شام: حلب میں متحارب فریقین کے درمیان جاری جھڑپوں پر یو این کو تشویش
اقوام متحدہ نے شام کے شہر حلب میں جاری جھڑپوں، ان میں مزید شدت آنے کے خدشے اور اس کے عام شہریوں پر اثرات کے حوالے سے سخت تشویش کا اعادہ کیا ہے۔
ادارے کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے نیویارک میں معمول کی پریس بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ ملک میں تشدد کو کم کرنے کی کوششوں کے باوجود ایسے واقعات سے مستقبل کے بارے میں خدشات جنم لے رہے ہیں۔ بین الاقوامی قانون کے تحت تمام فریقین ہر طرح کے حالات میں شہریوں اور بنیادی شہری ڈھانچے کو تحفظ دینے کے پابند ہیں۔
انہوں نے شام میں تنازعات کے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ مزید کشیدگی سے گریز کریں، ضبط و تحمل کا مظاہرہ کریں اور عام شہریوں کا مزید نقصان روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کو یقینی بنائیں۔
معاہدہ پر عملدرآمد
ترجمان نے اقوام متحدہ کی جانب سے اس اپیل کو بھی دہرایا ہے کہ تمام فریق حقیقی لچک اور نیک نیتی کا مظاہرہ کریں اور گزشتہ سال 10 مارچ کو حکومت اور شامی جمہوری فورسز کے درمیان ہونے والے معاہدے پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر مذاکرات کی جانب واپس آئیں۔
اقوام متحدہ کے امدادی رابطہ دفتر (اوچا) نے ملک میں امدادی صورتحال کے بارے میں بتایا ہے کہ حلب کے بعض علاقوں میں سلامتی کے بگڑتے ہوئے حالات کے باعث اہم سڑکوں تک رسائی متاثر ہوئی ہے جس سے امدادی سرگرمیوں میں خلل آیا ہے اور ضروری انسانی امداد کی فراہمی محدود ہو گئی ہے۔
اقوام متحدہ ملک میں متعلقہ فریقین کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ امداد کی فراہمی کا سلسلہ جاری رکھا جا سکے۔