انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ایران سے مظاہرین پر مظالم بند اور انٹرنیٹ بحال کرنے کا مطالبہ

ایران کے دارالحکومت تہران کا ایک منظر۔
Unsplash/Anita Filabi
ایران کے دارالحکومت تہران کا ایک منظر۔

ایران سے مظاہرین پر مظالم بند اور انٹرنیٹ بحال کرنے کا مطالبہ

انسانی حقوق

ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال پر آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی مشن نے ملک کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک گیر احتجاج کے خلاف پرتشدد کریک ڈاؤن کو ختم کرے اور مواصلاتی رابطے بحال کیے جائیں۔

مشن نے ملکی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ احتجاج کرنے والے شہریوں کے خلاف طاقت کے غیر ضروری اور غیر متناسب استعمال سے باز رہیں اور احتجاج سے نمٹنے کے اقدامات میں انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کی پاسداری یقینی بنائیں ۔

مشن نے ایسی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے جن کے مطابق، ملک کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی جانب سے سکیورٹی فورسز کو مظاہروں کا خاتمہ کرنے کے لیے فیصلہ کن کریک ڈاؤن کی ہدایت دی گئی ہے۔ 

28 دسمبر کو ایران کی قومی کرنسی کے اچانک انہدام سے شروع ہونے والا احتجاج اب کم از کم 46 شہروں تک پھیل چکا ہے۔ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران مظاہرین پر بڑھتے تشدد کی اطلاعات ہیں جبکہ انٹرنیٹ بند کر دیا گیا ہے اور 8 جنوری کی شام سے مکمل مواصلاتی بلیک آؤٹ نافذ کیا جا چکا ہے۔

40 ہلاکتوں کی اطلاع 

مشن نے ایرانی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ پرامن اجتماع اور اظہاررائے کی آزادی کے حقوق کا احترام کریں اور ان تمام لوگوں کو غیرمشروط رہا کریں جنہیں اپنے آئینی اور قانونی حقوق کے تحت احتجاج کرنے کی وجہ سے ناجائز حراست میں لیا گیا ہے۔

یہ مشن آزاد ذرائع سے حاصل شدہ مواد، بشمول ویڈیو فوٹیج اور تصاویر کا جائزہ لے رہا ہے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ کی۔ ویڈیوز میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ بعض افراد نے سڑکوں پر عمارتوں اور گاڑیوں کو آگ لگائی۔

7 جنوری تک، قم، یاسوج، کرمان شاہ، ایلام اور لرستان سمیت ایران کے مختلف صوبوں میں 40 سے زیادہ لوگوں کے ہلاک ہونے کی اطلاع موصول ہوئی تھی جن میں پانچ بچے بھی شامل ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کے مطابق، مظاہرین کے تشدد سے سکیورٹی فورسز کے چند اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

طاقت کا بے رحمانہ استعمال

مشن نے نسلی اقلیتی علاقوں بالخصوص لرستان اور ایلام میں طاقت کے بے رحمانہ استعمال کی اطلاعات کے بارے میں بھی بتایا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، ان صوبوں میں ریاستی ردعمل خاص طور پر بے رحمانہ تھا۔ لرستان میں کم از کم آٹھ مظاہرین اور ایلام میں پانچ افراد ہلاک ہوئے۔

4 جنوری کو ایک واقعے میں مبینہ طور پر سکیورٹی فورسز نے ایلام کے امام خمینی ہسپتال پر چھاپہ مارا، آنسو گیس کا استعمال کیا اور مریضوں اور طبی عملے کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ اطلاعات کے مطابق، اس موقع پر سیکڑوں مظاہرین اور راہگیروں کو حراست میں لیا گیا جن میں کم از کم 113 بچے شامل ہیں۔

ملکی میڈیا نے حراستی مراکز سے کم از کم 40 افراد کے 'اعترافات' نشر کیے ہیں جن میں ایک 16 سالہ لڑکی بھی شامل ہے جس سے انصاف کے تقاضوں اور زیرحراست افراد کے ساتھ سلوک کے حوالے سے سنگین خدشات نے جنم لیا ہے۔

مشن نے کہا ہے کہ ایرانی خواتین، مردوں اور بچوں کو تحفظ، وقار اور اپنے تمام حقوق کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ احتجاج کے تناظر میں کسی تیسرے ملک کی جانب سے یکطرفہ فوجی مداخلت کی دھمکیاں یا اقدامات بین الاقوامی قانون کے منافی ہیں۔