ایران: پرامن مظاہرین پر حکومتی جبر تشویشناک، وولکر ترک
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے ایران میں گزشتہ 13 یوم کے دوران ملک گیر احتجاجی مظاہروں میں تشدد کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ہائی کمشنر نےکہا ہے کہ بین الاقوامی قانون میں تسلیم شدہ پرامن احتجاج کا حق ہر صورت محفوظ رکھا جانا چاہیے۔ مظاہرین کی ہلاکتوں اور بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کی اطلاعات پر آزادانہ اور شفاف تحقیقات ضروری ہیں اور کسی بھی خلاف ورزی کے ذمہ داروں کو بین الاقوامی اصولوں اور معیارات کے مطابق جوابدہ ٹھہرایا جانا لازم ہے۔
دسمبر 2025 کے آخری ایام میں ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی بحران کے باعث دارالحکومت تہران میں بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ یہ احتجاج تاحال جاری ہے جس میں عوام کے خلاف سکیورٹی فورسز کی جانب سے طاقت کے استعمال پر تشویش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، اب تک تقریباً 50 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور سیکڑوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
اطلاعات پر پابندی
متعدد عالمی ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے کہ جمعرات کی رات سے ایران میں ملک بھر میں انٹرنیٹ اور مواصلاتی نظام معطل کر دیا گیا ہے اور آج ملک میں خبروں کی ترسیل تقریباً مکمل طور پر بند رہی۔
وولکر ترک نے کہا ہے کہ انہیں ملک بھر میں مواصلاتی نظام بند ہونے کی خبروں پر سخت تشویش ہے۔ ایسے اقدامات آزادی اظہار اور معلومات تک رسائی کو نقصان پہنچاتے ہیں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کی تفصیلات جمع کرنے والوں کے کام اور ضروری و ہنگامی خدمات تک عوام کی رسائی کو بھی متاثر کرتے ہیں۔
ہائی کمشنر کا کہنا ہے، ایران کی حکومت کا یہ بیان ان کے مدنظر ہے کہ عوام کے تحفظات کو فوری طور پر دور کیا جانا چاہیے۔ انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کے مطابق، بنیادی مسائل کو جامع اور بامعنی مکالمے کے ذریعے حل کرنا مزید کشیدگی کو روکنے کے لیے ناگزیر ہے۔
پرامن احتجاج کا حق
1948 میں عالمگیر اعلامیہ برائے انسانی حقوق (یو ڈی ایچ آر) منظور کیا گیا تو عالمی برادری نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ ہر شخص کو پرامن اجتماع اور انجمن سازی کی آزادی کا حق حاصل ہے۔
بین الاقوامی عہدنامہ برائے شہری و سیاسی حقوق (آئی سی سی پی آر) بھی آرٹیکل 21 کے تحت پرامن اجتماع کے حق کو تسلیم کرتا ہے۔
اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے کہا ہے کہ پرامن احتجاج ایک بنیادی انسانی حق ہے جسے طاقت کے زور پر کچلا نہیں جانا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ ایران میں اقوام متحدہ کا عملہ محفوظ ہے۔