لائن کو علم ہو کہ یہ ان کے لیے کس قدر اہم تھی۔

سمیہ بتاتی ہیں کہ اس خاتون کا نہ کوئی خاندان تھا، نہ سہارا اور نہ کوئی حفاظتی نظام اس کے لیے موجود تھا۔ وہ بالکل اکیلی رہتی ہیں۔ ان کی عمر تقریباً 55 برس تھیں، لیکن آواز سے وہ معمر محسوس ہوتی تھیں۔ سمیہ کا کہنا ہے کہ ان کی بات سن کر انہیں محسوس ہوا کہ ان کا کام واقعی اہمیت رکھتا ہے۔

ایک دروازے پر ایک رنگارنگ دیوار کی پینٹنگ ہے جس میں پاکستان میں یو این ایچ سی آر کے آنے والوں کا استقبال کیا گیا ہے۔ اس میں طوطے، پھول اور روایتی ڈیزائن کے عناصر دکھائے گئے ہیں۔
© UNHCR/Hyejin Lee
پاکستان میں یو این ایچ سی آر کے دفتر کے باہر سمیہ کا بنایا ہوا میورل (دیوار گیر فن پارہ)۔

فن کی زبان

2020 میں وبا کے دوران جب دنیا تھم سی گئی تو سمیہ نے 'یو این ایچ سی آر' کے دفتر میں مصوری شروع کی اور فن کے ذریعے امید کا اظہار کیا۔ ان کے دفتر کے داخلی دروازے پر ایک سادہ خیال سے شروع ہونے والا مصوری کا ایک بڑا تخلیقی منصوبہ بن گیا۔ انہوں نے دیواروں پر رنگین وال آرٹ اور ٹرک آرٹ کے ڈیزائن بنائے۔

سمیہ کہتی ہیں کہ فن ان کی محبت کی زبان ہے ۔ فن کے ذریعے وہ دکھاتی ہیں کہ وہ اس جگہ موجود تھیں اور انہیں لوگوں کی پروا تھی۔ یہ لوگوں کی مدد اور انہیں خوش کرنے کا طریقہ بھی ہے۔

وہ ہنستی اور کہتی ہیں کہ انہیں فکر لاحق ہے کہ ان کی تخلیقی صلاحیت مدھم ہو رہی ہے، لیکن ان کی آواز میں سچائی محسوس ہوتی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی تخلیقی صلاحیت ختم نہیں ہوئی بلکہ روزانہ کام کے دباؤ میں کچھ دیر کے لیے ماند پڑ گئی ہے۔

سمیہ کا کام بیشتر لوگوں کو دکھائی نہیں دیتا کیونکہ یہ فون کے پیچھے ہوتا ہے۔ لیکن ان کی آواز کے ذریعے، سیکڑوں پناہ گزین اور پناہ کے متلاشی وضاحت، تحفظ، یا کم از کم کسی ایسے شخص کو پا لیتے ہیں جو انہیں سنتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ہیلپ لائن بہت سے پناہ گزینوں کا واحد سہارہ ہے اور وہ خود اس سہارے کا ایک ذریعہ ہیں۔

نوٹ: یہ فیچر پہلے انگلش میں یہاں شائع ہوا تھا جس کا اردو ترجمہ عبداللہ زاہد نے کیا ہے۔