انسانی کہانیاں عالمی تناظر

شام: کیمیائی ہتھیاروں کے خاتمہ پر پیش رفت جاری، او ڈی اے

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شام کی صورتحال پر تبادلہ خیال کے بارے میں ایک وسیع نظریہ، جس میں نمائندے ایک بڑی سرکلر میز کے گرد بیٹھے تھے۔
UN Photo/Evan Schneider شام کی صورتحال پر سلامتی کونسل کا اجلاس جمعرات کو ہوا۔

شام: کیمیائی ہتھیاروں کے خاتمہ پر پیش رفت جاری، او ڈی اے

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا گیا ہے کہ شام میں سابق اسد حکومت کے دور میں تیار کیے گئے کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام کی باقیات کے خاتمے کی جانب مسلسل پیش رفت ہو رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے امور تخفیف اسلحہ (او ڈی اے) کے قائمقام سربراہ ادیدیجی ایبو نے کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے نئی شامی حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت کی تنظیم (او پی سی ڈبلیو) کے ساتھ تعاون کے عزم کا خیرمقدم کیا ہے جو اقوام متحدہ کا شراکت دار ادارہ ہے۔ انہوں نے شام اور ادارے کے درمیان جاری رابطوں کے بارے میں کونسل کو تازہ ترین تفصیلات سے آگاہ کیا۔ 

ایک دہائی سے زیادہ عرصہ قبل دمشق کے نواحی علاقوں میں سیرین اعصابی گیس کے حملے میں سیکڑوں افراد کی ہلاکت کے بعد سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر قرارداد 2118 (2013) منظور کی تھی جس میں 'او پی سی ڈبلیو' کے وضع کردہ طریقہ کار کے تحت شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام کو تیزی سے تباہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

وضاحت کی کوششیں

ادیدجی ایبو نے یاد دلایا کہ 2014 کے بعد 'او پی سی ڈبلیو' کا تکنیکی سیکرٹریٹ اس بات کی تصدیق نہیں کر سکا تھا کہ سابق کیمیائی ہتھیاروں کی غیرموجودگی کے حوالے سے سابق شامی حکومت کی جانب سے جمع کرایا گیا اعلامیہ درست اور مکمل تھا کیونکہ اس میں ناکافی اور غلط معلومات شامل تھیں۔

ماہرین کو تشویش تھی کہ کیمیائی اسلحے کی بڑی مقدار یا تو ظاہر نہیں کی گئی یا اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ اب نئی شامی حکومت ادارے کے تکنیکی سیکرٹریٹ کے ساتھ مل کر اس پروگرام کی مکمل نوعیت اور وسعت سے متعلق وضاحتیں حاصل کرنے پر کام کر رہی ہے۔

'او پی سی ڈبلیو' 1992 کے اس عالمی معاہدے کے نفاذ کی نگرانی کرتا ہے جس کا مقصد تباہی پھیلانے والے تمام کیمیائی ہتھیاروں کا مکمل خاتمہ کرنا ہے۔

کیمیائی ہتھیاروں کی تنصیبات کا دورہ

سیکرٹریٹ کی تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شام میں اعلان کردہ کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق 26 مقامات کے علاوہ، موصولہ معلومات کے مطابق، مزید 100 سے زیادہ مقامات مبینہ طور پر سابق حکومت کی کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق سرگرمیوں میں استعمال ہوتے رہے ہیں۔

سلامتی اور دیگر عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے ان تمام مقامات کے دورے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔

گزشتہ مارچ سے اب تک تحقیقاتی ٹیموں نے 19 مقامات کا دورہ کیا ہے جن میں سے چار پہلے سے اعلان شدہ تھے۔ اس کے علاوہ کیمیائی ہتھیاروں کے ماہرین سے انٹرویوز کیے گئے، چھ نمونے حاصل کیے گئے اور 6,000 سے زیادہ دستاویزات جمع کی گئیں۔

اس حوالے سے مزید مشن بھیجنے کی منصوبہ بندی جاری ہے جن میں ساحلی اور شمالی علاقوں خصوصاً لاذقیہ کے قریب واقع مقامات کا دورہ بھی شامل ہو سکتا ہے۔

بین الاقوامی تعاون کی ضرورت

ادیدجی ایبو نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ مستقبل میں بڑے مسائل درپیش ہیں اور شام کو کیمیائی ہتھیاروں سے مکمل طور پر پاک کرنے کے لیے عالمی برادری کی مسلسل اور بھرپور حمایت ناگزیر ہو گی۔

ان کا کہنا تھا شام کی نئی حکومت کی جانب سے 'او پی سی ڈبلیو' کے ساتھ مکمل اور شفاف تعاون کا عزم نہ صرف خوش آئند بلکہ قابل ستائش بھی ہے۔ یہ شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام کی مکمل نوعیت اور وسعت سے متعلق طویل عرصہ سے درکار وضاحتیں حاصل کرنے اور ملک کو تمام کیمیائی ہتھیاروں سے پاک کرنے کا نہایت اہم موقع ہے۔

انہوں نے سلامتی کونسل کے ارکان پر زور دیا کہ وہ متحد ہو کر قیادت کا مظاہرہ کریں اور اس بے مثال کوشش کے لیے بھرپور تعاون مہیا کریں۔