ایران: مظاہرین کو بیجا تشدد کا نشانہ بنانے پر یو این چیف کو تشویش
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے ایران کے مختلف علاقوں میں احتجاج کرنے والے شہریوں کے خلاف حکام کی جانب سے تشدد اور طاقت کے بے جا استعمال کی اطلاعات پر سخت تشویش اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔
سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کے تمام شہریوں کو یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ اپنے مطالبات اور شکایات کا پرامن طریقے سے اور کسی خوف کے بغیر اظہار کر سکیں۔
بین الاقوامی قانون کے مطابق، اظہار رائے، تنظیم سازی اور پرامن اجتماع کی آزادی کے حقوق کا مکمل احترام اور تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔
سیکرٹری جنرل نے ایرانی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ انتہائی ضبط و تحمل کا مظاہرہ کریں، طاقت کے غیر ضروری یا غیر متناسب استعمال سے گریز کریں اور ملک میں معلومات تک رسائی کو ممکن بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں جن میں مواصلاتی سہولیات کی بحالی بھی شامل ہے۔
جبر، ہلاکتیں اور آتشزنی
28 دسمبر کو ایران کی قومی کرنسی کے اچانک انہدام سے شروع ہونے والا احتجاج اب کم از کم 46 شہروں تک پھیل چکا ہے۔ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران مظاہرین پر بڑھتے تشدد کی اطلاعات ہیں جبکہ انٹرنیٹ بند کر دیا گیا ہے اور 8 جنوری کی شام سے مکمل مواصلاتی بلیک آؤٹ نافذ کیا جا چکا ہے۔
ایران کی صورتحال پر غیرجانبدار بین الاقوامی تحقیقاتی مشن کو موصول ہونے والی شہادتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ کی۔ ویڈیوز میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ بعض افراد نے عمارتوں اور گاڑیوں کو آگ لگائی۔
7 جنوری تک، قم، یاسوج، کرمان شاہ، ایلام اور لرستان سمیت ایران کے مختلف صوبوں میں 40 سے زیادہ لوگوں کے ہلاک ہونے کی اطلاع موصول ہوئی تھی جن میں پانچ بچے بھی شامل ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کے مطابق، مظاہرین کے تشدد سے سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی ہلاکت بھی ہوئی ہے۔